ورلڈ ہیڈر ایڈ

خداداد صلاحیت………….. ازجواد سعید

ایک بالغ مرد/عورت ایک بچے سے چار کامیاب عادتیں سیکهہ سکتے هے.
پہلی. بغیر وجہ کہ خوش رہنا.
دوسری. کسی نہ کسی چیز میں ہر وقت مصروف رہنا.
تیسری. سیکهنے (کاپی کرنے) کی ہردم کوشش کرنا.
چوتھی. جس چیز کی خواہش ہو اسے پوری قوت سے طلب کرنا.

شارٹ کٹ راستہ جو کہ آپکو رفعتوں تک پہنچا سکتا هے ان طفلی عادات سے ہی ممکن هے.
کیونکہ ہر بچہ فطرت اسلام پر پیدا ہوتا هے .اور انکی عادات ایک خدائیہ تحفہ ہوتی ہیں.
خداداد_صلاحیات) نامی لفظ تو اکثر سنتے ہی ہونگے .
اصل میں یہ وہ عادات ہیں جو ہمارے پیدا ہونے سے اب تک ہمارے ساتهہ جڑی ہیں.اور جو رہ گئیں وہ ہماری کمزوریاں کہلاتی هیں.
آپ نے اکثر بچوں کو دیکها تو ہو گا!
ننهے بچے جب چلنا سیکهتے ہیں تو سینکڑوں بار رینگتے ہیں .کهڑا ہونے کی کوشش کرتے ہیں .بار بار گرتے ہیں.اور پهر اٹهہ کر چلنے لگتے ہیں.
بعض اوقات دهڑام سے سر کے بل بهی گر جاتے ہیں روتے ہیں.لیکن پهر بهی باز نہی آتے.
اور پهر ایک وقت آتا هے وہ کهڑا ہو کر چلنا اور چلنے سے دوڑنا یہ سب مراحل بخوبی سیکهہ جاتے ہیں.
ان سب کے باوجود کبهی آپ نے انسے سنا ہو.
ہزار بار کوشش کی لیکن کامیابی بے سود.
بس جی بس.اب اور نہی ہوتا مجهہ سے؟..(کبهی نہی)

اب دوسرا_رخ دیکهئیے.!
اب یہی بچہ بڑا ہو کر اپنی صلاحیت قوت اعتمادی اور جهد مسلسل. کو بهول جاتا هے.
اور پهر اسی وجوہات سے ناشکری. شکوے. احساس کمتری. جیسی کئ وباوں کا شکار ہو جاتا هے.
اگر وہی بچہ اپنی تعمیری کردار میں یہ عادت نہیں بهولتا تو معآشرہ اسے ایک کامیاب پرسن کے نام سے بلاتا…

مشہور حکایت هے.ایک آدمی نے سقراط سے پوچها.
کامیابی کا اصل راز کیا هے.
سقراط نے قریبی ندی میں اسے دهکا دے دیا.
وہ بیچارہ ہاتهہ پاوں مارنے لگا آخر کار باہر نکل ہی گیا.
اسنے سقراط سے پوچها .مجهے دهکا کیوں دیا.؟؟
سقراط بولا جب تم پانی کے اندر تهے تمہیں سب سے زیادہ کس کی فکر تهی .کہنے لگا اپنی جان کی.
سقراط کہنے لگا یہی کامیابی کا راز هے.جتنی ضرورت تمہیں کامیابی کی ہو گی اتنی ہی تم کوشش کرو گے .اور یہی کوشش کسی دن تمہیں کنارے پے لا کهڑا کر دے گی.

اصل المیہ ہمارا یہ هے.ہم میں سے بہت لوگ اسلئیے اپنے آپ کو محنت میں نہی ڈالتے کیونکہ وہ اندیشوں میں جیتے ہیں.
ایک بات ذہن نشین کر لیجئیے زندگی میں ہمیشہ آپکی محنت/رویہ.ہی آپکی رفعتوں کا فیصلہ کرتا هے.
اور ہر لمحہ گویا لمحہ آغاز هے.you can do it.
ابهی سے شروع کیجئیے اور بن جائیے خداداد صلاحیات کے مالک..

تحریر از : جواد سعید

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.