چین یا پاکستان ہجرت کرنے والے کشمیریوں کے خلاف مودی سرکار کا سخت اقدام

چین یا پاکستان ہجرت کرنے والے کشمیریوں کے خلاف مودی سرکار کا سخت اقدام
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے ماطقب بھارتی حکومت 1965 اور 1971کی پاکستان بھارت جنگوں کے بعد پاکستان اور چین ہجرت کرنے والے کشمیریوں کی ایک لاکھ کروڑ روپے مالیت کی 9400 جائیدادیں فروخت کر دے گی۔

1965 اور 1971کی پاکستان بھارت جنگوں کے بعد جموں وکشمیر سے ہجرت کرنے والوں کی بھارت کے الگ ا لگ حصوں میں ایسی جائیداد کو اینی پراپرٹی ایکٹ کے تحت لایا گیا تھا جبکہ جموں وکشمیر میں رہائشی مکانوں دوکانوں کی صورت میں جو جائیداد تھی ا س کو کسٹوڈین محکمہ نے کرایہ پردے دیا تھا،فروخت نہیں کیا۔

2017تک ایسی پراپرٹی کو آزادکشمیر میں رہائش پذیرکنبوں کی ملکیت کہاجاتا تھا ۔ اس جائیداد کو فروخت کرنے کی کوئی اجازت نہیں تھی ۔5 اگست 2019 کو مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے بعدری آرگنائزیشن ایکٹ کے تحت جموں وکشمیرکے لئے جتنے بھی قانون نافذ کئے گئے ان کے مطابق جموں وکشمیر میںاس طرح کی جائیداد اب بھی محفوظ ہیں ۔

پورے جموں وکشمیرکوبھارت کا حصہ قرار دینے کے بعد اس طرح کی جائیداد کو حکومت نے فروخت کرنے پر پابندی عائد کی ہے تا ہم یہ کسٹوڈین محکمہ کی تحویل میں ہی رہے گی۔ پاکستان اور چین میں پناہ لینے والے شہریوں کی جائیداد بھارت کی دوسری ریاستوں ، بھارت کے زیر انتظام علاقوں کی طرح جموں وکشمیرمیں بھی کسٹوڈین کی تحویل سے علیحدہ کی جارہی ہے۔

خبر رساں ادارے ساؤتھ ایشین وائر کے مطابق بھارتی وزارت داخلہ کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ یہ جائیداد کسی بھی وقت حکومت فروخت کرنے کی حقدارہے۔ وزارت داخلہ کی رپورٹ کے مطابق آزاد کشمیرمیں رہنے والے کنبوں کی جوجائیداد یہاں موجود ہے وہ محفوظ ہے۔ ایسے افرد جب بھی واپس آئیں گے انہیں عدالت میں یہ ثابت کرنا ہوگا کہ وہ جائیداد کے وارث ہیں انہیں منتقل کرنے یانہ کرنے کے بارے میں حکومت فیصلہ لے سکتی ہے تا ہم چین یا پاکستان میں پناہ لینے والے کنبوں کی جائیداد فروخت کرنے کی کارروائی بھارت کسی بھی وقت کرسکتا ہے

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.