fbpx

چیئرمین واپڈا کا دیا مر بھاشا ڈیم پراجیکٹ کا دورہ، مختلف سائٹس پر تعمیراتی کام کا جائزہ لیا

اسلام آباد:چیئرمین واپڈا لیفٹیننٹ جنرل سجاد غنی (ریٹائرڈ) نے چلاس شہر سے 40 کلو میٹرزیریں جانب دریائے سندھ پر زیر تعمیر دیا مر بھاشا ڈیم کا دورہ کیا۔ڈی جی ایف ڈبلیو او میجر جنرل کمال اظہر بھی دورے میں اُن کے ہمراہ تھے۔ چیف ایگزیکٹو آفیسر دیا مر بھاشا ڈیم کمپنی،، چیف ایگزیکٹو آفیسردیا مر بھاشا کنسلٹنٹس گروپ اور تعمیراتی کمپنیوں پاور چائنا اور ایف ڈبلیو او کے نمائندے بھی اِس موقع پر موجود تھے۔

چیئرمین واپڈا نے ڈائی ورشن ٹنل، ڈائی ورشن کینال، مین ڈیم اور زیر تعمیر پل سمیت منصوبے کی مختلف سائٹس پر تعمیراتی کام کا جائزہ لیا۔ قبل ازیں پراجیکٹ انتظامیہ نے بریفنگ کے دوران چیئرمین واپڈا کو دیا مر بھاشا ڈیم کے اہداف اور منصوبے پر تعمیراتی کام کی پیش رفت کے بارے میں آگاہ کیا۔ چیئرمین کو بتایا گیا کہ دیا مر بھاشا ڈیم کی تکمیل کے لئے 2029ء کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ چیئرمین نے پراجیکٹ ٹیمز پر زور دیا کہ اس منصوبے کو جلد مکمل کیا جائے

یہ بات قابل ذکر ہے کہ دیا مر بھاشا ڈیم ایک کثیرالمقاصد منصوبہ ہے۔ جس میں پانی ذخیرہ کرنے کی مجموعی صلاحیت 8.1ملین ایکڑ فٹ ہوگی۔ ڈیم میں ذخیرہ کئے گئے پانی سے 1.23ملین ایکڑ اراضی سیراب ہوگی۔ پراجیکٹ کی بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت ساڑھے4ہزار میگاواٹ ہے اور اِس منصوبے سے نیشنل گرڈ کو ہر سال اوسطاً 18 ارب یونٹ کم لاگت اور ماحول دوست بجلی مہیا کی جائے گی۔

پراجیکٹ ایریا میں مقامی لوگوں کی فلاح و بہبود کے لئے 78 ارب 50کروڑ روپے خرچ کئے جارہے ہیں۔ منصوبے پر اِس وقت 4 ہزار 100 مقامی لوگوں کو روز گار فراہم کیا جا چکا ہے جبکہ آنے والے دنوں میں منصوبے پر تعمیراتی سرگرمیوں میں اضافہ ہوگا اور مقامی لوگوں کو روز گار کے مزید مواقع مہیا ہوں گے۔

صحافیوں کے خلاف مقدمات، شیریں مزاری میدان میں آ گئیں، بڑا اعلان کر دیا

سرکاری زمین پر ذاتی سڑکیں، کلب اور سوئمنگ پول بن رہا ہے،ملک کو امراء لوٹ کر کھا گئے،عدالت برہم

جتنی ناانصافی اسلام آباد میں ہے اتنی شاید ہی کسی اور جگہ ہو،عدالت

اسلام آباد میں ریاست کا کہیں وجود ہی نہیں،ایلیٹ پر قانون نافذ نہیں ہوتا ،عدالت کے ریمارکس