fbpx

چینی کے نقصانات . تحریر : زارا سید

چینی کے استعمال کے نقصانات میں کینسر، موٹاپا، شوگر، سردرد، توانائی یک دم ختم ھونا اور ھارمون کا عدم توازن سرفہرست ھیں۔ جو لوگ زیادہ چینی استعمال کرتے ہیں ان میں شوگر اور موٹاپے کے ساتھ ساتھ کولیسٹرول کی مقدار بھی زیادہ ہوجاتی ہے، جو کہ جسم کے لیے نقصان دہ ہوتا ہے۔ چینی کے عادی افراد کو جب تک میٹھی چیز نہ ملے وہ ڈر اور ذہنی تناﺅ محسوس کرتے ھیں۔

مٹھاس کی یومیہ ضرورت۔

مردوں کے لیے ساڑھے 37 گرام اور عورتوں کے لیئے صرف 25 گرام ھے۔ جو دن بھر کی خوراک سے ھی پوری ھو جاتی ھے۔ جبکہ اوسطاً ہر پاکستانی روزانہ 62 گرام چینی اپنے جسم کا حصہ بناتا ہے ۔

کولیسٹرول کا باعث۔

تحقیق کے مطابق جو لوگ زیادہ چینی استعمال کرتے ہیں ان میں دوسری بیماریوں کے ساتھ ساتھ کولیسٹرول کی مقدار بھی زیادہ ہوجاتی ہے، جو کہ جسم کے لیے بہت نقصان دہ ہوتا ہے۔اور چینی انسانی جسم میں خطرناک چربی کو بھی بڑھاتی ھے۔

انسولین میں اضافہ

ایک تحقیق کے دوران ٹائپ تھری ذیابیطس کی اصطلاح استعمال کی گئی،جو انسولین کی مزاحمت اور زیادہ چربی والی غذاؤں سے ھوتی ھے اسے دماغی ذیابیطس بھی کہا جاسکتا ہے۔
چینی کے زیادہ استعمال سے دوران خون میں انسولین بڑھ جاتی ہے، اور اس کا اثر جسم کے خون کی گردش کے نظام اور شریانوں پر بھی پڑتا ہے، انسولین کی زیادہ مقدار سے شریانوں میں مسلز سیلز کی گردش معمول سے زیادہ تیز ہو جاتی ہے، جس سے ہائی بلڈپریشر اور اس کے بعد فالج یا دل کے دورے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے ۔

چینی سے بھوک میں اضافہ :

چینی انسان کے اندر بھوک کا احساس بڑھا دیتی ہے، زیادہ چینی کھانے سے دماغ میں جو پیٹ بھرنے کے احساس کی صلاحیت ہوتی ہے وہ بری طرح متاثر ھوتی ھے جس کی وجہ سے انسان کو ہر وقت بھوک کا احساس ہوتا رہتا ہے چاہے اس نے جتنا بھی زیادہ کھانا کھایا ہو۔ اس سے انسان بار بار کھانا کھاتا ھے اور موٹاپے کے ساتھ نظام ہضم بھی خراب ھوجاتا ھے۔

 

چینی سے بڑھاپا:

زیادہ چینی کھانے سے انسان کے دوران خون میں ایسے خطرناک مالیکیول پیدا کرنے کی وجہ بنتی ہے جو آپ کی جلد کو بہت زیادہ خشک اور ڈھیلی کردیتے ہیں، اور آپ کی جلد پر جھریاں پڑجاتی ہے ۔

چینی والی اشیاء:

سفید چینی کھانے پینے کی عام اشیاء جیسے سافٹ ڈرنکس، مٹھائیاں، آئس کریمز،جوسز، ملک شیکس، کیک، اور بیکری کی تمام مصنوعات، چائے، کافی، جام، جیلی،ٹافیوں، چاکلیٹس، مشروبات،اور تمام اقسام کے میٹھے پکوان میں کثرت سے موجود ہوتی ہے۔

چینی کا متبادل:

چینی کے متبادل کے طور پر کئی اشیاء استعمال کی جا سکتی ہیں جیسے:
گنّے کا رس: اگرچہ سفید چینی بھی گنّے ہی کے رس سے تیار کی جاتی ہے، لیکن اس کی تیاری کے دوران تمام غذائی اجزا ضایع ہو جاتے ہیں، جب کہ گنّے کا رس نہ صرف وٹامن بی اور سی کا بہترین ذریعہ ہے،بلکہ جسم کو مٹھاس بھی پہنچاتا ہے۔
شہد: سفید چینی کا بہترین متبادل ہے۔ اس میں موجود وٹامن اے، بی اور سی کی وجہ سے جسم کو مٹھاس ہی نہیں، تقویت بھی حاصل ہوتی ہے۔ اس لیے اسے چینی کے متبادل کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔ پھلوں میں پائی جانے والی قدرتی شکر جسم کو مضر اثرات سے بچاۓ رکھتی ہے۔

@Oye_Sunoo