نیب کے کن شعبہ جات کو مزید فعال کیا جا رہا ہے،چئیرمین نیب نے بتا دیا

اسلام آباد: :قومی احتساب بیورو کے چیئرمین جسٹس جاوید اقبال کی صدارت میں نیب میں اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا۔اجلاس میں حسین اصغر، ڈپٹی چیئرمین نیب،سید اصغر حیدر، پراسیکیوٹر جنرل اکاونٹبلیٹی،ظاہر شاہ، ڈی جی آپریشنزنیب جبکہ نیب کے تمام علاقائی بیوروز کے ڈائریکٹرز جنرلز نے بذریعہ ویڈیو لنک شرکت کی۔اجلاس میں نیب کی مجموعی کاردکردگی کا جائزہ لیا گیاور اس پر اطمینان کا اظہار کیا گیا۔

چیئر مین نیب جاوید اقبال نے کہا ہے کہ میگاکرپشن کیسز کو منطقی انجام تک پہنچانا نیب کی اولین ترجیح ہے۔ نیب کی کارکرگی کو مزید بہتر بنانے کے لئے آپریشن اور پراسیکیوشن کے شعبوں کو مز ید فعال بنایا گیا ہے۔ چیئرمین نیب نے کہا کہ نیب کو 2019 میں53 ہزار 643 شکایات موصول ہوئیں جن میں سے 42 ہزار 760 کو نمٹا دیا گیا ہے جبکہ 2018 میں نیب کو 48 ہزار 591 شکایات موصول ہوئیں

جن میں سے 41 ہزار 414 کو نمٹایا گیا۔ شکایات میں اضافہ سے نیب پر عوام کے اعتماد کا اظہارہوتا ہے۔ نیب نے 2019 کے دوران 1308 شکایات کی جانچ پڑتال کی، 1686 انکوائریوں اور 609 انویسٹی گیشن کو نمٹایا جبکہ نیب کے مقدمات میں مجموعی سزا کی شرح 68.8 فیصد ہے جو کہ دنیا میں وائٹ کالر کرائمز کے مقدمات میں شاندار کامیابی ہے

اجلا س کے دوران ملک بھر کی مختلف فاضل احتساب عدالتوں میں نیب کے زیر سماعت ریفرنسز کا بھی جائزہ لیا گیا اور اس بات کا فیصلہ کیا گیا کہ نیب کے آپریشنز اور پراسیکیوٹر ڈویژنزنیب کے مقدمات کی ٹھوس شواہد، مستند دستاویزات اور گواہوں کے بیانات کی روشنی میں پوری تیاری کے ساتھ قانون کے مطابق پیروی کریں گے۔ اس کے علاوہ شکایات کی تصدیق، انکوائریوں، اور انوسٹی گیشنز کے معیار کو مزید بہتر بنانے کا جائزہ لیا گیا۔ نیب کے انوسٹی گیشن آفیسرز اور پراسیکیوٹرز کی صلاحیتوں کو عصر حاضر کے تقاضوں کے عین مطابق بنانے کیلئے مختلف شارٹ کورسزماہر اور تجربہ کار ماہرین کی زیر نگرانی ترتیب دینے کا فیصلہ کیا گیا۔

چیئرمین نیب نے کہا کہ مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (سی آئی ٹی) تمام شکایات کی جانچ پڑتال،انکوائریاں اور انوسٹی گیشنز تجربہ کار اور سینئر سپروائزی افسران کی اجتماعی دانش سے استفادہ کرتے ہوئے منطقی انجام تک ٹھوس شواہد اور مستند دستاویزات کی بنیاد پر منطقی انجام تک پہنچائی جائیں۔چئیرمین نیب کی ہدایت پر نیب ہیڈ کوارٹر اور تمام علاقائی بیوروز کی کارکردگی کی موثر نگرانی اور جائزہ لیا جائے گا تا کہ نیب کے علاقائی بیوروز کی کا رکردگی کے مسلسل جائزہ کے نتیجے میں مناسب قانونی رہنمائی فراہم کی جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ نیب کے اس وقت 1230بدعنوانی کے ریفرنسز ملک کی معزز احتساب عدالتوں میں زیر سماعت ہیں جن کی پیروی کے لئے انوسٹی گیشن آفیسرز،پراسیکیوٹرز متعلقہ ڈی جیز کو زیر نگرانی اپنی کارکردگی کو مزید موثر بنائیں اور بد عنوان عناصر سے قوم کی لوٹی گئی رقوم بر آمد کر کے قومی خزانہ میں جمع کروانے میں اپنا قومی فریضہ احسن طریقہ سے سر انجام دیں۔ چئیرمین نیب نے کہا کہ نیب کی کارکردگی کو معتبر قومی اور بین الا قوامی اداروں نے جہاں سراہا ہے وہاں نیب کو مبینہ بد عنوانی سے متعلق موصول ہونے والی شکایات میں اضافہ عوام کے نیب پر اعتماد کا مظہر ہے۔۔انہوں نے کہا کہ نیب کا ایمان کرپشن فری پاکستان ہے۔نیب افسران کسی پراپیگنڈہ، پریشراوردھمکی کو خاطر میں لائے بغیر قانون کے مطابق زیرو ٹالرینس کی پالیسی پر سختی سے عمل کریں۔نیب ایک انسان دوست ادارہ ہے۔اس لئے نیب میں آنے والے ہر شخص کی عز ت و احترام کو یقینی بنایا جائے،اس سلسلہ میں کسی کوتاہی کو بر داشت نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ نیب راولپنڈی میں فرانزک سائنس لیبارٹری قائم کی گئی ہے۔ جس میں ڈیجیٹل فرانزک، سوالیہ دستاویزات اور فنگر پرنٹ کے تجزیئے کی سہولت ہے۔ 2019میں 50 مقدمات میں اس لیبارٹری میں 15 ہزار 747 سوالیہ دستاویزات، 300 انگوٹھوں کے نشانات سمیت 74 ڈیجیٹل ڈیوائسز (لیب ٹاپس، موبائل فونز، ہارڈ ڈسک وغیرہ) کا تجزیہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیب سارک اینٹی کرپشن فورم کا چیئرمین ہے۔ نیب سارک ممالک کے لئے رول ماڈل کی حیثیت رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیب ملک میں انسداد بدعنوانی کا ادارہ ہے جس نے چین کے ساتھ سی پیک کے منصوبوں کے تناظر میں مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کیے ہیں۔

اس سے دونوں ممالک کے درمیان معاشی و تجارتی تعاون میں اضافہ کے پیش نظر بدعنوانی سے پاک ماحول فراہم کرنے میں مدد ملے گی اور بدعنوانی کے خاتمے کے لیے ایک دوسرے کے تجربات سے مستفید ہونے کا موقع ملے گا۔ انہوں نے نیب کے ریجنل بیوروز کو ہدایت کی کہ وہ ٹھوس شواہد اور قانون کے مطابق شکایات کی جانچ پڑتال کریں، انکوائریاں اور انویسٹی گیشن نمٹائیں تاکہ بد عنوان عناصر کے خلاف تحقیقات کو قانون کے مطابق منطقی انجام تک پہنچایا جاسکے-

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.