برقعے پر تنقید کرنے والی بنگلا دیشی خاتون کو اے آر رحمن کی بیٹی کا کرارا جواب

بھارتی گلوکار اے آر حمن کی بیٹی خدیجہ رحمن نے برقعے پر تنقید کرنے والی بنگلادیشی خاتون رائٹر تسلیمہ نسرین کو ٹھوس اور واضح دلیلوں کیساتھ کرارا جواب دیا

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق بھارتی گلوکار اے آر حمٰن کی بیٹی خدیجہ رحمٰن نے برقعے پر تنقید کرنے والی بنگلا دیشی خاتون رائٹر تسلیمہ نسرین کو ٹھوس اور واضح دلیلوں کیساتھ کرارا جواب دیا

بنگلادیشی رائٹر تسلیمہ نسرین نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر بھارتی معروف گلوکار اے آر رحمن کی بیٹی خدیجہ رحمن کی ایک تصویر شیئر کی تھی جس میں انہوں نے برقع اور حجاب پہنا ہوا تھا

بنگلہ دیشی رائٹرز نے لکھا تھا کہ مجھے اے آر رحمن کی گلوکاری پسند ہے لیکن میں جب بھی ان کی بیٹی کو دیکھتی ہوں تو میرا دم گھٹنے لگتا ہے اس نے مزید لکھا کہ یہ بہت افسوس کی بات ہے کہ ایک ثقافتی گھرانے میں پرورش پانے والی پڑھی لکھی خاتون کا بھی آسانی سے برین واش ہوسکتا ہے

View this post on Instagram

Been only a year and this topic is in the rounds again..there’s so much happening in the country and all people are concerned about is the piece of attire a woman wants to wear. Wow, I’m quite startled. Every time this topic comes the fire in me rages and makes me want to say a lot of things..Over the last one year, I’ve found a different version of myself which I haven’t seen in so many years. I will not be weak or regret the choices I’ve made in life. I am happy and proud of what I do and thanks to those who have accepted me the way I am. My work will speak, God willing.. I don’t wish to say any further. To those of you who feel why I’m even bringing this up and explaining myself, sadly it so happens and one has to speak for oneself, that’s why I’m doing it. 🙂. Dear Taslima Nasreen, I’m sorry you feel suffocated by my attire. Please get some fresh air, cause I don’t feel suffocated rather I’m proud and empowered for what I stand for. I suggest you google up what true feminism means because it isn’t bashing other women down nor bringing their fathers into the issue 🙂 I also don’t recall sending my photos to you for your perusal 🙂

A post shared by 786 Khatija Rahman (@khatija.rahman) on


بعد ازاں تسلیمہ نسرین کے اس ٹوئٹ پر خدیجہ رحمن نے انسٹاگرام پر اپنی حجاب میں تصویر شیئر کرتے ہوئے ایک طویل کیپشن لکھا انہوں نے لکھا کہ صرف ایک سال رہا ہے اور یہ موضوع دوبارہ گردش کرنے لگ گیا ہے بھارت میں اس وقت بہت کچھ ہورہا ہے لیکن پھر بھی سب لوگ اس بات کے لیے فکر مند ہیں کہ عورت کو کیا لباس پہننا چاہیے اور یہ دیکھ کر میں بہت حیران ہوتی ہوں میں جب بار بار یہ موضوع سنتی ہوں تو میرے اندر ایک آگ بھڑک اٹھتی ہے

خدیجہ نے لکھا کہ میں بہت ساری باتیں کہنا چاہتی ہوں گزشتہ ایک سال میں مجھے اپنا جو ایک مختلف مقصد ملا ہے وہ اس سے پہلے کبھی نہیں ملا تھا میں کمزور نہیں ہوں اور نہ ہی میں اپنی اس زندگی کے انتخاب پر مایوس ہوں بلکہ میں اپنی اس زندگی پر بہت خوش ہوں اور مجھے برقع اور حجاب پہننے پر فخر ہے

انہوں نے لکھا میں مزید کچھ کہنا نہیں چاہتی آپ میں سے جو لوگ محسوس کرتے ہیں کہ میں یہاں سب کے سامنے کیوں اپنی وضاحت دے رہی ہوں تو افسوس کی بات یہ ہے کہ ایسا ہوتا ہے اور ہر کسی کو اپنے لئے بات کرنا ہوگی اسی لئے میں یہ کر رہی ہوں

خدیجہ رحمن نے بنگلادیشی رائٹر کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا کہ محترمہ تسلیمہ نسرین! مجھے افسوس ہو رہا ہے کہ آپ اپنے ہی لباس کی وجہ سے گھٹن محسوس کر رہی ہیں آپ کو کچھ تازہ ہوا لینے کی ضرورت ہے

خدیجہ رحمن نے لکھا کہ مجھے برقع پہننے سے کوئی گھٹن محسوس نہیں ہوتی ہے بلکہ مجھے فخر محسوس ہوتا ہے اورمیں اپنے فیصلے پر قائم ہوں

سوارا بھاسکر نے مودی سرکار کومسلم دشمن پالیسیوں پر آڑے ہاتھوں لیا


انہوں نے لکھا کہ تسلیمہ نسرین میرا آپ کو مشورہ ہے کہ ایک بار آپ بھی گوگل پر سرچ کریں کہ اصل میں فیمینیزم کیا ہے میرے والد کو اس معاملے پر گھسیٹنا درست نہیں اور نہ میں نے اپنی تصویر آپ کو تبصرے کے لیے بھیجی تھی

واضح رہے کہ گزشتہ برس بھی خدیجہ رحمان کے پردہ کرنے پر اعتراضات اٹھانے والوں کو موسیقار اے آر رحمن نے جواب دیتے ہوئے کہا تھا کہ میں اپنے بچوں کے فیصلوں کا احترام کرتا ہوں اور کسی پر اپنی مرضی مسلط نہیں کرتا

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.