fbpx

چلتی ٹرین میں خاتون سے زیادتی کا ایک اور مبینہ واقعہ

چلتی ٹرین میں خاتون سے زیادتی کا ایک اور مبینہ واقعہ سامنے آگیا

کراچی سے راولپنڈی جانے والی ٹرین فیصل آباد میں رکی،خاتون نے ریلوے پولیس کو سٹیشن پر شکایت درج کروائی کہ راستے میں دو اہلکاروں نے زبردستی اجتماعی زیادتی کی ہے ،ریلوے پولیس نے دونوں اہلکاروں کو حراست میں لے کر تحقیقات شروع کر دی ہیں ،وزیر ریلوے نے بھی واقعہ کا نوٹس لے لیا ہے اور رپورٹ طلب کر لی ہے، ریلوے پولیس کا کہنا ہے کہ دونوں ملزمان پولیس کی تحویل میں ہیں، اور تحقیقات جاری ہیں، دوسری جانب یہ بھی کہا جا رہاہے کہ خاتون بغیر ٹکٹ سفر کر رہی تھی جب اسے ٹکٹ کا کہا گیا تو خاتون نے الزام لگا دیا، خاتون کا کہنا ہے کہ سرکاری عملے نے سیکورٹی کا نشانہ بنایا، خاتون نے ون فائیو پر کال کی تھی، گرفتار ملزمان کے مطابق خاتون سے ٹکٹ مانگا گیا، وہ نہیں تھا، اسکے بعد خاتون کو ٹکٹ لینے کا کہا گیا تو اس نے زیادتی کا الزام لگا دیا

پاکستان ریلوے کی جانب سے کہا گیا ہے کہ سر سید ایکسپریس کے حوالے سے خاتون سے مبینہ زیادتی کا ایک واقعہ میڈیا میں رپورٹ کیا گیا۔ خاتون کا میڈیکل کروا لیا گیا ہے۔ ابتدائی رپورٹ میں زیادتی کے شواہد نہیں ملے۔

ترجمان پاکستان ریلوے کے مطابق 30 جون بروز جمعرات مسماۃ ف بی بی سکنہ لانڈھی کراچی، ریلوے اسٹیشن روہڑی سے سرسید ایکسپریس پر راولپنڈی جانے کیلئے اکیلی بلا ٹکٹ سوار ہوئیں۔ ٹرین جب ریلوے اسٹیشن خانیوال سے روانہ ہوئی تو مذکورہ خاتون نے 15 پر کال کرکے بتایا کہ اسکے ساتھ ٹرین کے عملہ نے زیادتی کی ہے۔اس پر پاکستان ریلوے کا سیکیورٹی سٹاف فوراً ڈبے میں خاتون کے پاس پہنچا اور مسماۃ ف کو لیڈی کانسٹیبلان کی زیر حفاظت تھانہ ریلوے پولیس فیصل آباد لے آیا۔ مسماۃ ف کی نشاندہی پر سرسید ایکسپریس کے دو پرائیویٹ ملازمین کو بھی حراست میں لے لیا گیا. تاہم ٹرین کے مسافروں نے دریافت پر ایسے کسی بھی وقوعہ سے لا علمی کا اظہار کیا اور بتایا کہ مدعیہ آزادانہ طور پر ٹرین میں چل پھر رہی تھیں۔ گواہان کے نام و پتہ اور موبائل نمبر نوٹ کئے گئے اور مدعیہ کی نشاندہی پر ٹرین کے واش روم/ جائے وقوعہ کا بھی ملاحظہ کیا گیا ہے اور کسی قسم کی کوئی شہادت دستیاب نہ ہوئی ہے۔ مدعیہ کا میڈیکل کروایا گیا جس کی ابتدائی رپورٹ میں زیادتی کے شواہد نہیں ملے

واضح رہے کہ اس سے قبل بھی ایک ایسا ہی واقعہ پیش آیا تھا،جس پروزیراعظم شہباز شریف نے واقعہ کا نوٹس لیا تھا اور ملزم کی جلد گرفتاری کا حکم دیا تھا،

درج ایف آئی آر کے مطابق خاتون کو شوہر نے ڈیڑھ ماہ قبل طلاق دی، خاتون بچوں سے ملنے کے لئے مظفر گڑھ آئی تھی، 26 مئی کو وہ مظفر گڑھ پہنچی اور 27 مئی کو مظفر گڑھ سے کراچی زکریا ایکسپریس کے ذریعے واپس روانہ ہوئی، خاتون کواسٹیشن سے سیٹ نہیں ملی تا ہم خاتون نے اکانومی کلاس کا ٹکٹ بنوا کر سفر کا آغٍاز کر دیا،ٹرین جب روہڑی پہنچی تو ٹکٹ چیک کرنے والے ٹرین کے ملازم زاہد نے خاتون سے کہا کہ وہ اس کو اے سی والی بوگی کی برتھ میں سفر کروا سکتا ہے، اس کے بعد زاہد نے عاقب سے ملوایا اور خاتون کو اے سی والی بوگی میں سفر کرنے کی اجازت دے دی گئی، کچھ لمحوں بعد زاہد آیا اور اس نے خاتون کے ساتھ زیادتی کی کوشش کی، خاتون نے وہاں سے اکانومی کلاس میں جانے کی کوشش کی تو اسے مارنے کی دھمکی دی گئی، خاتون کو زاہد نے زیادتی کا نشانہ بنایا،بعد ازاں عاقب آیا اور اس نے بھی خاتون کے ساتھ زبردستی گھناؤنا کام کیا ، اسکے بعد ایک اور شخص آیا جس کی شناخت نہیں ہو سکی اس نے بھی خاتون کو زیادتی کا نشانہ بنایا،خاتون جب کراچی پہنچی تو اس نے پولیس کو زیادتی کے بارے میں آگاہ کیا، تھانہ ریلوے پولیس کراچی سٹی نے ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کرلیا ہے تا ہم ملزمان فرار ہو گئے تھے

سال 2020 کا پہلا چائلڈ پورنوگرافی کیس رجسٹرڈ،ملزم لڑکی کی آواز میں لڑکیوں سے کرتا تھا بات

سائبر کرائم ونگ کی کاروائی، چائلڈ پورنوگرافی میں ملوث تین ملزمان گرفتار

سائبرکرائم کے ملزم پکڑنے کیلئے ہمارے پاس یہ چیز نہیں،ڈائریکٹر سائبر کرائمز نے ہاتھ کھڑے کر دیئے

پاکستان میں سائبر کرائم میں مسلسل اضافہ،ہراسمنٹ کی کتنی شکایات ہوئیں درج؟

لینڈ مافیا کے ساتھ ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ کی ملی بھگت،عدالت کا بڑا حکم

سات سالہ گھریلو ملازمہ کو استری سے جلانے پر ملزمان میاں بیوی گرفتار