fbpx

چاند کی آکسیجن انسانوں کے لئے ایک سال تک کافی ہو گی آسٹریلوی سائنسدان

نیو ساﺅتھ ویلز: ماہرین کا کہنا ہے کہ چاند پر موجود آکسیجن دنیا کے انسانوں کے لیے ایک لاکھ سال تک کافی ہو گی-

باغی ٹی وی : نیو ساؤتھ ویلز کی سدرن کراس یونیورسٹی میں سوائل سائنس کے ماہر، جان گرانٹ کا مضمون ’’دی کنورسیشن‘‘ ویب سائٹ پر حال ہی میں شائع ہوا ہے جس میں آسٹریلوی سائنسدان نے اپنے ایک مضمون میں کہا ہے کہ چاند پر موجود مٹی، پتھروں اور چٹانوں پر اتنی آکسیجن موجود ہے کہ وہ دنیا کے آٹھ ارب انسانوں کے لیے ایک لاکھ سال تک بھی کم نہیں ہو گی –

مضمون میں کہا گیا کہ اگر سائنسدان چاند کی مٹی اور چٹانوں سے آکسیجن لے کر انسانوں کے لیے قابل استعمال بنانے کا طریقہ وضع کر لیں تو چاند پر انسانوں کی بستیاں بسائی جا سکتی ہیں۔

خلائی تحقیق میں پیشرفت کے ساتھ ساتھ، ہم نے حال ہی میں ایسی ٹیکنالوجیز میں بہت زیادہ وقت اور پیسہ لگایا ہے جو خلائی وسائل کے مؤثر استعمال کی اجازت دے سکتی ہیں اور ان کوششوں میں سب سے آگے چاند پر آکسیجن پیدا کرنے کا بہترین طریقہ تلاش کرنے پر لیزر کی تیز توجہ رہی ہے۔

اکتوبر میں، آسٹریلوی خلائی ایجنسی اور ناسا نے آرٹیمس پروگرام کے تحت چاند پر آسٹریلوی ساختہ روور بھیجنے کے لیے ایک معاہدے پر دستخط کیے، جس کا مقصد چاند کی چٹانوں کو جمع کرنا ہے جو بالآخر چاند پر سانس لینے کے قابل آکسیجن فراہم کر سکیں۔

ماہرین کے مطابق چاند پر ہوا کا تناسب نہ ہونے کا برابر ہے۔ ہوامیں زیادہ مقدار ہیلیم ، نیون اور ہائیڈروجن کی ہے۔ چاند کی سطح پر موجود مٹی، پتھروں اور چٹانوں میں آکسیجن پائی جاتی ہے لیکن یہ آکسیجن مرکبات کی شکل میں موجود ہے۔

انہوں نے کہا، حقیقت میں چاند پر آکسیجن کی کافی مقدار موجود ہے یہ صرف گیسی شکل میں نہیں ہے اس کے بجائے یہ ریگولتھ کے اندر موجود ہے چٹان اور باریک دھول کی تہہ جو چاند کی سطح کو ڈھانپتی ہے۔ اگر ہم ریگولتھ سے آکسیجن نکال سکتے ہیں تو کیا یہ چاند پر انسانی زندگی کو سہارا دینے کے لیے کافی ہوگا؟

آکسیجن ہمارے ارد گرد زمین میں موجود بہت سے معدنیات میں پائی جاتی ہے۔ اور چاند زیادہ تر انہی چٹانوں سے بنا ہے جو آپ کو زمین پر ملیں گے (حالانکہ اس سے قدرے زیادہ مواد جو الکا سے آیا ہے)۔

معدنیات جیسے سیلیکا، ایلومینیم، اور آئرن اور میگنیشیم آکسائیڈز چاند کی زمین کی تزئین پر حاوی ہیں۔ یہ تمام معدنیات آکسیجن پر مشتمل ہوتی ہیں، لیکن اس شکل میں نہیں جس تک ہمارے پھیپھڑے رسائی حاصل کر سکیں چا ند کی چٹانوں میں 45فیصد تک آکسیجن موجود ہے لیکن ان مرکبات کو توڑ کرآکسیجن کوخالص شکل میں لانے کے لیے بہت زیادہ مقدار میں توانائی صرف کرنے کی ضرورت پڑے گی۔

تاہم چاند پر توانائی کا انتظام کر کے اگر آکسیجن حاصل کرلی جائے یا کوئی ایسا طریقہ ایجاد کر لیا جائے جس سے کم توانائی کا استعمال کر کے آکسیجن کو مرکبات سے الگ کیاجاسکے تو چاند پر انسانی زندگی کا خواب پورا ہو سکتا ہے۔

مضمون میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر چاند کی سطح پر صرف 10 کلومیٹر تک کھدائی کر کے چٹانیں نکالی جائیں تو اس سے حاصل ہونے والی آکسیجن آٹھ ارب انسانوں کے لیے ایک لاکھ سال تک کافی ہوگی۔