fbpx

چمڑی جائے پر دمڑی نہ جائے تحریر: علی خان

@hidesidewithak

جب بھی عوامی مسائل  اور ترقی نہ  ہونے کی بات ہوتی ہے تو کرپشن کو اسکا ذمہ دار ٹھہرایا جاتا ہے۔ ہر دور حکومت میں ماضی کے حکمرانوں ، بیوروکریٹس اور صنعت کاروں اور تاجروں پر بدعنوانی اور فراڈ کے الزامات لگتے ہیں لیکن  صدقے جائیے ہمارے نظام انصاف کے کہ آج تک کوئی بھی الزام ثابت نہیں ہوسکا۔ الزام ثابت بھی ہوجائے تو  مجرم پوری ڈھیٹائی سے  اس وقت تک اپنے  بے گناہ ہونے کا ڈھنڈورا پیٹتا ہے  جب  تک کوئی  دوسری حکومت برسراقتدار نہیں آجاتی یا ادارہ احتساب سے ڈیل نہیں ہوجاتی۔  سیاستدانوں کے لیےمعاملہ زیادہ آسان ہوتا ہے کہ انہیں پانچ یا دس سال کے وقفے سے اقتدار دوبارہ مل جاتا ہے اور ان کا لوٹ کا پورا مال ہی بچ جاتا ہے

آج کل اپنے سنہری دور کے انتظار  کرنے والے سیاستدانوں میں 35 سال اقتدار کے مزے لوٹنے والے 3 بار کے وزیراعظم میاں نواز شریف صاحب  بھی شامل ہیں۔ میاں صاحب پر پاناما پیپر اسکینڈل کے بعد  کیس چلنا شروع ہواتو انکے وکلاء کی جانب سے بار بار پینترے بدلے گئے۔ میاں صاحب نے دادا سے جائیداد براہ راست بچوں کو منتقل ہونے کا موقف اپنایا تو کہانی میں قطری خط اور کیلبری فونٹ جیسے متعدد جھول واضح ہوئے، میاں نواز شریف کے تمام اہل خانہ کی جانب سے متضاد موقف نے معاملے میں کچھ نہ کچھ کالا ہونے کو پریقین کردیا۔ مریم نواز کی جانب سے جائیداد نہ ہونے کا بیان پھر لندن فلیٹس کی ملکیت کا ثابت ہونا یا پھر حسن اور حسین نواز کی جانب سے کیس کی پیروی سے یہ کہہ کر فرار کہ ہم برطانوی شہری ہیں ہم پر کیس نہیں چل سکتا۔ 

قوم کے ساتھ اس سے بڑا مذاق کیا ہوسکتا ہے کہ والد 3 بار ایک ملک پر حکمرانی کریں اور مزید کی خواہش رکھتے ہوں لیکن بچوں کی جانب سے اسکے قوانین ماننے سے ہی انکار کیا جائے۔ میاں صاحب خود بھی جب  جیل میں سزا نہ کاٹ سکے تو ایک نامعلوم بیماری میں مبتلا ہوگئے جس میں  انکی جان کو خطرہ لاحق ہوا اور دن تک گنے جانے لگے۔ پاکستان سے باہر چار ہفتے علاج  کے لیے جانے والے نواز شریف صاحب انہی فلیٹس میں  قریباً ایک سال سے مقیم ہیں جن کے بارے میں انکا پورا خاندان  متضاد بیانات دیتا رہا ۔ انہی فلیٹس کے لیے میاں صاحب کے بچوں نے مادر وطن سے لاتعلقی کا اعلان کیا اور اس مبینہ غبن کے ماسٹر مائنڈ اسحاق ڈار اور میاں صاحب کے  قریبی عزیز بھی مختلف کیسوں میں مطلوب اور لندن میں بیٹھ کر ملک کا درد جتا رہے ہیں

میاں صاحب پر یہ مثال  "چمڑی جائے پر دمڑی نہ جائے” بالکل صادق آتی ہے۔ نواز شریف صاحب  ان فلیٹس اور لندن میں انکشاف کردہ دیگر جائیدادوں کے لیے اتنی ذلالت جھیل چکے ہیں  لیکن اس بے نامی، مشکوک اور مبینہ طور پر قومی خزانے کی لوٹ سے بنائی جائیداد  کو چھوڑنے پر راضی نہیں۔  میاں صاحب اس  کوشش میں  وطن عزیز کے خلاف واہیات زبان استعمال کرنے والے افغان حمد اللہ محب سے ملتے ہیں تو انکی صاحبزادی ریاستی اداروں کے خلاف مسلسل بیان بازی میں مصروف ہیں۔ ہر موقعے پر ریاست مخالف بیانیہ اپنانے سے انکے سگے بھائی شہباز شریف بھی ان سے دوری اختیار کرتے جارہے ہیں لیکن میاں صاحب کی سمجھ اور فہم صرف اپنا لوٹ کا مال بچانے تک محدود ہے۔ اپنے کیسوں میں میرٹ کی بجائے طبی بنیادوں پر ضمانت حاصل کرنا اور دوسرے ملک  میں بیٹھ کر حب الوطنی کے دعوے میل نہیں کھاتے۔ میاں صاحب اس ملک نےآپکو عزت دی اور سب سے بڑی مسند پر فائز کیا۔ دل بڑا کریں اور اس دولت  کو ملک و قوم کے نام کرکہ وطن سے محبت کا حقیقی ثبوت دیں۔ حب الوطنی کے نعرے ایک بات ہے  اور ان کا عملی مظاہرہ دوسری۔ عمل کا وقت قریب ہے ورنہ قوم یہ سوچنے میں حق بجانب ہے کہ جو شخص دولت بچانے کے لیے ملک دشمنوں سے میل ملاقات رکھ سکتا ہے تو اسکی حب الوطنی پر یقین بے وقوفی ہے

Facebook Notice for EU! You need to login to view and post FB Comments!