fbpx

شاہ سلمان کی سربراہی میں کابینہ اجلاس، حج انتظامات کا جائزہ

ریاض:حج کا سیزن شروع ہوچکا ہے اور اس سلسلے میں حسب روایت سعودی شاہی خاندان حاجیوں کی خدمت اوران کوسہولیات بہم پہنچانے کے لیے بھی بہت زیادہ متحرک ہوچکا ہے ، اسی سلسلے میں آج خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے کابینہ کے اجلاس کی صدارت کے دوران عازمین حج اور عمرہ کے لئے موجود سہولیات کا جائزہ لیا۔

سعودی حکام کے مطابق اس سلسلے میں سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے جدہ کے السلام محل میں ہونے والے اجلاس میں سعودی عرب کے حصے میں مسجد حرام اور مسجد نبوی کے مہمانوں کی میزبانی کو اللہ کی نعمت شمار کرتے ہوئے بتایا کہ مملکت کے قیام سے اب تک عازمین حج و عمرہ کی خدمت اولین ترجیح رہی ہے اور آئندہ بھی رہے گی۔اس موقع پر خادم حرمین نے تمام متعلقہ اداروں کو ہدایت جاری کی کہ حج 1443 ہجری کے تمام معاملات کو بخوبی انجام دیا جائے اور عازمین کو ہر ممکن سہولیات فراہم کی جائیں۔

یہ بھی بتایا گیا ہے کہ کابینہ اجلاس میں خارجی امور سے متعلق بریفنگ بھی دی گئی جس میں ابلاغ کے قائم مقام وزیر ڈاکٹر ماجد نے ولی عہد کے دورہ مصر، اردن اور ترکیہ کے نتائج پر بریفنگ شامل تھی۔

 


اس کے علاوہ کابینہ اجلاس میں سعودی عرب کے داخلی امور جن میں ماحولیات کے حوالے سے سعودی گرین انیشی ایٹو اور مڈل ایسٹ گرین انیشی ایٹو کو بھی زیر بحث لایا گیا۔

سعودی وزارت حج اور عمرہ کے مطابق رواں سال حج کی ادائیگی کے لئے تین لاکھ سے زائد عازمین حج بذریعہ فضائی اور بحری سفر مدینہ منورہ پہنچ چکے ہیں۔ سعودی وزارت کے اعداد و شمار کے مطابق حج فلائٹوں کی شروعات سے اب تک مدینہ کے شہزادہ محمد بن عبدالعزیز انٹرنیشنل ائیرپورٹ سے دو لاکھ 41 ہزار 859 اور 45 ہزار 824 عازمین زمینی بارڈر کراسنگ سے مدینہ پہنچے ہیں۔

سعودی اعداد وشمار کے مطابق سب سے زیادہ تعداد بنگلہ دیشی عازمین کی ہے جن کی تعداد 12 ہزار 901 ہے، ان کے بعد 10 ہزار 216 نائجیرین عازمین، آٹھ ہزار 350 ہندوستانی عازمین اور چھ ہزار 494 ایرانی عازمین شامل ہیں

گزشتہ روز تک مدینہ سے مکہ جانےوالے عازمین حج کی تعداد دو لاکھ پانچ ہزار 49 ہے جبکہ 94 ہزار 837 عازمین ابھی تک مدینہ ہی میں موجود ہیں

ادھرسعودی عرب کے نائب وزیر حج ڈاکٹرعبدالفتاح مشاط نے کہا ہے کہ ’اس سال حج پیکیج تقریباً 30 فیصد سستے ہیں۔‘
السعودیہ چینل سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ وزارت نے حج پیکیج کم کرانے کی باقاعدہ منصوبہ بندی کی۔ وزارت نے اپنے پورٹل پر حج پیکیج کے نرخ جاری کرائے جس کی وجہ سے نرخ کم رہے۔

ڈاکٹرعبدالفتاح مشاط نے بتایا کہ ’داخلی معلمین حج پیکیج کی قیمتوں میں من مانی کررہے تھے۔ اپنی مرضی سے حج پیکیج جاری کررہے تھے۔ حج پیکیج کی قیمتیں پورٹل پر جاری کرنے سے بڑی حد تک حج پیکیج سستے رہے ہیں۔‘ انہوں نے کہا کہ ’وزارت حج و عمرہ کی حکمت عملی یہ ہے کہ پرائیویٹ سیکٹر کو زیادہ سے زیادہ موقع دیا جائے، تاہم وزارت یہ بھی چاہتی ہے کہ پرائیویٹ کمپنیاں زمینی حقائق کو مدنظر رکھ کر کام کریں۔‘

سعودی نائب وزیر حج نے کہا کہ ’وزارت درمیانے سائز کے اداروں پر بڑا انحصار کررہی ہے۔ حج امور سے متعلق نت تجربات کی حوصلہ افزائی کی جا رہی ہے۔ ورکشاپوں اور فورمز کے ذریعے ان کی تشہیر کی جا رہی ہے۔‘

یاد رہے کہ وزارت حج وعمرہ کی جانب سے اندرون مملکت سے حج کے لیے جانے والے سعودی شہری اور مقیم غیرملکیوں کے لیے تین پیکیجز مقرر کیے گئے تھے جن میں ’منی ٹاورز‘، ’ضیافیہ ون ‘ اور ’ضیافہ ٹو‘ شامل ہیں۔منی ٹاورز کا پیکیج 14 ہزار737 ریال تھا جس میں 794 ریال کمی کے بعد 13 ہزار 943 ریال کردیا گیا، جبکہ ’ضیافہ ون‘ پیکیج کی قیمت 13 ہزار ریال تھی جسے کم کرکے 11 ہزار 970 ریال کیا گیا۔ تیسرے پیکیج ’ضیافہ ٹو‘ کو 10 ہزار 238 ریال سے کم کرکے 9 ہزار 98 ریال کیا گیا تھا۔