fbpx

سینیٹرز ولید اقبال، اعظم سواتی، اعجاز چوہدری اور ڈاکٹر یاسمین راشد کے کیسز: رپورٹ طلب

اسلام آباد: ایوان بالاء کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کا اجلاس چیئرمین کمیٹی سینیٹر محسن عزیز کی زیرصدارت پارلیمنٹ ہاوُس میں منعقد ہوا-قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں پی ٹی آئی کے حقیقی آزادی مارچ کے دوران امن امان قائم کرنے والی ایجنسیوں اور انتظامیہ کی جانب سے لانگ مارچ شرکاء پر آنسو گیس، کیمیکل گیس کی شیلنگ اور پی ٹی آئی لیڈر شپ پر پولیس کی کریک ڈاؤن سمیت پی ٹی آئی رہنماؤں اور عام عوام پر ایف آئی آر کا اندراج، غیر قانونی پکڑ دھکڑ، چادر اور چار دیواری کے تقدس کی پامالی کے معاملات کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔

چیئرمین کمیٹی سینیٹر محسن عزیز نے کہا کہ قائمہ کمیٹی نے گزشتہ اجلاس میں بھی حقیقی آزادی مارچ کے شرکاء پر بے تحاشہ شیلنگ اور رکاؤٹوں کے معاملات کا تفصیل سے جائزہ لیا تھا۔ متعدد سینیٹرز نے کمیٹی اجلاس میں شرکت کر کے نا صرف روداد بیان کی تھی بلکہ ویڈیو لنک کے ذریعے بھی مسائل بارے آگاہ کیا تھا۔ قائمہ کمیٹی حالات واقعات کا تفصیلی جائزہ لینے کیلئے چیئرمین سینیٹ محمد صادق سنجرانی کی اجازت سے تمام صوبوں کا دورہ کر کے حتمی رپورٹ تیار کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ قائمہ کمیٹی کے حوالے سے ٹویٹ اور سوشل میڈیا پر ریٹائرڈ آرمی افسران کی کینیڈا میں شہریت کے حوالے سے غلط خبریں گردش کر رہی ہیں جن کا اس کمیٹی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔کمیٹی یہ معاملہ نہ ہی کبھی زیر بحث لایا گیا ہے اور نہ ہی اس حوالے سے کوئی رپورٹ بنائی گئی ہے۔

ویڈیو لنک کے ذریعے سابق صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد نے تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ25ماڑچ کو لاہور سے ا حتجاج کے لئے نکلی تھی تو میری گاڑی پر ڈنڈے برسائے گئے ہمیں زدوکوب کیا گیا ہمیں گرفتار کر کے تھانہ لے جایا گیا ابھی تک ہماری ایف آئی آر درج نہیں کی گئی۔انہوں نے کہا کہ احتجاج میں شرکاء کی گاڑیوں کو بھی توڑا پھوڑا گیا۔ سنیٹر ولید اقبال نے بتایا کہ جیو فینسنگ کے ذریعہ سے ایک لسٹ بھی شیئر ہوئی جس میں میرا نام تھا۔رات کے بارہ بجے مجھے لاہور گھر سے فون آیا کہ پولیس کی ایک نفری نے ہمارے گھر پر دھاوا بول دیا ہے اور پولیس وین کے ذریعے ہمارے گیٹ کو توڑا گیا۔ میں اپنے والدین کے گھر رہتا ہوں میرے گھر کے گیٹ پر میرے والد اور والدہ کا نام بھی لکھا ہے۔ اہلکار دیوار پھلانگ کر گھر داخل ہو ئے۔ میرے بارے پوچھا گیا کہ ولید اقبال کدھر ہے پھر کک کے ذریعہ دروازے پیٹے گئے۔ دو دن بعد ڈی آئی جی صاحب سے ہمارے گھر آئے اور آئی جی پنجاب کی جانب سے معذرت کی۔ انہوں نے کہا کہ پولیس کو واضح معلوم تھا کہ میں اسلام آباد میں ہوں پھر بھی میرے گھر والوں کو شدید حراساں کی گیا۔ جس پر چیئرمین و اراکین کمیٹی نے کہا کہ شاعر مشرق کے بیٹے کے گھر پر اسطرح دھاوا بولنا انتہائی شرم ناک ہے۔قائد حزب اختلاف سینیٹ سینیٹر ڈاکٹر شہزاد وسیم نے کہا کہ حقیقی آزادی مارچ کے شرکاء کے حوالے سے جو واقعات ہوئے ہیں اُن کے دو پہلو ہیں۔ اُن پر نہ صرف بے تحاشہ شیلنگ، رکاوٹیں اور مسائل پیدا کئے گئے بلکہ انہیں کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئیں اور کچھ کے خلاف دہشت گردی کی دفعات بھی لگائی گئیں ہیں۔ ان کو علیحدہ علیحدہ دیکھنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی پارلیمنٹرین کو سخت حراساں کی گیا۔

سینیٹر اعجاز چوہدری نے ویڈیو لنک کے ذریعے کمیٹی کو بتایا کہ انہیں پولیس نے گرفتار کیا اور مختلف تھانوں میں رکھا اور کسٹڈی کے دوران اُن پر ایف آئی آر درج کی گئیں۔میرے فون کی لوکیشن موجود ہے میرے گھر کو توڑا گیا اور میرے اُوپر دہشت گردی کی دفعات لگائی گئیں۔ چیئرمین کمیٹی سینیٹر محسن عزیز نے کہا کہ سینیٹرز ولید اقبال، اعظم سواتی، اعجاز چوہدری اور ڈاکٹر یاسمین راشد کے کیسز کے حوالے سے متعلقہ ادارے 15دن کے اندر رپورٹ تیار کر کے کمیٹی کو فراہم کریں۔ اراکین کمیٹی نے کہا کہ ویڈیو لنک کے ذریعے کمیٹی کا اجلاس کرنے کا مقصد پورا نہیں ہوتا۔ آئندہ اجلاس میں متعلقہ ادارے اور متاثرین شرکت کر کے معاملات کا جائزہ لیں۔ جس پر چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ آئندہ اجلاس میں صوبہ پنجاب کے حوالے سے ان معاملات کا تفصیل سے جائزہ لیا جائے گا اور متعلقہ اداروں سے جو تفصیلات اور رپورٹس طلب کی گئیں ہیں وہ بروقت فراہم کی جائیں۔

سوشل میڈیا سے تعلق رکھنے والے عمران ریاض نے کمیٹی کو بتایا کہ پنجاب پولیس نے ایک ڈاکو کو اُن کے گھر کے قریب لا کر جعلی مقابلے میں ہلاک کر دیا اور اس کے گھر کے پاس فائرنگ بھی کرتے رہے۔میں نے خود پولیس سے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ پولیس مقابلہ ہوا ہے جس میں ایک ڈاکو ہلاک ہوا ہے اورڈاکو موٹر سائیکل پر آئے تھے رات تین بجے کا وقت تھا اُس ڈاکو کا زمین پر پڑا خون گرم جبکہ اُس موٹر سائیکل کا سائلنسر بلکل ٹھنڈا تھا اس جعلی مقابلے کی انکوائری ہونی چاہئے۔ مجھے اور میرے گھر والوں کو حراساں کیا جا رہا ہے مجھے کہا جا رہا ہے کہ لاہور سے شفٹ ہو جائیں۔انہوں نے کہا کہ میرے گھر کے آس پاس پانچ پولیس ناکے لگا کر مجھ سے ملنے آنے والوں کو شدید تنگ کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مختلف صحافیوں پر دو درجن کے قریب ایف آئی آرز درج کی گئیں ہیں جن میں سیکشن 505لگائی گئی ہے جو وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی اجازت کے بغیر نہیں لگائی جا سکتی اور اُن علاقوں سے بھی ایف آئی آر درج کی گئیں ہیں جہاں انٹرنیٹ کا نام و نشان بھی نہیں ہے۔ سینیٹر رانا مقبول احمدنے کہا کہ جعلی مقابلے اور عمران ریاض کو حراساں کرنے کے معاملے کی انکوائری ہونی چاہئے۔ جو پولیس اہلکار ملوث ہیں انکے خلاف کاروائی ہونی چاہیے۔سینیٹر شبلی فراز نے کہا کہ کچھ معروف صحافیوں کو جان بوجھ کر ٹارگٹ کیا جا رہا ہے اُن کو کام سے روکنے کیلئے ایسے ہتھ کنڈے استعمال کئے جا رہے ہیں جس کی ہم بھر پور مذمت کرتے ہیں۔

صوبائی ممبرا سمبلی حلیم عادل نے کہا کہ آزدی مارچ کرنا ہر ایک کاآئینی حق ہے مگر آزادی مارچ کرنے والے پارلیمنٹرین اور عوام پر دہشت گردی کی دفعات لگانا انتہائی افسوسناک ہے پولیس کی ستم ظریفی سے کوئی بھی محفوظ نہیں رہا میں ایک ٹی وی پروگرام میں تھا اُس وقت بھی میرے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی۔ سینیٹر ثمینہ ممتاز نے کہا کہ کراچی یونیورسٹی کے طلبعلم جو صوبہ بلوچستان سے تعلق رکھتے ہیں اُن کے اغوا پر اہل خانہ نے احتجاج کیا تو خواتین کے ساتھ انتہائی نا مناسب سلو ک کیا گیا۔ قائمہ کمیٹی نے معاملے کی رپورٹ متعلقہ حکام سے طلب کر لی۔ قائمہ کمیٹی کو بتایا گیا کہ سندھ میں آزادی مارچ کے حوالے سے 225ایف آئی آر درج ہوئی اور چار سے پانچ ایف آئی آر میں دہشت گردی کی دفعات لگائی گئی ہیں اور زیادہ تر پکڑے گئے لوگوں کو آزاد کر دیا گیا تھا۔ اے آئی جی سندھ نے کہا کہ جو بچے اغوا ہوئے تھے اُن کے لواحقین نے سی ایم ہاؤس اور عدالت کی طرف احتجاج کرنے کی دھمکی دی تو پولیس نے اعلیٰ حکام کو بتائے بغیر ایکشن لیا اُن کے خلاف انکوائری چل رہی ہے۔ سندھ ہوم ڈپارٹمنٹ سے بھی انکوائری ہو رہی ہے۔

پی ٹی آئی رہنما صداقت عباسی نے کمیٹی کو بتایا کہ اسلام آباد میں جتنا نقصان ہوا پولیس کے ایکشن کے ری ایکشن میں ہوا۔ انہوں نے کہا کہ جب عدالت نے اجازت دے دی تھی تو پولیس نے کس کے حکم سے عوام پر آنسو گیس کی بارش کی۔ پارلیمنٹرین پر لاٹھی چارج کیا گیا۔پولیس نے قانون سے بالا تر ہو کر کام کیا اس کی انکوائری ہونی چاہئے۔ سینیٹر فلک ناز چترالی نے کہا کہ 25 مئی کو اسلام آباد مقبوضہ کشمیر کا منظر پیش کر رہا تھا۔ وہ پولیس کی آنسو گیس سے میں بے ہوش گئی تھی۔میرا دس سال کا بچہ گھر پر اکیلا تھا مگر مجھے پارلیمنٹ جانے کی اجازت نہیں دی گئی ساری رات سڑک پر گزاری۔ میرا بچہ ٹراما میں ہے ابھی تک وہ نارمل نہیں ہوا۔ اسلام آباد پولیس نے بہت زیادہ شیلنگ کی تھی اور خود درختوں کو آگ لگائی جس کی ویڈیوز موجود ہیں۔ سینیٹر سیمی ازدی نے کہا کہ آگ لگانے والے بندے کو ہمارے لوگوں نے پکڑا بھی تھا جو پٹرول چھڑک کر آگ لگا رہا تھا۔ آر پی او روالپنڈی نے بتایا پنڈی ریجن میں کوئی پبلک پراپرٹی کا نقصان نہیں ہوا اورجن لوگوں کوپکڑا گیا تھا انہیں چھوڑ دیا گیا۔آئی جی اسلام آباد نے کہا کہ ہم سب کو قانون کے مطابق کام کرنا چاہئے آزادی مارچ کے حوالے سے معاملہ عدالت میں ہے اور جن لوگوں نے قانون کے خلاف کام کیا ہے اُن کے خلاف شفاف انکوائری کرائی جائے گی۔
سینیٹر فوزیہ ارشد نے کہا کہ گزشتہ کئی ماہ سے ڈی چوک اور نادرا چوک اسلام آباد کو بلا جواز بند کر کے سرکاری ملازمین اور عام عوام کی مشکلات میں اضافہ کر دیا گیا ہے عوام کو ریلیف دینا چاہئے سیکورٹی کی وجہ بتا کر آئے دن سڑکیں بلاک کرنا مناسب نہیں۔ قائمہ کمیٹی نے فوری طور پر ڈی چوک اور نادرا چوک کو کھولنے کی ہدایت کر دی۔ سینیٹر فوزیہ ارشد نے کہا کہ ملک میں جو مہنگائی کا طوفان آیا ہے اس کی بدولت پورے ملک اور خاص طور پر وفاقی دارلحکومت اسلام آباد میں چوری ڈکیتی کے واقعات میں ہوش ربا اضافہ ہو چکا ہے۔ اسلام آباد پولیس مختلف علاقوں میں نہ صرف اپنی نفری میں اضافہ کرے بلکہ پولیس گشت میں بھی اضافہ کر کے ان مسائل کے تدارک کرے۔

قائمہ کمیٹی کے آج کے اجلاس میں قائد حز ب اختلاف سینیٹ سینیٹر ڈاکٹر شہزاد وسیم، سینیٹرز ثمنیہ ممتاز زہری، رانا مقبول احمد، شہادت اعوان، فوزیہ ارشد، سرفراز احمد بگٹی، دلاور خان، شبلی فراز، ولید اقبال، فلک ناز، سیمی ازدی کے علاوہ اسپیشل سیکرٹری داخلہ، اسپیشل سیکرٹری ہوم سندھ، اسپیشل سیکرٹری ہوم پنجاب، ڈی سی اسلام آباد، آر پی او راولپنڈی، ایڈیشنل آئی جی کراچی، ایڈیشنل کمشنر اسلام آباد اور آن لائن پر سابق صوبائی وزیر ڈاکٹر یاسمین راشد، صوبائی ممبر اسمبلی حلیم عادل، ایس پی لاہور، اے آئی جی میر پور اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ *

"معیشت کی حالت اور سالانہ بجٹ” کے موضوع پر سینیٹ اراکین کا سیمینار،اطلاعات کے مطابق سینیٹ آف پاکستان اور یورپی یونین کے فنڈڈ پروجیکٹ "مستحکم پاکستان” نے مشترکہ طور پر "معیشت کی حالت اور سالانہ بجٹ” کے موضوع پر سینیٹ کے اراکین کے لیے ایک سیمینار آج پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد کیا۔ مالیاتی اور اقتصادی ماہرین نے سینیٹرز کو این ایف سی کے تحت وسائل کی تقسیم، قرضوں کے انتظام کے مسائل اور رکاوٹوں، پاکستان کی معیشت کو درپیش اہم اقتصادی چیلنجوں، وفاقی بجٹ میں آئینی شقوں اور مالیاتی نگرانی کے حوالے سے پالیسی سفارشات کے بارے میں بریفنگ دی۔

سینیٹرز نے پاکستان کی مجموعی اقتصادی صورتحال اور مالیاتی بحران پر قابو پانے کے لیے بجٹ تجاویز کے متعلق اپنے سوالات پیش کیے۔ ڈپٹی چیئرمین سینیٹ مرزا محمد آفریدی نے سیمینار کو انتہائی اہم سرگرمی قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ مالیاتی حالات اور قرضوں کی صورتحال پر قابو پانے کے لیے طویل المدتی منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔

مرزا محمد آفریدی نے کہا کہ "ہمیں چھوٹے کاروباروں کو سپورٹ کرنا چاہیے۔ میکرو اور مائیکرو اکنامک عوامل کا جائزہ لینا ضروری ہے۔ ہمیں سوچنے کی ضرورت ہے کہ قوم کی تعمیر کیسے کی جائے۔ سینیٹ کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا”.

سیمینار میں سینیٹرز، ہدایت اللہ خان، دوست محمد خان، دنیش کمار، عمر فاروق، ولید اقبال، افنان اللہ خان، سید صابر شاہ، بہرامند خان تنگی، محمد عبدالقادر، فدا محمد، سیکرٹری سینیٹ، قاسم صمد خان اور ایگزیکٹو ڈائریکٹر PIPS نے شرکت کی۔