رب اشرح لی تحریر: محمد شفیق

0
856

چھوٹی بہن کی ایم ایس کی پریزنٹیشن تھی۔رات بھر جاگتی رہی ۔آنکھیں سوجی تھیں ۔پوچھا کیا ہوا۔کہنے لگی ۔کوئ دعا بتا دیں۔کچھ سمجھ نہیں آ رہا۔
میں نے کہا پڑھو تب۔
رَبِّ اشْرَحْ لِي صَدْرِي * وَيَسِّرْ لِي أَمْرِي * وَاحْلُلْ عُقْدَةً مِّن لِّسَانِي * يَفْقَهُوا قَوْلِي *

کہنے لگی اس کا مطلب بھی بتا دیں۔ میں نے مطلب بتایا۔
” اے میرے رب میرے لیے میرا سینہ کھول دے اور میرے لیے میرا کام آسان کراور میری زبان کی گرہ کھول دے کہ وہ میری بات سمجھیں”
وہ حیرت سے گنگ میری طرف دیکھ رہی تھی۔میں نے پوچھا کیا ہوا۔ کہنے لگی۔
بھائ اس میں تو میرے ہر مسئلہ کا ذکر ہے۔جس کے لیے مجھے الفاظ نہیں مل رہے تھے۔اب حیران ہونے کی میری باری تھی ۔وہ گویا ہوئ۔
رات بھر پڑھنے کے بعد مجھے لگ رہا تھا۔ جیسے میرا سینہ بند ہوگیا ہو۔اور مجھے لگتا ہے۔کہ مجھے کچھ بھی یاد نہیں ۔ذہن جیسے منتشر ہے۔خدشہ ہےمیں کچھ بول نہیں پاؤں گی۔جیسے زبان پر گرہ لگی ہو ۔اور میرے لئے کچھ کہنا مشکل ہو۔اور ایسے میں جو کہوں گی۔وہ کسی کو کہاں سمجھ آۓ گا۔
اللہ نے یہ سورت شاید میرے لۓ ہی اتاری ہے۔میری ساری کیفیت کہ کر مجھے مانگنا سکھایا ہے۔کتنا مہربان ہے نا وہ رب۔
اب یہ بتائیں۔یہ آیت کب اور کس پس منظر میں اتری۔ وہ اپنی ٹینشن بھول کر اس دعا کو سمجھنا چاہتی تھی ۔
میں نےاسے بتایا۔ان الفاظ میں موسیٰ علیہ السلام نے دعا کی تھی ۔جب انھیں فرعون کی طرف بھیجا گیا۔ وہ سبق کی دہرائی بھول چکی تھی۔
اس کا اگلا سوال تھا۔موسی علیہ السلام نے اللہ سے دعا میں یہ سب کیوں مانگا ۔وہ فوج طاقت اور دیگر وسائل بھی تو مانگ سکتے تھے۔ اگر میں ہوتی تو میں شاید یہ سب مانگتی۔
میں نے اس دعا کو بارہا پڑھا تھا اور دل کی گہرائی سے۔اور اس کے اثرات بھی ہمیشہ کئی لحاظ سے محسوس کیے تھے۔ایسے وقت جبکہ کوئی حل سمجھ نہ آتا۔یہ دعا میری ڈھارس بندھاتی۔مگر اس انداز سے کبھی نہ سوچا تھا۔لہذا کچھ د ن کے غوروفکرسے چند پہلو سمجھ آۓ۔
سوچا آپ سے بھی شئیر کرو ں۔

۔پغمبر کے الفاظ اللہ کی کتاب میں ۔یقینا اس میں خزانے کی کنجیاں چھپی ہیں۔اسکی کھوج لگانی پڑے گی۔

۔پتہ چلاکسی کام کی سب سے پہلی رکاوٹ اندر سےہوتی ہے۔آپکے اندر اعتماداور خلوص پیدا ہوجاۓ۔کسی بھی چیز کے درست ہونے کا یقین ہو جائے۔ابہام نہ رہے۔تو دلیری پیدا ہوتی ہے۔انسان بےخوف ہو جاتا ہے۔بات میں وزن پیدا ہو جاتا ہے۔بہترین مشاہدہ سوچ وفکر کے نۓ زاوۓ سجھاتا ہے۔دل میں کشادگی پیدا ہوتی ہے۔انسان کنواں کا مینڈک نہیں بنتا ۔دوسروں کے نکتہ نظر جاننا چاہتا ہے۔یہی سینے کا کھلنا ہے۔ یہ تو کامیابی کا بنیادی نکتہ ہوا یقیناً۔
۔مانگنے والا کسی بڑے مقصد کو پانے کے لیے اپنی طاقت اور کمزوری کا ٹھیک ٹھیک اندازہ لگاۓ۔اور رب سے متعین کر کے چھوٹی چھوٹی چیزیں مانگے۔ کہ بڑے مقاصد چھوٹے چھوٹے پہلوؤں پر توجہ دینے سے حاصل کیے جاسکتے ہیں۔

موسیٰ علیہ السلام نے سافٹ اسکلز مانگیں۔معلوم ہوا سافٹ اسکلز کسی بڑے مقصد تک پہنچنے کے لئے بنیادی اہمیت رکھتی ہیں۔
اللہ سے چھوٹی چھوٹی چیزیں مانگیں۔اسے پسند ہے۔کہ جوتی کا تسمہ تک اس سے مانگیں۔اس کے لیۓ کچھ مشکل نہیں ۔
بے دھڑک مانگیں۔
ہمیشہ اللہ سے آسانی مانگیں۔آپ بس مانگنے والے ہوں۔دینے والا دینے کو تیار ہے۔

انھوں نے زبان کی روانگی مانگی۔اس سے زبان و بیان کی اہمیت واضح ہوتی ہے۔ اور یہ کہ یہ صلاحیت اللہ کی بہترین عطا ہے۔
اس دعا کے ساتھ انھوں نے مددگار کے طور پر اپنے بھائی کو مانگا۔معلوم ہوا کامیابی اور ترقی کے لئےمادی وسائل سے زیادہ انسانی وسائل کی اہمیت ہے۔ انسانی وسائل اعلیٰ درجے کے ہوں تو مادی وسائل خودبخود حاصل ہو جاتے ہیں۔

انھوں نے بدلہ نہیں مانگا اللہ سے۔یعنی بے غرض ہونا دنیا کے عظیم انسانوں کا شیوہ ہے۔

۔کسی بھی فرعون سے مقابلہ کرنے کے لیے سینہ کا کھلنا ،بیان اور اظہار کا ملکہ ہونا ،مخلص ساتھیوں کا میسر ہونا بہت بڑی نعمت خداوندی ہے۔

سافٹ اسکلز کا ہونا کسی بھی فوج اور مادی وسائل سے ذیادہ اہم ہے۔
ایک ساتھی سے بات ہوئی کہنے لگا۔
بعض اوقات اچھا بولنے اور قاٸل کرنے کے لۓ الفاظ اور دلاٸل کا انبار ہوتا ہے لیکن سامنے والا سمجھنے کے لۓ تیار نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔تو یہ دعا الفاظ میں وہ تاثیر عطا کرتی ہے کہ سامنے والا آپ کا مطمع نظر سمجھ جاتا ہے۔۔۔۔۔۔۔
ایک اور پہلو ۔۔۔۔۔۔
اس دعا کو ہم درس یا Presentation دینے سے پہلے تو پڑھتے ہی ہیں لیکن اپنی عام گھریلو روٹین میں بھول جاتے ہیں ۔
تو اپنے روز مرہ کے معمولات میں شامل کرلیں تو اللہ جی ہمارے کام میں آسانیاں پیدا فرما دیںتے ہیں ۔۔۔۔جیسے کسی کے درمیان صلح کروانے کی کوشش کرتے وقت ۔۔۔۔۔۔۔۔کسی بڑے کو کسی بات کا اچھا پہلو بتاتے ہوۓ ۔۔۔۔۔۔اپنی کسی ساتھی ۔والدہ۔ساس۔بہو۔۔ شوہر کسی بھی تعلق میں اپنا مسٸلہ اپنی کیفیت سمجھانے کے لۓ ۔۔۔۔۔یا گھر کے کسی معاملے کسی شادی بیاہ کی رسم کے خاتمے کے لۓ ۔۔۔اپنے کسی بچے یا چھوٹے بہن بھاٸیوں کو کوٸ بات سمجھانے سے پہلے اس دعا کو اس پیراۓ میں رکھ کر رب سے مانگیں تو ان شاء اللہ اللہ ہمارے کاموں کو آسان فرما دیتے ہیں ۔
@IK_fan01

Leave a reply