fbpx

کرنٹ لگانے کے باعث…اقرار الحسن نے ویڈیو پیغام جاری کر دیا

کرنٹ لگانے کے باعث…اقرار الحسن نے ویڈیو پیغام جاری کر دیا
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق نجی ٹی وی کے اینکر اقرار الحسن پر حملہ کیا گیا ہے

حملے کے بعد وہ ہسپتال گئےاور انکا علاج ہوا، اب انہوں نے ایک پیغام جاری کیا ہے، اقرار الحسن نے کہا ہے کہ ڈاکٹر ابھی تجویز دے رہے ہیں کہ میں ہسپتال میں ہی رکوں لیکن میرا خیال ہے کہ گھر جانا چاہیے میرا ایک کندھا اپنی جگہ سے ہلا ہواہے جبکہ ایک پسلی بھی ٹوٹی ہوئی ہے جس کی رپورٹ ابھی آئی ہے دل پر کرنٹ لگانے کے باعث دل کی ای سی جی کی رپورٹ بھی نارمل نہیں ہے

تشدد کے باعث زخمی ہونے والے اقرار الحسن کو عباسی شہید ہسپتال منتقل کردیا گیا تھا جہاں ان کے سر میں کئی ٹانکے لگائے گئے وزیراعظم آفس کی ہدایت پر ڈائریکٹر آئی بی رضوان شاہ سمیت پانچ آئی بی افسران کو معطل کردیا گیا ہے۔ معطل اہلکاروں میں سٹینو ٹائپسٹ محبوب علی، انعام علی، سب انسپکٹر رجب علی اور ہیڈ کانسٹیبل محمد خاور شامل ہیں

‏انٹیلی جینس بیورو کے انسپکٹر کی کرپشن ویڈیو ثبوتوں کے ساتھ بے نقاب کرنے پر ڈائریکٹر آئی بی رضوان شاہ اور اس کی ٹیم کا اینکر اقرارالحسن اور سرعام ٹیم پر حملہ کیا گیا۔ ٹیم سرِعام کو ننگا کرکے نازک اعضاء پر بجلی کے جھٹکے لگائے گئے اور ویڈیو بھی بنائی گئی، اقرار الحسن نے ہسپتال سے نجی ٹی وی کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایسا پہلی بار ہوا کہ ہمارے سب کے سامنے کپڑے اتارے گئے ،ہمیں ایک دوسرے کے سامنے برہنہ کیا گیا اور تین گھنٹے تک ہمیں محبوس رکھ کر ہم پر تشدد کیا گیا، ہماری ٹیم کے نازک اعضا پر بجلی کے کرنٹ لگائے گئے

پیپلز پارٹی کے رہنما ناصر حسین شاہ نے کہا ہے کہ ‏اینکر اقرار الحسن پر آج کراچی میں واقع ایک وفاقی ادارے کے دفتر میں تشدد کیا گیا ۔ ہم اس کی مذمت کرتے ہیں اے آر وائی کے مطابق اس واقعے کے بعد ایک وفاقی ادارے کے ہانچ افسران کو معطل کردیا گیا ہے ۔

رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر مہرین بھٹو نے کہا کہ سید اقرار الحسن کو صحافتی ذمہ داریوں سے روکنا اور تشدد کا نشانہ بنانا انتہائی افسوس قابل مذمت ہے ذمہ داروں کے خلاف فوری سخت کاروائی ہونی چاہئے۔ شکر ہے اقرار کی زندگی بچ گئی ہے۔ اللہ انہیں جلد صحت کاملہ عطا کرے

وزیراعظم کے معاون خصوصی عثمان ڈار کا کہنا ہے کہ اقرار الحسن بہادر صحافی ہے، ان پر اور ان کی ٹیم پر ہونے والا حملہ انتہائی افسوس ناک اور قابل۔مذمت ہے، معاشرے میں سچ بولتی آوازوں کو دبانے کی کوشش کبھی کامیاب نہیں ہو گی! میں اپنے بھائی #iqrarulhassan کے ساتھ کھڑا ہوں اور سمجھتا ہوں کہ افسوس ناک واقعہ کی مکمل تحقیقات ہونی چاہیئے!

ن لیگی رہنما حنا پرویز بٹ کا کہنا تھا کہ صحافی اقرار الحسن پر تشدد کی شدید مذمت کرتی ہوں۔ اگر ایک مشہور صحافی کے ساتھ اتنا ظلم ہو سکتا ہے تو عام آدمی کا یہ کیا حال کرتے ہونگے؟؟؟ اللہ ہمارے ملک پر رحم کرے جہاں کچھ لوگ درندے بنتے جا رہے ہیں، سوال یہ ہے کہ ان درندوں کو انسان کون بنائے گا؟؟؟

اقرارالحسن پر لاہور میں تشدد،مبشر لقمان حکومتی اداروں پر برس پڑے