fbpx

چین کے ساتھ سرحد پر صورتِ حال خطرناک ہے، بھارتی آرمی چیف کی لداخ میں بات چیت

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق بھارتی فوج کے سربراہ نے لداخ کا دورہ کیا ہے

لداخ میں چین اور بھارت کے مابین کشیدگی میں مسلسل اضافہ ہوا ہے،اسی دوران بھارتی آرمی چیف نے لداخ کا دورہ کیا،انہوں نے لداخ میں بھارتی فوج کی تیاریوں کا جازہ لیا،آرمی چیف کے دورے سے قبل بھارتی وزیر دفاع نے بھی مشرقی لداخ کا دورہ کیا تھا.

مشرقی لداخ میں ایکچوؤل لائن آف کنٹرول (ایل اے سی) پر چین کیساتھ چار مہینے سے کشیدگی جاری تھی، پچھلے ہفتے ایک بار پھراس کشیدگی میں اضافہ ہواہے،

باغی ٹی وی کو ملنے والے بھارتی فوجی ذرائع کے مطابق بھارتی فوج کے سربراہ آج صبح لداخ پہنچے جہاں انہوں نے سینئر افسروں کے ساتھ فوجی تیاریوں کا جائزہ لیا۔ ۔ انہوں نے حالات سے نمٹنے کیلئے فوج کی تیاریوں اور مستقبل کے منصوبے پر بھی تبادلہ خیال کیا .

بھارتی فوجی سربراہ نے اگلے مقام کے گراؤنڈ زیروپر کمانڈروں کے ساتھ بات چیت کی۔ فوج کے سربراہ نے لیہ کے اپنے دورے کے دوران گراؤنڈصورتحال اور آپریشنل تیاریوں کا جائزہ لیا۔

بھارت کی فوج کے سربراہ جنرل منوج نریوانے نے اس موقع پر بھارتی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ چین کے ساتھ سرحد پر صورتِ حال خطرناک ہے تاہم مذاکرات کے ذریعے سرحدی کشیدگی کا خاتمہ کیا جا سکتا ہے۔ ہمارے جوانوں کا مورال بلند ہے اور وہ کسی بھی چیلنج کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہیں۔

جنرل منوج نے کہا کہ گزشتہ دو سے تین ماہ کے دوران سرحد پر کشیدہ صورتِ حال ہے لیکن ہم عسکری اور سفارتی سطح پر چین کے ساتھ رابطے میں ہیں، چین کے ساتھ بات چیت کا عمل مستقبل میں بھی جاری رہے گا اور ہم توقع رکھتے ہیں کہ بات چیت کے ذریعے اختلافات کا حل تلاش کر لیں گے۔

بھارت نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ چینی فوجیوں نے منگل کو ایک بار پھر جارحانہ سرگرمیوں کو انجام دینے کی کوشش کی تھی۔ چین مسائل کے حل کے لئے کمانڈر سطح کے مذاکرات جاری رہنے کے باوجود اس طرح کی حرکتیں کرکے حالات کو بگاڑنا چاہتا ہے۔ اس دوران تناؤ کم کرنے اور حالات معمول پر لانے کیلئے فوجی افسروں کے درمیان کئی بات مذاکرات ہو چکے ہیں لیکن کوئی ٹھوس نتائج سامنے نہیں آئے ۔

بھارت نے چین کیساتھ سرحد میں جاری کشیدگی کے بعد مشرقی سرحد پر بھی فوجیوں کی تعداد میں اضافہ کرلیا ہے۔ دوسری جانب ھارتی اخبار دی ہندو نے انکشاف کیا ہے کہ مرکزی حکومت کو ملنے والی انٹیلی جنس معلومات کے مطابق لائن آف ایکچوئل کنٹرول کیساتھ لداخ کا تقریباً ایک ہزار مربع کلو میٹر کا علاقہ اس وقت چین کے زیر کنٹرول ہے۔ دوسری طرف چین نے انتباہی انداز میں کہا ہے کہ اگر بھارت مقابلہ کرنا چاہتا ہے تو اس کو ماضی کے برعکس زیادہ فوجی نقصان اٹھانا پڑے گا۔

خبار کے مطابق چین اپریل سے لائن آف ایکچوئل کنٹرول کیساتھ فوج جمع کرکے اپنی موجودگی کو مستحکم کر رہا ہے۔ ایک افسر نے ‘دی ہندو ’ کو بتایا کہ ڈپسانگ کے میدانی علاقے سے چوشل تک چینی فوجی منظم انداز میں غیر معینہ لائن آف ایکچوئل کنٹرول کیساتھ نقل وحرکت کر تے رہے ہیں۔

انہوں نے انکشاف کیا کہ ڈپسانگ کے میدانی علاقے میں پٹرولنگ پوائنٹ 10 سے 13 تک لائن آف ایکچوئل کنٹرول کا بھارتی حصہ 900 مربع کلو میٹر کے لگ بھگ چین کے زیر تسلط ہے۔ ان میں وادی گلوان میں 20 مربع کلو میٹر اور ہاٹ سپرنگز میں 12 مربع کلو میٹرکا علاقہ مکمل طور پر چینی قبضے میں ہے ، پینگونگ تسو جھیل کا 65 مربع کلو میٹر جبکہ چوشل میں 20 مربع کلو میٹر کا علاقہ بھی چینی کنٹرول میں ہے۔

چین نے ایل اے سی کے پاس اپنی فضائی بیس ہوٹن پر جے ایف جنگی طیارے تعینات کر دیے ہیں جو لداخ میں سرحد سے بالکل متصل مسلسل پرواز کر رہے ہیں۔

بھارت کے ایک ملٹری افسر کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ چوشل علاقے میں صورتحال بہت کشیدہ ہے۔ چینی فوجی بہت جارحانہ موڈ میں ہیں اور انڈین فوجیوں کو پیچھے ہٹانے کے لیے وہاں بھاری کیلیبر کے ہتیھار کھڑے کر دیے ہیں۔ انڈیا نے بھی چینی پیش رفت کو پسپا کرنے کے لیے سپیشل فرنٹئیر فورس تعینات کر دی ہے اور ایل اے سی کے نزدیک بھاری ہتھیار نصب کر دیے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق اس وقت دونوں ملکوں کی فوجیں تقریباً برابر کی تعداد میں اپنی اپنی پوزیشن کا دفاع کر رہی ہیں۔

لداخ میں انڈیا اور چین میں سرحدی کشیدگی، سینئر صحافی مبشر لقمان نے کیا دی تجویز

‏یہ وہ لات ہے جو ایک چینی فوجی نے لداخ میں ایک بھارتی فوجی کو تحفہ میں دی

لداخ میں چین کے ہاتھوں شرمناک شکست پر جنرل بخشی نے ایک سائیڈ کی مونچھیں کٹوا دیں

"پلیز گو بیک چائنہ” بھارتی فوج کے ترلے، بینر اٹھا لیے

جنگ کی تیاری کرو، چینی صدر کا فوج کو حکم

چائنہ نے لداخ کے قریب اپنے ایئر بیس کو مزید پھیلانا شروع کر دیا،جنگی طیارے بھی پہنچا دیئے

چین اور بھارت کے مابین بھی لداخ کے حوالہ سے کشیدگی میں اضافہ ہی ہو رہا ہے، چین نے بھارتی کرنل سمیت 20 فوجیوں کو مار دیا تھا، بھارت چین کے معاملے پر خاموش رہا،کبھی دھمکیاں بھی دیتا رہا لیکن چین بھی بھارت کو منہ توڑ جواب دیتا رہا،چین نے گھس کر بھارتی زمین پر لداخ میں قبضہ کیا جس کو تاحال بھارت چھڑا نہیں سکا،

لداخ پر پنگے بازی پر چائنہ نے بھارتی فوج کو رگڑ دیا مگر کشمیر پر ہم احتجاج سے آگے نہ بڑھ سکے

مودی سرکار کے عزائم پڑوسی ممالک کیلئے خطرہ بن چکے،وزیراعظم عمران خان

لداخ سے ذرائع کے مطابق گھس کر مارنے کی بھڑکیں مارنے والے بھارت کی آج کل بولتی بند ہے، اس کی وجہ سکم اور لداخ کی سرحد پر چینی فوج کی وہ نقل وحرکت ہے جس سے بھارتی فوج اور مودی سرکار کے ہوش اڑ گئے ہیں۔بھارتی میڈیا کے مطابق چینی افواج ڈربوک شیوک کی اہم شاہراہ سے صرف 255 کلومیٹر دور ہیں۔ بھارتی عسکری ذرائع کے حوالے سے دی گئی رپورٹ کے مطابق سرحد پر چینی افواج کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اچانک پاکستان کے ہمسایہ ملک میں ، دیکھ کر سب حیران

امریکی صدر ٹرمپ نے وزیراعظم عمران خان کوایران سے بات چیت کا مینڈیٹ دیدیا

کشمیر سے متعلق سوال پر ٹرمپ نے کیا جواب دیا؟ جان کر ہوں حیران

وزیراعظم عمران خان نے ٹرمپ سے کشمیر بارے بڑا مطالبہ کر دیا

لداخ ،کشمیر تنازعہ پر ہم بھارت کے ساتھ ہیں، امریکہ کا دوٹوک اعلان