fbpx

بزدار نے دیا صرف دو ہزار ٹیکس، سب اراکین اسمبلی کی تفصیلات سامنے آ گئیں

بزدار نے دیا صرف دو ہزار ٹیکس، سب اراکین اسمبلی کی تفصیلات سامنے آ گئیں
وزیراعظم عمران خان نے ٹیکس ائیر 2019 میں 98 لاکھ 54 ہزار 959 روپے ٹیکس جمع کرایا، وزیراعظم  نے ٹیکس ائیر 2019 میں 82 لاکھ 81 ہزار830 سو روپے کی پریزمٹو آمدنی اور 23 لاکھ 64 ہزار150 روپے کی زرعی آمدنی ظاہر کی ہے۔

ایف بی آر نے پارلیمنٹرینز کی سال2019کی ٹیکس ڈائریکٹری جاری کردی ہے، جس کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے 98لاکھ 54 ہزار959 روپے، اپوزیشن لیڈر شہبازشریف نے 82 لاکھ 42 ہزار 662 روپے، آصف زرداری نے 22 لاکھ 18 ہزار 229 روپے، اور چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو نے 5 لاکھ 35 ہزار243 روپے ٹیکس دیا۔

دیگر سیاستدانوں میں  شاہدخاقان عباسی نے48لاکھ 71 ہزار277 روپے، وزیرخزانہ شوکت ترین نے  2 کروڑ 66 لاکھ 27 ہزار 737 روپے، وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے 8 لاکھ 51 ہزار 955 روپے اور پی ٹی آئی کے نجیب ہارون نے 14 کروڑ 7 لاکھ 49 ہزار روپے ٹیکس دیا۔  وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے 19 لاکھ 21 ہزار 914 روپے، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے 66 ہزار 258 روپے، سابق وزیراعلیٰ جام کمال نےایک کروڑ 17 لاکھ 50 ہزار 799 روپے، موجودہ وزیراعلیٰ بلوچستان قدوس بزنجو نے 10 لاکھ 61 ہزار 777 روپے اور وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نےصرف 2 ہزارروپےٹیکس دیا۔

پی ٹی وی کے پاس پرانے کیمرے، سپیئر پارٹس نہیں ملتے،قائمہ کمیٹی اجلاس میں انکشاف

پی ٹی وی سپورٹس پر اینکرز کی دس دس گھنٹے کی تنقید ، قائمہ کمیٹی نے تجزیوں کو غیر معیاری قرار دے دیا

فلم پالیسی کو بہت جلد عملی جامہ پہنایا جائے گا، قائمہ کمیٹی تعاون کرے گی: سینیٹر فیصل جاوید

شہباز شریف نے خط لکھ کر مدد مانگ لی

گرے لسٹ میں رہنے سے پاکستان کا کتنا ہوا مالی نقصان؟ رحمان ملک کا انکشاف،کیا بڑا اعلان

ٹویٹر پر جعلی اکاؤنٹ، قائمہ کمیٹی اجلاس میں اراکین برہم،بھارت نے کتنے سائبر حملے کئے؟

بیس ہزار کے عوض خاتون نے ایک ماہ کی بیٹی کو فروخت کیا تو اس کے ساتھ کیا ہوا؟

آئی ایم ایف کو بتادیا عوام پر مزید ٹیکس کا بوجھ نہیں ڈالا جائیگا،شوکت ترین

وزیر خارجہ بتائیں ہمارے جوان شہید ہیں یا اسامہ ؟ حنا ربانی کھر کا اسمبلی میں اظہار خیال

اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے 5 لاکھ 55 ہزار 794 روپے، چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے ایک کروڑ 39 لاکھ 9 ہزار327 روپے، وفاقی وزیر اسد عمر نے 42 لاکھ 72 ہزار 426 روپے، وزیر اطلاعات فوادچوہدری نے ایک لاکھ 36 ہزار 808 روپے، وزیر مملکت فرخ حبیب نے 4 لاکھ 5 ہزار 477 روپے، وفاقی وزیر مراد سعید نے 86 ہزار 606 روپے، سینیٹر رضا ربانی نے ایک کروڑ 55 لاکھ 5 ہزار 493 روپے، سینیٹر طلحہ محمود نے 3 کروڑ 22 لاکھ 80 ہزار 549 روپے، اسپیکر پنجاب اسمبلی پرویزالٰہی نے 9 لاکھ 32 ہزار 835 روپے اور وفاقی وزیرعلی زیدی نے10 لاکھ 47 ہزار 808 روپے ٹیکس دیا۔

دوسری جانب الیکشن کمیشن نے مالی اثاثوں کی تفصیلات جمع نہ کرنے والے پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلی کے ارکان کو آخری موقع دیتے ہوئے کہا ہے کہ پارلیمںٹ اور صوبائی اسمبلیوں کے 331 ارکان نے تاحال تفصیلات جمع نہیں کرائیں، 15 جنوری تک اثاثوں کی تفصیلات موصول نہ ہوئیں تو رکنیت معطل کر دی جائے گی۔الیکشن کمیشن کے مطابق سینیٹ کے 17، قومی اسمبلی کے 102، پنجاب اسمبلی کے 127، سندھ اسمبلی کے 31 ، خیبرپختونخوا اسمبلی کے 40 اور بلوچستان اسمبلی کے 14 ارکان نے تفصیلات جمع نہیں کرائیں۔

وزیر خزانہ شوکت ترین نے ٹیکس ڈائریکٹری کے اجراء پر کہا کہ یہ شفافیت کی طرف ایک اہم قدم ہے، قوم کی نظریں ارکان پارلیمان پر ہوتی ہیں، جب قوم کو معلوم ہو گا کہ ارکان پارلیمان شفاف طریقہ سے ٹیکس ادا کرتے ہیں تو شہری بھی اسی جذبہ کے ساتھ ٹیکس ادا کریں گے، اس سے ٹیکس کے پورے نظام میں شفافیت آئے گی۔ کسی بھی ملک کی ترقی و خوشحالی میں ٹیکس کے فعال اور مؤثر نظام کا بہت بڑا ہاتھ ہوتا ہے، ٹیکس ریونیو کے بغیر کوئی معاشرہ ترقی نہیں کرتا، ماضی میں جس کو بھی موقع ملتا وہ ٹیکس کو چھپانے کی کوشش کرتا، اس سے ترقی کے سفر پر اثرات مرتب ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت ہمارے پاس جاری اخراجات کیلئے بھی پیسے نہیں ہوتے جبکہ ترقیاتی اخراجات کیلئے قرضے لینا پڑتے ہیں، اگر ٹیکس کا شفاف اور مؤثر نظام موجود ہو تو اس طرح کے مسائل سے چھٹکارا ملے گا۔ انہوں نے کہا کہ ارکان پارلیمان کی ٹیکس ڈائری کی اشاعت کا آغاز 2013ء میں ہوا تھا، یہ ایک اچھی روایت ہے، اس مرتبہ ٹیکس ڈائریکٹری میں بعض تبدیلیاں کی گئی ہیں جو خوش آئند ہیں

ارکان پارلیمنٹ کے ادا کردہ ٹیکس پر مشتمل ڈائریکٹری میں ان ارکان کے نام شامل ہیں جنہوں نے 3 جوری 2022 تک اپنی ریٹرن فائل کی تھی۔ یہ ریٹرن آن لائن جمع ہوئی یا ہاتھ سے جمع کرائی گئی ڈائریکٹری میں ایسے ممبران کے نام شامل ہیں ٹیکس نل ظاہر کیا گیا ہے ان میں فیصل سلیم رحمان شامل ہیں تاہم انہوں نے زرعی انکم ظاہر کی ہے سینیٹر پلوشہ خان کی طرف سے کوئی آمدن ظاہر نہیں کی گئی قومی اسمبلی کے ریٹرن جمع کرانے والے 312 ارکان میں سے صرف دس ایسے ہیں جن کا انکم ٹیکس نل ہے تاہم ان میں کچھ ارکان ایسے ہیں جنہوں نے اپنی زرعی آمدن کو ظاہر کیا ہے

حکومت لنڈے کے کپڑوں پر بھی ٹیکس لگانا چاہتی تھی،وزیر کا انکشاف

Facebook Notice for EU! You need to login to view and post FB Comments!