چند باتیں سماجی تنہائی اور ہماری گھریلو زندگی کے بارے میں از قلم : محمد عتیق ، فیصل آباد

چند باتیں سماجی تنہائی اور ہماری گھریلو زندگی کے بارے میں
از قلم : محمد عتیق ، فیصل آباد

یہ تحریر صرف عامی افراد کے لیے ہے کہ خاص لوگ اس وقت کرونا جیسے مرض سے نبٹنے کے لیے گھروں میں محصور ہیں اور میرے جیسے عام لوگوں جن کو حکومت گھروں میں قید کرنے کے لیے سکیورٹی اداروں کی خدمات لے رہی ہے۔Isolation اختیار کرنا حیوان ناطق کے لیے اتنا آسان کام بھی نہیں ہے۔ میرے جیسے کم علم کو آج تک اس لفظ کی سمجھ ہی نہیں آرہی تھی آج جب پٹاری کھولی تو معلوم پڑا کہ یہ لفظ فرنچ زبان سے انگریزی میں آیا ہے اور فرنچ میں بھی اطالوی زبان سے آیا ہے۔انگریزی زبان میں تو پہلے یہ فرانسیسی لفظ Isole ہی مستعمل ہوا اور پھر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ Isolated ہوگیا۔جسے اردو میں تنہائی کہا جاتا ہے اور اس وقت ساری دنیا زور دے رہی ہے کہ خود ساختہ تنہائی اختیار کرلیجیے کہ اسی میں ہم سب کی بھلائی ہے۔جب کہ ادھر تو حالت یہ ہے کہ ہمارے لوگ تنہا ہوکر بھی تنہا نہیں رہ سکتے جس کا اظہار اک شاعر نے کچھ اس طرح سے کیا ہے۔فرحت احساس کا شعر ہے

؎کسی حالت میں بھی تنہا نہیں ہونے دیتی
ہے یہی ایک خرابی مری تنہائی کی

اب دیکھیے نہ کہ یہ لفظ کتنے مراحل سے نکل کر ہم تک پہنچا ہے اب حکومتوں کا بھی فرض بنتا ہے کہ ہم پر ذرا "ہتھ ہولا” رکھیں کہ ہمیں بھی عرصہ لگے گا اس Isolation کو سمجھنے میں۔ خود ساختہ تنہائی سے امراء تو اتنے متاثر نہیں ہوے کہ ان کے کھاتے میں لاکھوں، کروڑوں بلکہ اربوں موجود ہیں۔اصل متاثرین تو سفید پوش طبقہ ہے جو موجودہ صورت حال میں نہ تو کما سکتا ہے اور نہ ہاتھ پھیلا سکتا ہے۔حکومتی امداد کے پہلے مرحلے میں تو ان کا ذکر تک نہیں ہے اور اگر آ بھی جائے تو شرم کے مارے لے گا نہیں کہ بھرم ٹو ٹ جاے گا۔ کاروبار حیات بند ہے اور لوگ دکانوں کے آدھے شٹر اٹھا کر کاروبار کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ چائے خانے جو کہ اب کیفے ٹیریا اور ٹی ہاوس میں بدل چکے تھے وہ بھی ویران ہیں۔یارانے، دوستیاں اور حتی کہ دشمنیاں بھی سماجی فاصلے قائم رکھ کر قائم رکھنے کی کوشش کی جارہی ہیں۔
مردحضرات جو کہ اس وقت گھروں میں موجود ہیں وہ اک تو نوکری سے تنگ ہیں کہ حالات ہرگزرتے دن کے ساتھ سخت ہورہے ہیں اور گھر میں وقت ہے کہ گزر ہی نہیں رہا کیوں کہ بقول کسے ”اپنی بیوی کے ساتھ صرف وقت گزرتا ہے جب کہ دوسرے کی بیوی کے ساتھ وقت بھاگتا ہے“۔ خیر یہ تو بات ازراہ مزاح آگئی۔ آج پاک بلاگرز فورم کے چیئرمین محمد نعیم شہزاد صاحب کی طرف سے فورم کے گروپ میں پیغام آیا کہ اس گروپ کی قلمی کاوش کی صلاحیت چھن چکی ہے اور خواتین کو ودیعت کردی گئی ہے وغیرہ۔۔اب چیئرمین صاحب کو کون سمجھائے کہ جی اس وقت خواتین کو ہی فراغت کے لمحات میسر ہیں۔ مردحضرات کو تو دفتری کاموں کے ساتھ امور خانہ داری بھی نبھانا پڑ رہے ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ رات گئے سوشل میڈیا پر تصاویر چڑھا کر کہا جاتا ہے کہ جی رات گئے عیاشی ہورہی ہے۔اصل میں مرد حضرات اس وقت رات کے برتن دھوکر فارغ ہوتے ہیں اور یاردوستوں کا حال احوال پوچھنے کے چکروں میں اپنی امارت ظاہر کرتے نظر آتے ہیں۔ حالاں کہ اسے "عیش” نہیں "عیش تلخ کرنا” کہہ سکتے ہیں۔ بات ہورہی تھی فورم کی جس میں اکثریت اساتذہ و طالب علموں پر مشتمل ہے اور فراغت کے اچھے خاصے لمحات بھی میسر ہیں لیکن اس کے باوجود لکھنے سے انکاری ہیں تو چیئرمین صاحب نے ہی یہ عقدہ سلجھایا کہ شادی شدہ لوگوں کی بیگمات کو عرضی بھیجی جائے جس کی سرخی کچھ یوں ہو ”درخواست بنام بیگمات معززات برائے فراہمی وقتِ تحریر بشرطِ تکمیل امورخانہ داری“ جس پر کچھ لوگوں نے ہمت باندھ کر قلم پکڑنے کی ٹھانی ہے۔ امید ہے کہ خاتون خانہ اب لکھاری احباب کو استثنا دے دیں گی تاکہ وہ دل کی بھڑاس نکال سکیں۔ اب لفظ استثنا ہی کو دیکھ لیجیے کہ اکثریت اسے ”استثنیٰ“ لکھ دیتی ہے حالاں کہ اصل لفظ استثنا ہے جس کا مطلب کسی عام حکم سے علاحدہ قرار دینے کی صورت مراد ہے۔اب دیکھیے کب احباب کو فرصت ملے اور وہ باورچی خانہ سے باہر نکل کر قلم دوات رکھ کر کاغذ پر چند لفظ لکھ بھیجیں۔ ویسے باورچی خانہ میں بھی اب توجدیدیت کی بھرمار ہوچکی ہے لفظ باورچی خانہ ہی تبدیل ہو کر کچن بن چکا ہے۔ انگریزی کا لفظ Kitchen کسی دور میں جرمن والوں سے لیا گیا تھا جو کہ انھوں نے اطالویوں سے لیا تھا۔ باقی اس لفظ پر اتنی بحث موجود ہے جتنی اماں کے ہاتھوں کھائی گئی برتنوں سے مار ہے۔ باورچی خانے کے ساتھ ہی ہمارے کئی لفظ بھی متروک ہوچکے ہیں۔ قومی و علاقائی ایسے الفاظ ہیں جن کی حالت ایسی ہے جیسے کسی طاقت ور بندے نے کسی کم زور بندے کا قرضہ واپس کرنا ہو۔ہمیں رکابی پلیٹ کی شکل میں میسر ہے،کفگیر تو عرصہ سے متروک ہوچکا ہے۔ مٹی کی سکوریاں ہوتی تھیں جو کہ ہندوستان میں اب بھی استعمال ہوتی ہیں،کُلہڑ (مٹی کا آب خورہ) ہوتا تھا، آب خورہ بھی شاید معلوم ہو آپ کو، سلفچی، آفتابہ، بادیہ، رکابی، خاص دان، کٹوری، طشتری، چنگیر تو اب بھی دیہاتوں میں چل رہی ہے، لفظ بگونہ سے تو شاید ہی کوئی واقف ہو۔ گھڑونچی بھی باورچی خانے سے متعلق تھی، صراحی خود بھی غائب ہوچکی ہے اور اب صرف صراحی دار گردنیں دیکھنے کو مل رہی ہیں یا پھر شعراء کے اشعار میں اس کا ذکر ملتا ہے جیسے کہ استاد ذوق کہتے ہیں

؎تواضع کا طریقہ پوچھو صاحبو صراحی سے
کہ جاری فیض بھی ہے اور جھکی جاتی ہے گردن بھی

لفظ قندیل بھی دیکھیے کہ اپنی اصل شکل میں کہاں سے آیا اور کہاں سے ہوتا ہوا اب متروک ہوچلا ہے۔عربی سے اردو میں اپنے اصل معنی وساخت میں داخل ہوا۔ ہمارے ہاں اک لفظ لالٹین بھی مستعمل تھا جو کہ انگریزی سے آیا ہے لیکن انگریزی میں بھی اطالوی زبان سے آیا ہے۔دست پناہ تو شاید کسی بزرگ کو ہی معلوم ہوگا۔ جدید دور کے ساتھ ساتھ اردو بھی ترقی کے زینے چڑھ رہی ہے۔ اب دیکھیے کہ اگلی نسل کتنے الفاظ مستعار لیتی ہے اور کہاں کہاں سے لیتی ہے۔
بہرحال بات ہورہی تھی اک تنظیمی بیٹھک کی جس میں سماجی فاصلے کو قائم رکھتے ہوے واٹس ایپ پر ہی بحث ہورہی تھی۔ اب یہ تو وقت ہی بتائے گا کہ کون کون قلم کو تیز کرتا ہے کیوں کہ زبانیں تو عورتوں کی تیز ہوتی ہیں۔ لکھاری تو قلم کو ہی تیز کرسکتے ہیں۔ غصہ نکالنے کے لیے اس وقت بہترین وقت موجود ہے۔فرصت کے لمحات میں قلم اٹھائیے اور قارئین پر برس پڑیں کہ قاری ہی آپ کے دکھ کو سمجھ سکتا ہے۔ ”وضاحت کردوں کہ مجھ پر مذکورہ باتیں صادق نہیں آئیں گی کیوں کہ میں اک غریب بندہ ہوں جو پیٹ کی آگ بجھانے کے لیے ہرصبح اک شہر سے دوسرے شہر نکل پڑتا ہے اور ویسے بھی جس علاقے میں مقیم ہوں وہاں قانون پر عمل کرنا روایت شکنی کے زمرے میں آتاہے۔ اور رہی بات ان لفظوں کی جو ہمیں باورچی خانے سے ملے ہیں تو عرصہ ہوا اردو زبان کی شاگردی اختیار کیے ہوے اتنا تو بنتا ہی ہے اک شاگرد کا کہ وہ کچھ لفظ اٹھا کر قاری کے سامنے رکھ دے“۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.