fbpx

سی پیک پر پاک چین مشترکہ تعاون کمیٹی کا اجلاس 16 جولائی کو ہوگا عاصم سلیم باجوہ

سی پیک(چائنہ پاکستان اکنامک ڈور) پر پاک چین مشترکہ تعاون کمیٹی کا اجلاس 16 جولائی کو ہوگا-

باغی ٹی وی: چیئرمین سی پیک اتھارٹی ریٹائرڈ جنرل عاصم سلیم باجوہ کا کہنا ہے کہ اجلاس میں سی پیک کے منصوبوں پر پیشرفت کا جائزہ لیا جائے گا اور مستقبل کے منصوبوں کے متعلق فیصلہ ہوگا۔

چیئرمین سی پیک اتھارٹی نے بتایا کہ اجلاس وڈیو لنک سے ہوگا جبکہ اجلاس کی صدارت وفاقی وزیر اسد عمر اور وائس چیئرمین این ڈی آر سی کریں گے۔

واضح رہےکہ سی پیک منصوبہ دنیا کا سب سے بڑا معاشی پراجیکٹ ہے ۔ سی پیک(چین، پاکستان اکنامک کوریڈور)میں چین کی طرف سے اپنی تاریخ کی سب سے بڑی سرمایہ کاری کی جارہی ہے جو کہ 46ارب ڈالر ہے ۔سی پیک میں ہمارے مفادات سے زیادہ چین کے مفادات شامل ہیں۔سی پیک کی تعمیر کے بغیر چین دنیا میں سپر پاور اور معاشی کنگ نہیں بن سکتا۔ہمارے اپنے مفادات بھی اپنی جگہ موجود ہیں ۔ چین عرب ممالک سے روزانہ کی بنیاد پر 60 لاکھ بیرل تیل منگواتا ہے جس کا سفر 12ہزارکلو میٹرکے قریب بنتا ہے۔

جنوبی چین سمندر پر چین کیلئے بے پناہ مسائل ہیں ۔سمندری سپلا ئی لائن پر تبت،تھائی لینڈ،جاپان،کوریا،کچھ جزیرے ہیںجن کے ساتھ چین کے حالات بہتر نہیں ۔ یہ ممالک کسی بھی وقت یہ لائن کسی سازش کے تحت کاٹ دیں تو چین کی معیشت برباد ہوسکتی تھی۔ اس کا متبادل بہترین حل سی پیک کی صورت میں چین کوملا۔ جو بنیادی طور پر اس کے دوست ملک پاکستان سے جُڑا ہوا ہے ۔

سی پیک سے چین کو اپنی ضرورت کے لیے تیل گوادر کے راستے 3 ہزارکلومیٹر کے فاصلے اور محفوظ ترین راستے سے کم ترین وقت میں دستیاب ہوگا۔ چین کی مصنوعات وسطی ایشیا، افریقہ، یورپی یونین ،ترکی،روس،تاجکستان، ازبکستان اورعرب ممالک تک کم سے کم وقت وکم ترین اخراجات میں پہنچ سکتی ہیں ۔چین سے ان ممالک کی درآمدات و برآمدات سے پاکستان کو حاصل ہونے والی راہداری وصولی سے اس کی معیشت کا معیا ر دنیا کے ترقی پذیر ممالک کے برابر ہو جائے گا۔او ر اس ’’سی پیک‘‘ سے جو دوسرے فائدے ہوں گے وہ الگ سے ہوں گے ۔

سی پیک کی اہمیت کے پیش نظر اس کے خلاف پہلے دن سے مختلف افواہوں اور پروپیگنڈہ کے ذریعے سبوتاژ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے –