fbpx

عمران خان پر فرد جرم عائد،خطرناک یا زہریلا:عدالت فیصلہ کرے گی :مبشرلقمان

لاہور:عمران خان پر اسلام اباد ہائی کورٹ نے فرد جرم عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اس سلسلے میں 22 ستمبر کا دن مقرر کیا ہے ، کیا یہ فرد جرم عائد کرنے سے عمران خان زیادہ خطرناک ثابت ہوں گے یا زہریلے اس کا فیصلے کے بعد پتہ چل جائے گا ، تاہم یہ طئے ہے کہ عدالت عمران خان پر فرد جرم ضرور عائد کرے گی

اس حوالے سے سنیئر صحافی مبشرلقمان نے اپنے پروگرام میں‌ آج کی سماعت کے قانونی اور عمران خان کی دھمکیوں کے اخلاقی پہلووں پرروشنی ڈالی ہے مبشرلقمان کہتے ہیں کہ عمران خان نے اسلام آباد کی ایک ماتحت عدالت کی خاتون جج زیبا کے خلاف سخت زبان استعمال کی اور پھر آئی جی اسلام آباد اور دیگرافسران کو دھمکیاں دٰیں ، ان کا کہنا تھا کہ یہ کھلم کھلا عدالتی معاملات کوثبوثاژ کرنے کی ایک کوشش ہے

مبشرلقمان آج اسلام آباد ہوئی کورٹ میں ہونے والی سماعت کےحوالےسے کہا کہ ریمارکس سے تو صورتحال پریشان کن لگ رہی تھی ، چیف جسٹس اطہر من اللہ اور ان کے ساتھ بیٹھے ہوئے جج بابر ستار نے عمران خان کی اسلام آباد کی اس تقریر کو خطرناک قرار دیا ، ان کا کہنا تھا کہ اگرعمران خان کے خلاف فیصلہ آتا ہے تو پھر کیا پھر ملک میں‌سخت ردعمل آئے گا

مبشرلقمان کہتے ہیں کہ یہ سب کچھ عمران خان کی اپنی کمائی ہے جنہوں نے انا کر خاطرعدالتوں‌ کو بھی معاف نہ کیا اور اگرفیصلہ مخالفت میں آیاا تو پھر عدالتوں پر ہی چڑھاہئی کردی ، مبشرلقمان کہتے ہیں کہ ایسا نہیں ہونا چاہیے ، ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ عمران خان تو جان بوجھ کراس معاملے کو خراب کرنےپر تلا ہوا ہے ، اس کوایسا رویہ اختیار نہیں کرنا چاہیے تھا

مبشرلقمان نے کہا کہ اج کے ریمارکس سے صورت حال واضح ہوگئی ہے کہ عدالت یہ توہین اور دھمکیاں برداشت نہیں‌کرے گی اور عمران خان کو ضرور سزا ملے گی ، ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس کے بعدپھرپاکستان اوربیرون ملک سے ایک سخت ردعمل کا بھی اندیشہ ہے جس میں عمران خان کو سپورٹ کرنے والی بیرونی قوتیں بھی شامل ہوں گی

مبشرلقمان کہتے ہیں کہ عمران خان میں نہ مانوں کی رٹ لگا رہا ہےلیکن اب ماننا پڑے گا م عمران خان آج عدالت میں پیش ہوئے ، وکلا نے دلائل دیئے لیکن عمران خان نے بجائے معذرت کرنے کے وہاں اپنے بیان سے پیچھے ہٹنے کی زحمت بھی گوارا نہیں کی ، اس کا صاف مطلب ہےکہ عمران خان پر فرد جرم عائد ہو جائے گی