چند گھنٹے باقی، گلگت بلتستان میں بڑا اپ سیٹ ہونے جا رہا ہے،مریم کا بیانیہ مسترد،اہم انکشافات مبشر لقمان کی زبانی

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ 15 نومبر کو گلگت میں الیکشن ہیں،اس الیکشن میں دو باتیں سامنے آ رہی ہیں، بھارت کی طرف سے کوشش ہو گی کہ تخریب کاری کی واردات ہو جائے، جب سے حکومت نے اعلان کیا کہ گلگت کو الگ صوبہ بنانا ہے تو بھارت اور اسکے حامی لوگ جو اردگرد ہیں سب کے پیٹ میں مروڑ ہیں

دوسری بات کہ وہاں بارش متوقع ہے، اسکے بعد کیا ٹمپریچر ہو گا، اس سے پولنگ پر کافی فرق پڑے گا، تعداد گہما گہمی والی نہیں ہو گی،اسکا ایک نقصان ن لیگ اور تحریک انصاف کو ضرور ہو سکتا ہے کہ پی پی کے جو جیالے ہیں وہ کمٹڈ لوگ ہیں اور وہ اپنے ووٹ کی قیمت جانتے ہیں، مجھے لگتا ہے کہ کل کا دن پی پی کے لئے بڑا دن ہے، پیپلز پارٹی دوبارہ سے نئی تاریخ رقم کر سکتی ہے

گلگت میں پارٹیز نے بڑی ایکٹوٹیز کی، بہت زیادہ مہم ہوئی، گلگت کی عوام پر بھی آفرین ہے کہ انہوں نے بھی بھر پور حصہ لیا، سیاسی سوجھ بوجھ کا بھی مظاہرہ کیا، مریم کے لئے خوش آئند بات نہیں ، کاغذوں میں مریم تیسرے نمبر پر ہیں لیکن ایسا نہیں ہے،گلگت کی عوام نواز شریف ور مریم کے بیانئے سے متفق نہیں ہے، یہ کل پتہ چل جائے گا، وزیراعلی جو انکا تھا اس پر کافی الزامات لگے ہوئے ہیں وہ ایکسپوز ہو گئے ہیں،مریم کا بھر پور استقبال ہوا لیکن آج ویڈیوز آئے مجھے گلگت کے وہ کہتے ہیں کہ مہمان نوازی ہمارافرض، ثقافت ہے ہم ہرایک کا استقبال کرتے ہیں، مریم نواز کو اپنے جلسے شاید خود دھوکہ دے دیں،ناقدین کہتے ہیں کہ ن لیگ وہ تقریبا چار سیٹ لے سکتی ہے، میری ناقص رائے میں دو سے تین سیٹ کے بیچ میں ہی رہے گی، تیسری سیٹ احتیاطا کہہ رہا ہوں

تحریک انصاف اور پی پی میں جوڑ پڑا ہوا ہے، تحریک انصاف کے جو وہاں پر مہم لیڈ کر رہے ہیں علی امین گنڈا پور، عوام سمجھتے ہیں کہ علی امین وزیر ہیں پہلے تو گلگت آئے نہیں اب الیکشن میں آ گئے، سیف اللہ نیازی وہاں ہیں انکی سیاسی شناخت نہیں ہے،وہ لوگوں کے لئے اہم نہیں، زلفی بخاری وہاں گئے، اور جاتے ہی وعدے کر لئے، لوگ سوچنے پر مجبور ہو گئے کہ پاکستان میں جو وعدے کئے تھے وہ کتنے پورے ہوئے، انہوں نے پی پی اور ن لیگ پر الزامات لگائے کہ سب سے زیادہ نوکریاں دیں لیکن نوکریاں نظر نہیں آ رہی، گلگت میں دس مقامات سیاحتی بنائیں گے اور سب سے زیادہ نوکریاں سیاحت دیں گے ایسا نہ ہوا تو میں ذمہ دار ہوں گا، مسئلہ یہ ہے کہ وہ منتخب نہیں ہیں، تو کیسے ذمہ دار، وہ پینا ڈول پھینک رہے ہیں کہ اعتبار کرو،

بلاول زرداری سیریس مہم کر رہے ہیں اورپیپلز پارٹی نے ایک موڈ بنایا ہے، مہم چلائی ہے، بلاول کے ساتھ پی پی کے سینئر ترین لوگ بھی جاتے رہے ہیں انہوں نے صرف کارنر میٹنگ ،جلسے نہیں کئے بلکہ جوڑ توڑ میں بھی رہے، پانچ پانچ جگہوں پر ایک ایک دن میں جلسے ہوئے، پی پی بہت متحرک رہی،بلاول سمجھتے ہیں کہ آج تک ایک تاریخ ہے کہ جو حکومت وقت ہوتی ہے اسی کی حکومت گلگت میں ہوتی ہے لیکن انکا ماننا ہے کہ اسوقت فیصلہ برعکس آئے گا، بلاول نے یہاں تک کہہ دیا کہ گلگت کا الیکشن پاکستان کا منی الیکشن ہے، جس کی یہاں حکومت ہو گی وہ اسلام آباد میں حکومت بنائے گا.

تحریک انصاف میں جیتنے کی صلاحیت ہے، انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف پہلے نمبر پر ہے ، ن لیگ تیسرے نمبر پر ہے، انکے سیاسی تجزیئے اچھے ہوتے ہیں لیکن انکے تجزیئے سے اتفاق نہیں کرتا ق لیگ کے بھی 8 امیدوار ہیں، جب ووٹ تقسیم ہوتے ہیں تو پھر امیدواروں کی جیت پر کافی اثر پڑتا ہے، ق لیگ حکومتی جماعت ہے ق لیگ کو ووٹ ڈالنے کا مطلب ہے پی ٹی آئی کو ووٹ ڈالنا ،لوگ آلٹرنیٹ کو دیں گے، چار حلقے کم از کم ایسے ہیں جہاں مجلس وحدت المسلمین اور ایک اور مذہبی جماعت ہے، جماعت اسلامی کہیں نظر نہیں آ رہی، جے یو آئی ایک دو سیٹوں پر کردار ادا کر سکتی ہے،

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.