چلّہ اتنا سخت تھا کہ اس سے بہتر تھا کہ مجھے مار ہی دیتے، شیخ رشید

0
167
Sheikh Rasheed

عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ چالیس روزہ چلے میں میں نے دوزخ دیکھ لی ،وزن درست کیا لیکن یادداشت کھو دی تھی

نجی ٹی وی چینل کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں شیخ رشید احمد کا کہنا تھا کہ“چِلّہ کے دوران دوزخ میں نے دنیا میں ہی دیکھ لی ہے، اب میں جنت میں جاؤں گا، میں اپنی یادداشت کھو گیا ہوں، میرے کمرے میں پروجیکٹرز لگے تھے اور میں آنکھوں پر تکیہ رکھ کر اور گولیاں کھا کر سوتا تھا، اُن پروجیکٹرز پر ڈرانے دھمکانے اور انسان کو پریشان کرنے کیلئے خوفناک اور پُر تشدد ویڈیوز چلائی جاتی تھیں، وہ ظلم اور بربریت کا وقت تھا، چلّہ اتنا سخت تھا کہ اس سے بہتر تھا کہ مجھے مار ہی دیتے، پہلے مجھے اُلٹا لٹکانے کیلئے کرین پر بٹھایا پھر اتار دیا”ہمیں مارا نہیں گالی نہیں دی، لیکن اس چلے سے مار دیتے تو اچھا تھا،میں کئی دفعہ سوچتا تھا کہ موت آ جائے تو بہتر ہے، چلہ اتنا سخت تھا، جو ماحول تھا کسی نے مارا نہیں،

شیخ رشید احمد کا مزید کہنا تھا کہ جس خدا کے قبضے میں میری جان ہے، میں نے کعبہ کی چھت پر نماز پڑھی ہے میں کہہ رہا ہوں کہ میں 9 مئی سے پہلے پاکستان میں ہی نہیں تھا، ہمارے چھوٹے چھوٹے بچوں اور حاملہ عورتوں کا اُٹھایا گیا، میں چیف جسٹس کے سامنے پیش ہو کر کہنا چاہتا ہوں کہ ہم بھی انسان ہیں، 17 بار وزیر رہا ہوں، ہر ایک نے دنیا سے جانا ہے اور زمین کے نیچے جانا ہے، ہمارے ساتھ انصاف کریں، مجھ پر درجنوں کیسز کئی عدالتوں میں ہیں، عام لوگ بھی بھگت رہے ہیں کوئی قلفی والا، کوئی کھیر بیچتا ہے اور کوئی کھیرا۔لاہور کار میں جائیں تو 50 ہزار آنے جانے میں لگتا ہے، کئی شہروں میں ہمارے اوپر مقدمات ہیں

Leave a reply