fbpx

چین ابھرتی ہوئی طاقت نہیں بلکہ ایک قوت، تحریر، نوید شیخ

چین اب ابھرتی ہوئی طاقت نہیں رہا۔ بلکہ یہ ایک قوت بن چکا ہے جو کئی طریقوں سے امریکہ کو تمام معاملوں میں ٹکر دے رہا ہے۔

۔ تین چار چیزیں ایسی ہیں جو امریکہ کی جانب سے گزشتہ دنوں میں چین کے خطرے کو بھانپتے ہوئے کی گئیں ہیں ۔ اور منظر کافی واضح ہو گیا ہے ۔

۔ سب سے پہلے ایک تو ابھی کی خبر ہے کہ چین کی بڑھتی ہوئی اقتصادی قوت اور عالمی اثر و رسوخ کا مقابلہ کرنے کے لیے جوبائیڈن انتظامیہ نے اسٹریٹجک مسابقتی ایکٹ
2021 امریکی سینیٹ میں پیش کردیا ہے ۔ اب اس بل کے تحت اگلے چار سال تک ہر سال 300 ملین ڈالرز کا فنڈ مختص کرنے کی تجویزدی گئی ہے۔
ایکٹ میں معیشت، ٹیکنالوجی، سیکورٹی سمیت متعدد شعبوں میں چین کو امریکا کا اسٹریٹجک حریف قرار دیا گیا ہے۔ اس ایکٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایشیا بحرالکاہل میں طاقت کا توازن امریکا کے حق میں رہنا چاہیے۔ کیونکہ امریکا اور اُس کے اتحادی ممالک پورے ایشیا بحرالکاہل میں نیوی گیشن اور تجارتی آزادی کے لیے بِلا روک ٹوک رسائی برقرار رکھنا چاہتے ہیں ۔

۔ دوسری جانب اس بل سے چند روز قبل ہی جوبائیڈن کا ایک اور نیا حکم نامہ آیا تھا جو محسوس ہوتا ہے کہ سابق صدر ٹرمپ کے دور کا تسلسل ہے ۔ جس میں 31چینی کمپنیوں پر پابندی لگائی گئی تھی ۔ اب اس نئے حکم نامے کے بعد امریکی پابندیوں کی زد میں آنے والی چینی کمپنیوں کی تعداد 59 ہو گئی۔ ۔ پھر گزشتہ ہفتہ ہی جوبائیڈن نے امریکی تاریخ کا سب سے بڑا بجٹ دیا ۔ جس کی مالیت 6ٹریلین ڈالرز تھی ۔ ریپبلکن سینیٹر Lindsey Graham نے اسے “انتہائی مہنگا” بجٹ قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کی ہے ۔۔ مگر جوبائیڈن کا کہنا ہے کہ بجٹ امریکی عوام میں براہ راست سرمایہ کاری ہے اور اس سے ہماری قوم کی معیشت مستحکم ہوگی اور طویل مدتی مالی صحت میں بہتری آئے گی۔

۔ دراصل امریکہ کی بھی اپنی مجبوریاں ہیں۔ کہ وہ اپنی چادر سے بڑھ کر پاؤں پھیلا رہا ہے آخر عالمی تھانیداری قائم رکھنے کے لیے اتنا تو کرنا ہی پڑتا ہے ۔

۔ اس بجٹ کی خاص بات یہ ہے کہ پینٹاگون کے لیے 1.5ٹریلین ڈالرز کی رقم مختص کی گئی۔ جوکہ گزشتہ سال کے مقابلے میں تقریباً ڈبل ہے ۔ ۔ اب اگر عالمی فوجی اخراجات کو دیکھا جائے تو اس میں امریکا کا حصہ تقریبا چالیس فیصد ہے ۔ امریکا نے 2020ء میں فوجی مقاصد کے لیے 2019ء کے مقابلے میں 4.4 فیصد زیادہ رقوم خرچ کیں اور ان کی مالیت 778 بلین ڈالر رہی ۔ بہت سے ماہرین کا ماننا ہے کہ جس تیزی سے امریکہ اسلحہ کی تیاری میں لگاہوا ہے یا جس طرح امریکہ دفاع پر پیسے خرچ کر رہا ہے اس سے اس تاثر کو تقویت ملتی جا رہی ہے ۔ جیسے کوئی بڑی جنگ ہونے والی ہے ۔ جس کی امریکہ نے پہلےہی تیاری شروع کر دی ہے ۔

۔ کیونکہ یہ صرف جوبائیڈن ہی نہیں ان سے پہلے سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دور میں امریکی فوجی اخراجات میں مسلسل تین سال تک اضافہ ہی ہوتا رہا۔
حالانکہ اس سے قبل جب باراک اوباما امریکا کے صدر تھے۔ تو ان کی صدارت کے مجموعی طور پر آٹھ سالہ دور میں امریکی فوجی بجٹ سات سال تک مسلسل کم ہوتا رہا تھا۔

۔ تو لوگوں کا یہ سوال کرنا بجا دیکھائی دے رہا ہے کہ کچھ تو ہے جو امریکہ اب خوب دفاع پر پیسہ لگا رہا ہے ۔ جبکہ آپ دنیا پر نظر دوڑائیں تو ہر جگہ مسائل ہی مسائل دیکھائی دیتی ہے ۔ اور امریکہ بہادر مشرق وسطی سے لے کر فارایسٹ ایشیاء ، جنوبی ایشیاء ، افریقہ اور پھریورپ تک میں مشکلات میں گھیرا دیکھائی دیتا ہے ۔

۔ عالمی منظر نامے پر کہیں چین امریکہ کے سامنے کھڑا ہے تو کہیں روس اس کو آنکھیں دیکھا رہا ہے ۔ یہاں تک کہ آپ اگر غور کریں تو دنیا بھر میں اب علاقائی طاقتیں امریکی اتھارٹی کو چیلنج کرتے دیکھائی دیتی ہیں ۔

۔ پر ایسا نہیں کہ امریکہ کو یہ سب معلوم نہیں ہے ۔ امریکہ کو بدلتے ہوئے حالات دیکھائی بھی دے رہے ہیں اور وہ اپنی پوری کوششوں میں بھی لگا ہوا ہے کہ کسی طرح یہ دنیا
unipolar
ہی رہے اور
multi polar
نہ بنے ۔

۔ آپ دیکھیں جیسے جیسے امریکہ کرونا سے
recover
کررہا ہے ایسا لگتا ہے کہ وہ اپنا اصل رنگ و روپ دیکھانے لگا ہے ۔ ابھی اس کا حالیہ منظر دنیا اسرائیل اور فلسطین والے معاملے میں دنیا دیکھ چکی ہے ۔ اب آنے دنوں میں بھارت کو مکمل طور پر چین کے سامنے لانے کی تیاری کی جا رہی ہے ۔ اس حوالے سے جو بھارت کے ہمسایہ ممالک ہیں ان پر امریکہ اپنا اثر رسوخ جماتا ہوا دیکھائی دے رہا ہے ۔ چاہے پھر وہ پاکستان ہو یا بنگلہ دیش یا سری لنکا ۔ ان سب کو امریکہ نے اپنی
stick
دیکھانا شروع کر دی ہے ۔ جبکہ
carrot
وہ اب صرف بھارت کو ہی دے رہا ہے ۔

۔ ابھی فی الحال سفارتی محاذ پر چین کو امریکہ ہر جگہ
engage
کرنے کی کوششوں میں ہے مگر کچھ بعید نہیں کہ جلد کوئی
diaster
رونما ہوجائے ۔ کیونکہ حادثے رونما ہونے میں دیر نہیں لگتی ۔

۔ میں یہ اس لیے کہہ رہا ہوں چین بھی ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر نہیں بیٹھا ہوا ہے ۔ جس طرح امریکہ چین پر وار کر رہا ہے اب چین کی زبان میں بھی تلخی آنا شروع ہوچکی ہے ۔ ابھی حالیہ جوبائیڈن کی جانب سے کورونا وائرس کے پھیلاؤ سے متعلق دوبارہ تحقیقات کا حکم دینے پر چین نے سخت موقف اپنایا کہ امریکا کو نہ ہی سچ کی پرواہ ہے اور نہ ہی وائرس کے وجود میں آنے سے متعلق سنجیدہ سائنسی تحقیقات میں دلچسپی ہے۔

۔ یہاں تک کہ امریکہ کی تحقیقات کے جواب میں الٹا چینی وزارت خارجہ نے میری لینڈ میں واقع امریکی تحقیقاتی لیب میں وائرس بنانے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا تھا کہ
Fort Detrick
تجربہ گاہ سمیت پوری دنیا میں موجود امریکا کی
200
سے زیادہ لیبز میں ایسے کونسے خفیہ راز پوشیدہ ہیں، اس حوالے سے امریکا پوری دنیا کو جواب دہ ہے۔

۔ اب جب سے جوبائیڈن نے انکوئری والا اعلان کیا ہے ۔ حالیہ ہفتوں میں دنیا میں اس پراپیگنڈہ کو دوبارہ سنجیدگی سے لیا جا رہا ہے جس کے مطابق کہا جاتا ہے کہ یہ کورونا وائرس ایک چینی لیب سے نکلا ہے۔

۔ دوسرا امریکہ کواڈ گروپ کو چین کے خلاف بطور ہیتھیار استعمال کرنے کے چکروں میں ہے جبکہ اس کواڈ گروپ کی وجہ سے چین اور آسٹریلیا کے تعلقات کشیدگی کی جانب گامزن ہیں ۔

۔ straits of malacka
کے حوالے سے تفصیلی وی لاگز میں کر چکا ہوں ۔ بحیرہ عرب اور بحیرہ ہند میں بھی چین کے مشکات پیدا کرنے کی مکمل تیاری ہے ۔ اس حوالے سے پاکستان پر بھی ہم نے دیکھا ہے کہ کافی پریشر کو بڑھایا جارہا ہے ۔ اس کی ایک کڑی تو یہ ہے کہ ابھی تک امریکی صدر جوبائیڈن نے وزیر اعظم عمران خان سے باضابطہ کوئی بات نہیں کی ہے ۔ جب کہ اس سے پہلے روایت تھی کہ جو بھی امریکہ صدر ہوتا وہ ٹیلی فون پر کم ازکم اپنے اتحادی سے بات کرتا تھا ۔

۔ جہاں امریکہ خطے میں اپنے نئے اتحادی تلاش کررہا ہے تودوسری جانب چین ایشیاء میں
strong
معاشی سٹریٹیجک پارٹنرشپ قائم کررہا ہے ۔ سی پیک میں چین ایران اورافغانستان کو شامل کرنا چاہتاہے ۔

۔ اگر آپ معاشی لحاظ سے دیکھتے ہیں۔ ورلڈ بنک کے مطابق قوت خرید کے اعتبار سے چین دنیا کی سب سے بڑی معیشت ہے۔ جبکہ
nominal GDP
کے اعتبار سے دیکھیں تو چین دنیا کی دوسری سب سے بڑی معیشت ہے۔ لیکن دوسری بڑی ہونے کے باوجود بھی چین اور امریکی معیشت میں سات ٹریلین ڈالر کا فرق ہے۔ حالانکہ امریکہ میں یہی جی ڈی پی صرف پنتیس کروڑ آبادی کے ساتھ حاصل کیا جاتا ہے جبکہ چین کی آبادی ڈیڑھ ارب کے قریب پہنچ چکی ہے۔ لیکن اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ امریکہ کے قریب ترین اگر کسی ملک کی معیشت ہے تو وہ چین ہی ہے اور اگر کوئی ملک یہ فرق تیزی سے کم کرتا جا رہا ہے تو وہ بھی چین ہی ہے۔ کیونکہ دیکھائی دے رہا مزید چند سالوں کی بات ہے کہ چین امریکہ کو پچھاڑ دے گا ۔

۔ کیونکہ ایک طرح سے دیکھیں تو چین امریکہ سے بہت بڑی معاشی طاقت ہے۔ وہ یوں کہ امریکہ دنیا کا سب سے زیادہ مقروض ملک ہے جو اپنے جی ڈی پی کا 97 فیصد قرضے کی شکل میں ادا کرتا ہے۔ جبکہ چین اپنے جی ڈی پی کا صرف تیرہ فیصد بیرونی قرض کی مد میں ادا کرتا ہے۔ چین کے پاس foreign reserves3.3 ٹرلین ڈالر دنیا میں سب سے زیادہ ہیں۔

۔ چین کا دفاعی بجٹ دو سو پندرہ ارب ڈالر ہے جو امریکہ کے مقابلے بہت کم ہے۔ لیکن اس کے باوجود چین امریکی ٹیکنالوجی کے مقابلے میں اپنے ہتھیاروں کو اپنی صلاحیت سے تیار کرتا ہے۔

۔ چین کے نئے منصوبے ون بیلٹ ون روڈ اور اس منصوبے سے جڑے سی پیک جیسے دوسرے پراجیکٹس نے امریکہ کے سپرپاور سٹیٹس کیلئے ایک چیلنج سمجھا جا رہا ہے۔ گو کہ چین ایسا تاثر نہیں دیتا لیکن یہ حقیقت ہے کہ اگر ون بیلٹ ون روڈ منصوبہ آگے بڑھتا ہے تو چین کی معاشی اور دفاعی ترقی کو روکنا ناممکن ہو گا۔ کیونکہ اس منصوبے کی حفاظت کیلئے چین کو عالمی طور فوجی اڈوں کا جال بچھانا پڑے گا جس کی ایک مثال افریقہ ملک جبوتی میں چین کا پہلا فوجی اڈا ہے۔ ایسا ہی وہ بنگلہ دیش ۔ سری لنکا ، میانمار ، پاکستان اور ایران میں بھی کرنا چاہتا ہے ۔

۔ سیاسی لحاظ سے دیکھیں تو چین اقوام متحدہ کی سب سے طاقتور باڈی سلامتی کونسل کا مستقل رکن ہے اور عالمی سطح بڑا فیصلہ چین کی مرضی کے بغیر پاس نہیں کیا جا سکتا۔ چین کے اپنے شمالی اور مغربی ہمسایوں سے اچھے تعلقات اس کی طاقت ہیں۔ جبکہ جنوب میں بھارت سے خراب تعلقات اور مشرقی سمندر میں جزائر کی ملکیت پر کئی ممالک سے تنازعات چین کی کمزوری ہیں۔ لیکن چین اپنی فوجی اور معاشی طاقت سے سمندر میں نئے جزائر اور فوجی اڈے بنا رہا ہے۔ یہ ہی وہ چیزیں ہیں جو امریکہ کے لیے درد سر بنی ہوئی ہیں ۔
۔ دراصل امریکہ اس وقت دنیا میں say کو ٹھیک کرنے کی کوششوں میں لگا ہوا ہے اور اپنے پرانے کردار کو بحال کروانے کے لیے وہ تڑیاں بھی لگا رہا ہے ۔ دھونس بھی استعمال کر رہا ہے اور پریشر بھی بڑھا رہا ہے ۔ پر دیکھتے ہیں کہ امریکہ اپنا پرانا وقار اور قد کاٹھ بحال کروا پاتا ہے یا نہیں ۔ کیونکہ چین ، روس اور دیگر علاقائی طاقتوں کی شکل میں اس وقت کئی قوتیں امریکہ کے ساتھ سینگ پھسانے کو تیار دیکھائی دیتی ہیں ۔