fbpx

کیپٹن صفدر کا کورٹ مارشل کرو، اب سب اندرجائیں‌ گے،مبشر لقمان کا اہم انکشاف

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ کیپٹن صفدر آرمی آفیسر تھے، ریٹائرڈ آرمی افسر کا بھی کورٹ مارشل ہو سکتا ہے، اسکا کورٹ مارشل ہونا چاہئے، اس نے مزار قائد پر ہلڑ بازی کی، کیا ڈرامہ بازی کی، پاکستان کی سیاست کو انہوں نے مذاق سمجھا ہوا ہے،

مبشر لقمان آفیشیل یوٹیوب چینل پر اینکر پرسن زین علی نے کہا کہ جب سے کراچی کا واقعہ ہوا اسکے بعد بہت زیادہ ہمارے اداروں پر بات ہو رہی ہے، آج ٹویٹر پر ٹاپ ٹرینڈ کراچی سے رینجرز نکالو اور سول وار کراچی رہے ہیں، یہ ٹرینڈ بنائے گئے، یہ انڈین میڈیا کا ایشو ہے، ایف اے ٹی ایف کی پاکستان پر کئی عرصے سے تلوار لٹک رہی ہے، کل سعودی عرب کے بارے میں خبر آئی کہ پاکستان کو وہ ووٹ نہیں دے گا اس پر آج دفتر خارجہ کی وضاحت آئی، سپریم کورٹ نے آج حکم دیا ہے کہ نیب میں جو کرہشن کیسز ہیں انکی روزانہ سماعت کی جائے، یہ دییرینہ مطالبہ تھا پاکستان کی عوام کا اور وزیراعظم عمران خان نے بھی مطالبہ کیا تھا

اینکر زین علی نے کہا کہ کراچی معاملہ کی وجہ سے سیاسی ٹمپریچر ہائی ہو چکا ہے، مبشر لقمان نے کہا کہ کیپٹن صفدر کو اتنی ہائٹ دے دی انکو گھر میں فنکشن نہیں بلایا جاتا، بہت زیادہ قربت دینی ہو تو وہ مریم کے ڈرائیور کے طور پر آ جاتے ہیں، سندھ کی حکومت نے یہ سارا کام کیا، کیپٹن صفدر آرمی آفیسر تھے، ریٹائرڈ آرمی افسر کا بھی کورٹ مارشل ہو سکتا ہے، اسکا کورٹ مارشل ہونا چاہئے، اس نے مزار قائد پر ہلڑ بازی کی، کیا ڈرامہ بازی کی، پاکستان کی سیاست کو انہوں نے مذاق سمجھا ہوا ہے، انکی سیاست کو چلائیں گے ہم،ایک صفدر صاحب ہیں کون، کس ضمن میں وہاں پر گئے اور کہا کہ ووٹ کو عزت دو، یہ بات کرنے والے کون ہوتے ہیں، ریٹائرڈ افسر ہین کپتان سے آگے نہیں جا سکے، اے سی آر اچھی نہیں تھی، انکو نکال دینا تھا لیکن یہ ریزائن دے کرنکل گئے اب اسی ادارے کے خلاف باتیں کر رہے ہیں ،کیا باتیں کر رہے ہیں

مبشر لقمان کا کہنا تھا جو مزار قائد پر ہوا اس کے تناظر میں بات کریں گے، آپ کو پتہ ہے کتنے سال کی کتنی سزا ہے،اینکر زین علی نے کہا کہ ن لیگ کہتی ہے کہ خان صاحب بھی وہاں گئے تھے اور ہلڑ بازی کی، مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ رچرڈ ڈکسن بھی یہی کہتا تھا جب واشنگٹن پوسٹ والوں نے پکڑا تو اس نے کہا کہ کونسا امریکی صدر ہے جس نے یہ حرکت نہیں کی، انہوں نے کہا کہ کی ہو گی لیکن آپ پکڑے گئے، اب ادھر بھی ایف آئی آر ہو گئی، اینکر زین علی نے کہا کہ ایف آئی آر کس کے کہنے پر ہوئی جس پرمبشر لقمان نے کہا کہ مجھ پر ڈال دیں ،عمر شیخ پر ڈال دیں،ہر چیز ہی عمر شیخ پر ڈال رہے ہیں یہ بھی ڈال دیں

اینکر زین علی نے کہا کہ رینجرز پر سوشل میڈیا پر بحث جاری ہے یہ کیا معاملہ ہے، یہ انڈین نیریٹو ہے جس پر مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ میڈی ٹویٹس کا نام سنا ہے، میڈی ٹویٹس نے خود کام کیا ہے،انہوں نے مریم نواز کے فالور نکالے کتنے ملین فیک فالور تھے، فائیوملین فیک تھے، حامد میر کے بھی نکالے لیکن جس کے پانچ ملین فیک فالور ہین کیا وہ دو سو لوگوں کے ساتھ ٹویٹر ٹرینڈ نہیں بنا سکتا کل ہم بناتے ہیں گلابو مائی لاڈو، یہ ٹرینڈ میں چلا کر دکھاتا ہوں،سو لوگ چاہئے ٹرینڈ کے لئے، سارے انڈین میڈیا سے جھوٹے میڈیا سے جو اپنے ملک میں سچ بولتا نہیں، چین نے جو درگت بنائی انکو کتا کر دیا، اس پر آواز نہیں نکلتی، مودی کی فاسشٹ چیزوں پر، کشمیر پر بول نہیں سکتے، ناگا لینڈ، مانی پور،خالصتان پر وہ نہیں رپورٹ کر سکتے، انکی بات پاکستان کے لئے سنیں؟ یہ ٹرینڈ انڈیا سے بنے ہوئے ہیں، ٹویٹر ہینڈل دیکھ لیں، آپ اور میں انڈیا میں کر لیتے ہیں، سو فیک اکاؤنٹ رجسٹر کرنے ہیں پھر چل سو چل ، فیس بک، ٹویٹر ،انسٹا گرام ،سوشل میڈیا، میری بیٹی نے فیس بک پرتب اکاؤنٹ بنا دیا جب وہ بارہ سال کی تھی اس نے عمر 18 برس لکھ دی میں نے پھر اکاؤنٹ بند کروا دیا، سوشل میڈیا پر جھوٹ زیادہ ہے، آپ کا اور میرا کام خبر بریک کرنا نہیں اسکی حرمت، جانچ پڑتال کر کے صحیح خبر دینا ہے،

مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ ایک گیس سلنڈر سے بلڈنگ گر گئی تو کیا ہوا،انڈین میڈیا کیوں کر رہا ہے سول وار کی بات، سول وار پتہ ہے کیا ہوتی ہے، یہ بھی آمنے سامنے لاء اینڈ فورسز بھی آمنے سامنے، پاگل ہو گئے ہو، میں اور آپ خبر نکال لیتے ہیں کہ مودی زخمی حالت میں ہیں اور ایک گارڈ نے انکو گولی مار دی تھی، وہ گولی ایسے اعضا پر جا کر لگی کہ مودی موذی ہی ہو جائے، یہ نیوز ہم بنا سکتے ہم بھارتی صحافیوں کے طرح حرکتیں نہیں کریں گے، ہماری وار میں ہر چیز فیئر نہیں ہے، ہم خواتین، بزرگوں، بچوں کی حرمت کا خیال رکھتے ہیں، ہم مودی نہیں بن سکتے

اینکر زین علی نے کہا کہ ایک سی سی ٹی وی فوٹیج سامنے آئی ہے ہوٹل کی جہاں سے کیپٹن صفدر کو پکڑا گیا،جس پر مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ آخری بار آپ کب کراچی گئے ہیں،موو اینڈ پک ہوٹل کے اوپر رینجرز کی گاڑی ہوتی ہے، میریٹ، پی سی ہر ہوٹل کے باہر رینجرز کی گاڑی ہوتی ہے، اینکر زین علی نے کہا کہ ویڈیو میں دیکھا جا رہا ہے کہ ایک شخص فون پر ہدایات لے رہا ہے جس پر مبشر لقمان نے کہا کہ وہ شخص مریم نواز کا ذاتی ملازم ہے، کبھی کک بن کر ، کبھی سیکورٹی گارڈ بن کر سامنے آ جاتا ہے، آپ تحقیق تو کر لیں،آپ بھی اس ٹرینڈ کا حصہ بن رہے ہین، آپ اتنے ماشاء اللہ سمجھدار انسان ہیں، میرے سامنے فیک نیوز نہ لائیں

مبشر لقمان نے کہا کہ مریم نواز میری ایک بات کا جواب دے دے، میرا چیلنج ہے ، سب سے پہلے یہ روش بیڈ روم میں بریک کرنے والی اس کے باپ نے کی تھی ، نواز شریف نے نجم سیٹھی کے کمرے کا دروازہ تڑوا کر پنجاب پولیس کو اندر بھیجا تھا، جگنو محسن بھی وہاں پر تھی،اسکی حرمت کا خیال نہیں تھا، اس نے پھر بھی کپڑے پہنوائے، چینج کروائے اور واپس آیا،نجم سیٹھی کو تو سلیپنگ سوٹ میں لے کر گئے تھے، ہمارے اور انکی لائن میں فرق ہے، سیٹھی صاحب سینئر ہیں انکو غلط گرفتار کیا گیا تھا، بیڈروم سے، یہ تو ہوٹل ہے، آپ انکے گھر میں گھس گئے تھے، ماڈل ٹاؤن میں خواتین کے منہ پر گولیاں ماری گئیں، وہ شرمناک نہیں تھی، جس آدمی کو گھر میں عزت نہیں دیتے اسکے لئے سب کر رہے ہیں

مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ صابر شاکر کے نام سے خبر سعودی عرب کے بارے میں دیکھی تھی، اللہ کرے انکی خبر غلط ہو، اجلاس سے 3 دن قبل کیسے پتہ چل گیا،اجلاس تو جاری ہے اور 23 کو ووٹنگ ہونا ہے، یہ 20 کو خبر کیسے آ گئی، انڈین میڈیا ایف اے ٹی ایف پر خبریں کر رہا ہے، ہم ففتھ جنریشن وار کا حصہ ہیں، ڈس انفارمیشن پھیلائی جا رہی ہے، قوم کو لاء اینڈ فورسز سے اس میں لڑاتے ہیں، آمنے سامنے کھڑا کرتے ہیں تا کہ آپ پر حملہ ہو تو افرا تفری کی صورت میں ہوں اور دفاع نہ کر سکیں

مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ آپ لوگ ایک بات سنیں، یہ ایف اے ٹی ایف پاکستان کے اوپر کئی وجوہات سے الزام ہیں، اور وہ وجوہات آپ کو پتہ ہونی چاہئے، یہ ڈرامہ کہ ایف اے ٹی ایف منی لانڈرنگ یا ٹیررفنانسگ پر ہو رہی ہے، دو ماہ پہلے امریکی جریدے میں رپورٹ آئی کہ انڈیا ٹیرر فنانسنگ کر رہا ہے تو کیا انڈیا کا نام ایف اے ٹی ایف میں آیا،نہیں آیا، سب سے زیادہ منی لانڈرڈ برطانیہ میں ہے، انڈیا اس پر ڈاکو منٹریز کر چکا ہے، نیٹ فلیکس پر آ چکی ہے، کیا برطانیہ کو ایف اے ٹی ایف میں ڈالا؟ پاکستان میں ایف اے ٹی ایف کو اسوقت تک ڈالا ہوا ہے جب تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرتے، جب پاکستان کہے گا اسرائیل کو تسلیم کرتے ہیں، تل ابیب میں سفارتخانہ کھولتے ہیں تو پھر ایف اے ٹی ایف صرف وائیٹ ہی نہیں بلکہ بہت اچھی ہو جائے گی، نوٹوں کی بارش ہونی ہے پھر، ہمیں اصولوں کی وجہ سے مار پڑ رہی ہے، ٹیررفنانسگ،منی لانڈرنگ کی مثال دے دی، دو سو صحافی ملکر نام ڈلوائیں انکا،ایف اے ٹی ایف کو لکھیں،بینش سلیم اونچا اونچا بول رہی ہے، غریدہ فاروقی کو لے لیں، سارے بتا رہے کہ معاشی پالیسی فیل ہے، اب اسرائیل کو مان لیں معیشت ٹھیک ہو جائے گی

اینکر زین علی نے کہا کہ لوگ بڑے سوال کرتے تھے کہ عمران خان نے جتنا بھی احتساب کا دور چلایا، ریکوری کتنی ہوئی، سپریم کورٹ نے آج حکم دیا کہ کیسز کی روزانہ سماعت کی جائے، لوگ مطمئن ہیں کہ جلدی فیصلے ہوں گے، مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ میں بھی یہ بات کرتا تھا، یہ عمران خان کی نہیں ،لوگوں کی نہین سنی گئی، یہ اچھا فیصلہ ہے ان لوگوں کے لئے جن کے نام لسٹ میں ہیں، سعد رفیق کو دیکھ لیں، میرے کلاس فیلو ہیں اسلئے نام لے رہا ہوں،سعد رفیق پر ایک الزام میں 9 ماہ اندر رکھا ابھی تک الزام ثابت نہیں ہوا، اسکی زندگی خراب کر دی، اسکی لائف برباد ہو گئی، جب ڈے ٹو ڈے کیسز ہوں گے تو ڈیڑھ ماہ میں فارغ ہو جائیں گے، اگر کسی نے غلط کیا تو وہ بھی سامنے آ جائے گا، نیب کی پاور ان لمیٹڈ اٹھا لینا یہ غلط ہے، نوے دن کے ریمانڈ کی بجائے 90 دن میں کیس ختم ہونا چاہئے، جواب لینے کے اندر نہیں رکھنا چاہئے، میر شکیل الرحمان سے جواب لینا ہے اس لئے اندرکیا ایسا نہیں ہونا چاہئے، آپ نے جواب لینا ہے تو نام ای سی ایل میں ڈال دیں،لیکن جب بھی جواب دینے کے لئے کسی کو بلائین گے تو وہ آئیں گے، اس طرح لوگوں کا گھر،کاروبار بھی چلتا ہے، آپ ان سے بنیادی حقوق نہیں چھین سکتے، اگر آپکے پاس پکے ثبوت ہیں تو عدالت میں آئیں اور چالان پیش کریں، شاہد خاقان عباسی پر سال لگا کر بھی چالان پیش نہین کیا تو نیب والوں کو تین ماہ اندر بٹھا کر ان سے سوال پوچھنا چاہئے،

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.