حملہ آوروں نے کیپیٹل ہل کو کیسے نقصان پہنچایا، دیکھ کر جنگ کا قانون یاد آنے لگا

حملہ آوروں نے کیپیٹل ہل کو کیسے نقصان پہنچایا، دیکھ کر جنگ کا قانون یاد آنے لگا

باغی ٹی وی رپورٹ کے مطابق : ٹرمپ کے حامیوں نے جب وائٹ ہاؤس پر ہلہ بولا تو وہ ہرح سے آزاد ہو کر بلڈنگ کو نقصان پہنچانے لگے . مظاہر جو کہ غصے اور انتقام سے بپھر ے ہوئے تھے انہوں نے کھڑیوں ، شیشوں کو توڑنا شروع کردیا .اس طرح مشتعل مظاہرین نے سب رکاوٹوں کو عبور کر کے سبو تاژ کا عمل شروع کردیا جس سے عمارت کے اندر کافی نقصان پہنچا. جب مظاہرین نے کیپیٹل ہل پر حملہ کیا تو اس وقت وہاں تھوری بہت سیکورٹی موجود تھی جسے مظاہرین نے آسانی سے بائی پاس کرلیا تھا .

صدر ٹرمپ کے حامی مظاہرین نےکیپٹل ہل(پارلیمنٹ کی عمارت) پر اس وقت دھاوا بولا جب وہاں کانگریس کے دونوں ایوانوں کا مشترکہ اجلاس جاری تھا۔

اجلاس کا مقصد جو بائیڈن کی صدارتی انتخاب میں فتح کی باقاعدہ تصدیق کرنا تھا۔ بی بی سی نیوز کےمطابق ہنگامہ آرائی میں ایک خاتون ہلاک ہوئی اور متعدد مظاہرین کو گرفتار بھی کیا گیا ہے۔رکاوٹوں کو توڑنے پر مظاہرین اور سیکیورٹی فورسز میں ہاتھاپائی بھی ہوئی۔
ٹرمپ کے حامیوں کاموقف تھا کہ صدارتی انتخابات میں دھاندلی سے جوبائیڈن کو جتوایا گیا۔ ہنگامہ آرائی کے وقت امریکی ایوان نمائندگان میں سیکیورٹی سخت اور امریکی نائب صدرمائیک پنس کو محفوظ مقام پرمنتقل کردیا گیا۔مظاہرین کو منتشر کرنےکے لیے پولیس کی جانب سے آنسو گیس کا استعمال کیا گیا اور بعد ازاں امریکی دارالحکومت واشنگٹن میں12 گھنٹے کیلئے کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے۔

مریکی میڈیا کے مطابق کرفیو مقامی وقت کے مطابق شام6بجے سےصبح6بجے تک نافذ رہے گا۔ امریکی حکام نے مظاہرین کو6بجے سے پہلے واشنگٹن ڈی سی سے نکل جانے کا حکم دیا ہے.دوسری جانب امریکی میڈیا کے مطابق امریکی اسٹیبلشمنٹ نے صدر ٹرمپ سے رابطے منقطع کر دئیے۔ مائیک پنس کو 14 روز کیلئے صدر کی ذمہ داریاں سونپنے کیلئے مشاورت جاری ہے۔ وزرائے دفاع و خارجہ اور ری پیبلکن قیادت مشاورت میں شامل ہیں۔ سپیکر نینسی پلوسی نے کہا ہے کہ صدارتی تصدیق کا عمل آج ہی مکمل کریں گے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.