fbpx

چیئرمین سینیٹ انتخابات کے خلاف انٹرا کورٹ اپیل پر سماعت کب تک ہوئی ملتوی؟

چیئرمین سینیٹ انتخابات کے خلاف انٹرا کورٹ اپیل پر سماعت کب تک ہوئی ملتوی؟

یوسف رضا گیلانی کی چیئرمین سینیٹ کے انتخابات کے خلاف انٹرا کورٹ اپیل پر سماعت ہوئی

گزشتہ سماعت پر عدالت نے وفاقی حکومت، صادق سنجرانی، سینیٹ سیکرٹریٹ سمیت دیگر کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کیا تھا،سماعت اسلام آباد ہائیکورٹ کے ڈویژن بنچ پر مشتمل جسٹس عامر فاروق اور جسٹس طارق محمود جہانگیری نے کی،وفاق کی جانب سے اٹارنی جنرل خالد جاوید خان عدالت میں پیش ہوئے یوسف رضا گیلانی کی جانب سے فاروق ایچ نائیک عدالت میں پیش ہوئے

فاروق ایچ نائیک نے عدالت میں کہا کہ سنگل بنچ نے سینیٹ الیکشن سے متعلق درخواست خارج کی تھی،سنگل بنچ نے متعلقہ فورم سے رجوع کا حکم سنایا تھا،ڈویژن بنچ 12 مارچ کے چیئرمین سینیٹ کے انتخابات کالعدم قرار دے، عدالت چیئرمین سینیٹ کے 12 مارچ کا نوٹیفکیشن معطل کرے،12 مارچ دو ہزار اکیس کو سینیٹ چیئرمین کے انتخابات منعقد ہوئے،2 مارچ کو یوسف رضا گیلانی بطور ممبر سینیٹ منتخب ہوا، چیئرمین سینیٹ کے انتخابات میں دھاندلی کی گئی،

فاروق ایچ نائیک نے بنگلہ دیشی عدالت اور لندن عدالت سمیت سپریم کورٹ کے ججمنٹ عدالت میں جمع کرائے، یوسف رضا کے وکیل فاروق ایچ نائیک کے دلائل مکمل ہو گئے،آئندہ سماعت پر دیگر فریقین کے وکیل دلائل دیں گے،عدالت نے سماعت 10 جون تک ملتوی کر دی،

یوسف وضا گیلانی نے عدالتی فیصلے کے خلاف انٹرا کورٹ اپیل دائر کی ہے، اپیل یوسف رضا گیلانی کے وکیل نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر کی،اپیل میں کہا گیا کہ ہائیکورٹ کے سنگل بینچ نے دوران سماعت حقائق کا جائزہ نہیں لیا،غیر قانونی عمل کی تشریح عدالتیں کر سکتی ہیں،عدالت کا کام ہے کہ غیر قانونیت پر نعم البدل فراہم کرے،ایسے مقدمات میں عدالت نے ووٹرکی نیت کو پرکھنا ہوتا ہے،انٹرا کورٹ اپیل منظور اور سنگل بینچ کا فیصلہ مسترد کیا جائے یوسف رضاگیلانی نے پریذائیڈنگ افسرکی جانب سے 7ووٹ مسترد کیے جانے کا فیصلہ چیلنج کیا تھا

واضح رہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے چیئرمین سینیٹ کو ہٹانے کی درخواست نا قابل سماعت قرار دے کر مسترد کردی تھی۔ چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے یوسف رضا گیلانی کے وکیل فاروق ایچ نائیک کے دلائل مکمل ہونے پر فیصلہ محفوظ کرلیا تھا عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ یہ پارلیمنٹ کا معاملہ ہے اور آرٹیکل 69 کے تحت پارلیمان کی کارروائی کو تحفظ حاصل ہے اس لیے اسلام آباد ہائیکورٹ اس معاملے میں کوئی ڈائریکشن جاری نہیں کرسکتی

چیئرمین سینیٹ الیکشن کے نتائج، پیپلز پارٹی کا یوٹرن،زرداری حکومت پر نہیں بلکہ اپوزیشن پر بھاری رہے

چیئرمین سینیٹ الیکشن نتائج، پی ڈی ایم کے لئے بری خبر

کاش حکومتی پیشکش مان لی ہوتی تو ڈپٹی چیئرمین سینیٹ ہمارا ہوتا،مولانا کا نواز اور زرداری کو فون

اک زرداری سب پر بھاری،آج واقعی ایک بار پھر ثابت ہو گیا

مبارک ہو، راہیں جدا ہو گئیں مگر کس کی؟ شیخ رشید بول پڑے

ن لیگ دیکھتی رہ گئی، یوسف رضا گیلانی کو بڑا عہدہ مل گیا

گیلانی کے ایک ہی چھکے نے ن لیگ کی چیخیں نکلوا دیں

بلاول میرا بھائی کہنے کے باوجود مریم بلاول سے ناراض ہو گئیں،وجہ کیا؟

ندیم بابر کو ہٹانا نہیں بلکہ عمران خان کے ساتھ جیل میں ڈالنا چاہئے، مریم اورنگزیب

ن لیگ بڑی سیاسی جماعت لیکن بچوں کے حوالہ، دھینگا مشتی چھوڑیں اور آگے بڑھیں، وفاقی وزیر کا مشورہ

مجھے کیوں نکالا…..کس کس جماعت کو پی ڈی ایم سے نکال دیا گیا؟

سینیٹ اجلاس ،پہلے خطاب میں یوسف رضا گیلانی کا حکومت کا ساتھ دینے کا اعلان،مولانا، مریم پریشان

سینیٹ میں خفیہ کیمرے لگنے پر چیئرمین سینیٹ کا بڑا اعلان،ن لیگ کے مطالبے پر پی پی کا ہنگامہ

آپ ایوان کا ماحول ٹھیک کرائیں، زبان ہمارے پاس بھی ہے،سینیٹ میں گرما گرمی

واضح رہے کہ چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے الیکشن میں صادق سنجرانی اور مرزا آفریدی منتخب ہو چکے ہیں جبکہ پی ڈی ایم کو شکست ہوئی ہے، چیئرمین کی سیٹ پر پی ڈی ایم نے نتایج کو چیلنج کر دیا ہے