fbpx

وزیراعلیٰ کاکراچی اور اندرون سندھ پینے کے پانی کی قلت پر نوٹس

کراچی :وزیراعلیٰ کاکراچی اور اندرون سندھ پینے کے پانی کی قلت پر نوٹس ،اطلاعات کے مطابق ید مراد علی شاہ کی زیرصدارت ہونے والے کراچی واٹراینڈ سیوریج بورڈ کے اجلاس میں کراچی میں پینے کے پانی کی چوری، رساؤ اور اس کے ضیاع کو روکنے کے لیے ٹاسک فورس بھی قائم کردی ہے۔

اجلاس میں صوبائی وزراء سعید غنی، ناصرحسین شاہ، شرجیل میمن، مرتضیٰ وہاب، چیف سیکریٹری، سیکریٹری بلدیات، وقارمہدی، نجمی عالم کے علاوہ واٹربورڈ کے حکام اور دیگرمتعلقہ افسران نے بھی شرکت کی۔

وزیراعلیٰ سندھ نے ٹاسک فورس کا چیئرمین وزیربلدیات ناصرحسین شاہ کو مقرر کیا۔ جب کہ دیگرارکان میں کمشنرکراچی، ایڈیشنل آئی جی کراچی، واٹربورڈ کے چیف انجنیئرز، وزیراعلیٰ سندھ کے معاون خصوصی وقارمہدی اورنجمی عالم بھی شامل ہیں۔

ٹاسک فورس پولیس، رینجرزاورمتعلقہ انجنیئرزکے ساتھ آئندہ دوروزمیں غیرقانونی کنیکشنز،غیرقانونی ہائیڈرنٹس اورپانی کی چوری کرنے والے افرد کے خلاف کارروائی کرے گی۔

وزیر اعلی سندھ نے واٹربورڈ کے بلک اورڈسٹری بیوشن سسٹم پرالگ الگ مانیٹرنگ سسٹم قائم کرنے کی بھی ہدایت کی۔ ہدایات کے مطابق پانی کے مختلف سسٹم پرمیٹرز نصب کیے جائیں گے۔

اجلاس میں وزیراعلیٰ سندھ نے شہر کے مختلف علاقوں کوآبادی کے حساب سے پانی مہیا کرنے کی ہدایات جاری کرتے ہوئے واٹر بورڈ کو اپنے پورے ڈسٹری بیوشن نظام کو جدید میپنگ سسٹم کے ذریعے اجاگر کرنے کا حکم دیا۔

اس موقع پروزیر اعلیٰ سندھ کا یہ بھی کہنا تھا کہ واٹربورڈ کومانیٹرنگ سسٹم قائم کرنا ہوگا، اس کے بغیرکراچی میں پانی کا مسئلہ حل نہیں ہوگا۔

وزیراعلیٰ سندھ نے دریائے سندھ کے دائیں طرف واقع علاقوں میں پینے کے پانی کے مسائل حل کرنے کے لیے ایمرجنسی نافذ کردی ہے۔ وزیراعلیٰ نے محکمہ آب پاشی کو ضروری اقدامات کرتے ہوئے متاثرہ علاقوں میں پینے کا پانی پہچانے کی ہدایت بھی کی۔

اندرون سندھ کے علاقے ٹھٹہ، سجاول، بدین اوردیگراضلاع اس وقت پانی کی شدید قلت کا سامنا کر رہےہیں۔

اجلاس سے خطاب میں وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ محکمہ آب پاشی مذکورہ علاقوں کے کینال سسٹم میں فوراً پانی جاری کرے، لوگوں کوپینے کا پانی ہرصورت ملنا چاہئے، کل شام تک پانی پہنچا کرمجھے رپورٹ کریں۔