fbpx

بزرگ

بزرگ ہماری دولت اور شہرت کے نہیں بلکہ محبت کے طلبگار ہوتے ہیں بزرگوں کی ہی مرہونِ منت ہمارے گھروں میں رونقیں ڈیروں میں محفلیں ہوتی ہیں بزرگوں کی قدر کرنا خاندانی لوگوں کا ہر دل عزیز شیوا ہوتا ہے

ضعیف العٔمر بزرگوں کے جذبات کی قدر اور أنکے احساسات کو ترجیح دینے سے بزرگوں کے اندر قدرتی خوشی محسوس ہوتی ہے وہ اپنے آپ کو اکیلا محسوس کرنے کی بجائے جمِ غفیر کا ساتھی سمجھتے ہیں بزرگوں کی باتیں اکثر وزن کے اعتبار سے قابلِ بھروسہ اور قابلِ قدر سمجھی جاتی ہیں انکی باتوں کو غور سے سننے والا کبھی بھی زندگی کی مشکل روانی میں پریشان نہیں ہوتا جو بزرگوں کی باتوں کو ایک کان سے سن کر دوسرے کان سے نکال دیں گویہ متوجہ ہی نہ ہو اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ وہ کبھی بھی کامیابی حاصل نہیں کرسکتا

ہمارے ہاں ایک برگزیدہ بزرگ ہوا کرتے تھے ضعیف العٔمر تھے چلنے پھرنے سے قاصر بڑھاپا انکے انگ انگ میں کوٹ کوٹ کر بھر چکا تھا أس وقت بھی انکے جذبات آج کل کے نوجوانوں سے زیادہ طاقتور تھے کسی بھی مشکل وقت میں اگر ان سے مشورہ لینا ہوتا کسی کی جرآت نہیں تھی انکے آگے کوئی بلاوجہ تمہید باندھیں انکے ساتھ بات کرنے کے لیے قدر آور معتبر شخصیات جاتی اور مشورہ لیتی وہ اس انداز سے مشورہ اور مصیبت کا حل بتاتے تھے کہ پہاڑ جیسے مسئلے کو أن سے مشورہ لینے کے بعد روئی جیسہ مسئلہ لگتا تھا

ایک دفعہ سڑک پار کرنے کے لیے انہیں کسی سہارے کی ضرورت تھی مجھے کہنے لگے ” پٔتر اے سڑک تے پار کروا چھڈ ‘” میں تیزی سے آگے لپکا سڑک پار کروائی جیب سے 10 روپے نکال کر دیے میں نے کہا یہ کیا انہوں نے بڑے انہماک اور دریا دلی سے جواب دیا جو میرے لیے متاثر کٔن تھا اور اس جملے نے مٔجھے کئی روز زندگی کا مقصد سمجھائے رکھا کہ کسی کا بھی کسی بھی موقع پر حق نہیں کھانا چاہیے جملہ سنئیے
کہتے
” پٔتر تو کیڑا میرا نوکر لگا اے تیرا معاوضہ اے ”

بظاہر تو میں نے اللہ کی رضا کے لیے سڑک پار کروائی لیکن اللہ کی شان یہ وہ طاقت ور
جملہ تھا جو ہمارے معاشرے کے لیے سبق آموز ہے کہ کسی کا حق نہیں رکھنا چاہیے چاہیے حالانکہ یہ میرا حق نہیں تھا لیکن جملہ بزرگ کی زبان سے نکلا ہوا شائید بہت کچھ سمجھا گیا۔

اردگرد اپنے بزرگوں ضعیف العمر لوگوں کی قدر کیا کریں انکو ترجیح دیا کریں آپکی زندگی صحرا سے گلشن بن جائے گی آپکو اندر سے قیمتی چیز کی خوشی محسوس ہوگی
یہی وہ لوگ ہوتے ہیں جو زندگی کی ہر اونچ نیچ کو بڑی روانی کے ساتھ گزار کر بزرگ بنتے ہیں
زندگی کے ایک ایک لمحے کو ان لوگوں نے پرکھا ہوتا ہے دورانِ بزرگی بڑے پر اثر طریقے اور قدر دانی کے ساتھ اپنے اللہ کو راضی کرتے ہیں یہ بزرگوں کا زوق و شوق ہوتا ہے کہ بڑھاپے میں ایک ایک منٹ کو بغیر ضائع کیے اللّٰہ کی یاد میں گزار دیتے ہیں

شائید غالب امکان یہی ہے کہ آج کل کے بزرگ زندگی کی آخری پیڑی ہو انکی قدر کریں انہیں حوصلہ دیں انکے ساتھ چند منٹ بیٹھ جایا کریں زندگی میں فائیدہ ہوگا انکو راحت محسوس ہوگی
چشمِ فلک اور وقت نے بہت کچھ دیکھا شائید اب کی بار چشمِ فلک انسان کو "بزرگ” نہ دیکھ سکے
کیونکہ ایک تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں اوسطاً عمر 60 سال ہے جو کہ بزرگ بننے سے پہلے ہی انسان منوں مٹی تلے چلا جائے گا۔
شعر ہے کہ
اے چشمِ فلک اے چشمِ زمیں
ہم لوگ تو پھر آنے کے نہیں دو چار گھڑی کا سپنا ہے

@Talha0fficial1