fbpx

چین کا خفیہ منصوبہ اور برما میں فوجی انقلاب، امریکہ پریشان،اہم انکشافات مبشر لقمان کی زبانی

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ اس وقت خطے کے حالات یہ ہیں کہ میانمار میں فوج نے اقتدار پر قبضہ کر لیا اور آنگ سان سوچی سمیت کئی سیاسی رہنماوں کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔ اور اس اقدام کی وجہ جمہوری حکومت اور فوج میں بڑھتی کشیدگی بتائی جا رہی ہے۔ دراصل معاملہ یہ ہے کہ آنگ سان سوچی کی حکمران جماعت این ایل ڈی نے گزشتہ سال آٹھ نومبر کو ہونے والے عام انتخابات میں کامیابی حاصل کی تھی۔ جس کے بعد میانمار کی فوج کی حمایت یافتہ جماعتUnion, solidarity and development party نے دھاندلی کے الزامات لگاتے ہوئے فوج کی نگرانی میں نئے انتخابات کا مطالبہ کیا تھا۔ جس کے بعد اب میانمارکی فوج نے گزشتہ سال کے عام انتخابات میں بڑے پیمانے پر دھاندلی کا الزام عائد کرتے ہوئے ملک میں ایک سال کے لیے ایمرجنسی کا اعلان کردیا ہے اور سابق فوجی جنرل کو صدر کے لیے نامزد کیا گیا ہے۔

مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ میانمار وہ ملک ہے جہاں تقریبا پچاس سال تک فوجی حکومت قائم رہی اور اب سے کوئی دس سال پہلے 2011 میں اس ملک نے جمہوریت کی طرف سفر کا آغاز کیا۔ اور اس حوالے سے ایک باضابطہ معاہدہ بھی طے پایا گیا تھا۔ پچھلے پانچ سالوں سے میانمار میں سوچی اور اس کی جماعت National league for democracy (NLD)کی حکومت تھی۔ 2015 میں ہونے والے الیکشنزمیں کو پچھلے 25 سالوں کے انتہائی شفاف اور آزادانہ انتخابات قراردیا گیا تھا۔ لیکن یکم فروری کو جب اس پارٹی نے اقتدار میں اپنی دوسری مدت کا آغاز کرنا تھا تو ملک میں مارشل لا نافذ کر دیا گیا۔ اس ملک میں مارشل لا کے حوالے سے ایک دلچسپ بات میں آپ کو بتاوں کہ وہاں کے آئین میں ہی دراصل مارشل لا کو تحفظ حاصل ہے۔ کیونکہ وہاں کے آئین کے مطابق پارلیمان اور ملک کی طاقتور ترین وزارتوں کا ایک چوتھائی حصہ فوج کو جاتا ہے۔

مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ جس کی وجہ سے اس وقت ہر ایک کو تشویش ہے کہ اتنا کچھ ملنے کے باوجود فوج نے اس وقت کیوں اقتدار پر قبضہ کیا، اور اب آگے کیا ہونے والا ہے؟خاص طور پر عالمی سیاست کے تناظر میں اس تمام پیش رفت کو بہت اہم قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ جغرافیائی لحاظ سے میانمار ایک بہت اہم ملک ہے۔ اقوام متحدہ نے اس حوالے سے سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس بھی کیا ہے۔ امریکا، برطانیہ، انڈیا، آسٹریلیا، کینیڈا سمیت عالمی برادری سخت الفاظ میں اس کی مذمت کر رہی ہے۔امریکی صدر جو بائیڈن نے اس فوجی بغاوت کو جمہوریت اور قانون کی حکمرانی کی جانب گامزن ملک پر براہ راست حملہ قرار دیا ہے انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ جمہوری نظام کو پلٹنے کی وجہ سے پابندی سے متعلق امریکی قوانین کا نفاذ لازمی ہے اور حکام کی جانب سے اس پر غور کے بعد میانمار کے خلاف جو بھی ضروری ہو گا کارروائی کی جائے گی۔ جہاں کہیں بھی جمہوریت پر حملہ ہو گا امریکا وہاں جمہوریت کے لیے کھڑا ہو گا۔

مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ جس کے بعد امریکہ اور اس کے اتحادیوں کا موقف تو صاف پتہ چل گیا ہے لیکن سوال یہ ہے کہ اس تمام پیش رفت پر سکیورٹی کونسل میں چین اور روس کیا موقف اختیار کریں گے۔ کیونکہ 2017 میں بھی جب میانمار کی فوج نے روہنگیا مسلمانوں کے خلاف کارروائی شروع کی تھی جس کے نتیجے میں سات لاکھ سے بھی زیادہ روہنگیا مسلمان جان بچانے کے لیے بنگلہ دیش میں پناہ لینے پر مجبور ہو گئے تھے اس وقت بھی انہی دو ممالک نے سیکیورٹی کونسل کے اجلاس میں میانمار کا ساتھ دیا تھا۔چین نے ابھی تک حالیہ فوجی بغاوت کی مذمت بھی نہیں کی ہے البتہ اپنے ایک بیان میں دونوں فریقین پر باہمی اختلافات حل کرنے پر ضرور زور دیا ہے۔ ساتھ ہی پاکستان کی طرف سے بھی یہ موقف اختیار کیا گیا ہے کہ پاکستان نے حالات پر نظر رکھی ہوئی ہے اور ہم قانون کی بالادستی چاہتے ہیں تمام stake holdersامن قائم کریں اور امن سے معاملات کو حل کریں۔

مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں میانمار کے معاملات کو لیکر امریکہ کو اس لئے بھی پریشانی ہے کیونکہ میانمار کی سرحد ایک جانب چین کے ساتھ لگتی ہے اور دوسری جانب امریکہ کے حلیف ملک بھارت کے ساتھ ملتی ہے۔ میانمار میں جو سوچی کی حکومت تھی اس کے بارے میں سب جانتے ہیں کہ اس کے امریکہ کے ساتھ بہت اچھے تعلقات تھے۔ امریکہ کا وہاں کافی اثرورسوخ بھی تھا۔ جس کی وجہ سے ان کے تعلقات بھارت کے ساتھ بھی کافی بہتر ہو گئے تھے۔ لیکن اب جو تبدیلی آئی ہے اس پر امریکہ اور بھارت کو دراصل ڈر یہ ہے کہ ان فوجی حکمرانوں کے چین کے ساتھ کافی اچھے تعلقات ہیں جبکہ چین نے میانمار میں کافی انویسٹمنٹ بھی کی ہوئی ہے۔گزشتہ سال جب چین اور بھارت کے درمیان کشیدگی شروع ہوئی تھی وہ ابھی تک برقرار ہے بلکہ حالات دن بہ دن مزید کشیدہ ہی ہو رہے ہیں۔ اور اگر یہ معاملات ایسے ہی چلتے رہتے ہیں تو خطے میں موجود تین ممالک کا کردار آنے والے دنوں میں بہت اہم ہو گا اور وہ ممالک ہیں بنگلہ دیش، بھوٹان اور میانمار۔۔۔ کسی بھی جنگ کی صورت میں یہ ممالک اس جنگ سے براہ راست متاثرہونگے۔

مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ بنگلہ دیش کے بارے میں۔۔ میں آپ کو بتاوں کہ بنگلہ دیش نے چین کے ساتھ دفاعی معاہدہ کیا ہوا ہے۔ بنگلہ دیش اور بھارت کے درمیان آنے والی درویوں کی وجہ بھی یہ ہی معاہدے ہیں۔ اگر آپ چین کی اسلحہ کی سپلائی کی ساوتھ ایشیاء کی لسٹ اٹھا کر دیکھیں تو چین سب سے زیادہ اسلحہ بنگلہ دیش کو سپلائی کرتا ہے۔چند ہفتے پہلے جو سکم میں جھڑپیں ہوئیں تھیں وہ علاقہ بھوٹان اور نیپال کے بیچ میں واقع ہے۔ وہاں پر چین نے بھارت کو جو مزا چکھایا تھا وہ بھی ہم نے دیکھا تھا۔اور اب جو معاملہ ہے میانمار کا تو اس بارے میں ۔۔ میں آپ کو بتاوں کہ جب سے چین اور بھارت میں کشیدگی شروع ہوئی ہے بھارتی حکام نے میانمار کے کافی دورے کئے تھے یہاں تک کہ انڈیا کے سیکریٹری خارجہ اور آرمی چیف ایک ساتھ میانمار کے دورے پر گئے ہیں۔ تاکہ وہ میانمار کے ساتھ اپنے تعلقات کو مضبوط کر سکیں۔ کیونکہ میانمار ،بنگلہ دیش اور بھوٹان کے زمینی راستے بھارت کے ان سات صوبوں کیساتھ ملے ہوئے ہیں جہاں اگر سلی گوڑی کے بائیس میل کے علاقہ کو چین اگر بھارت سے کاٹ دیتا ہے اور اس کی چکن نیک پر قبضہ کر لیتا ہے تو ان سات صوبوں میں سے کئی صوبے اپنی آزادی کا اعلان کر دینگے۔یعنی اگر چین چاہے تو اب اس کے لئے کچھ مشکل نہیں ہے کہ وہ بہت آسانی کے ساتھ بھارت کو توڑ سکتا ہے۔ اور اگر کہیں ان صوبوں نے آزادی کے بعد چین کیساتھ فوجی الحاق یا معاہدہ کر لیا تو پھر تو یہ مودی کی موت ہو گی۔

مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ اس وقت بھارت ہر طرف سے گھر چکا ہے خاص کر میانمار میں اب جو صورتحال ہے وہ مکمل طور پر چین کے حق میں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امریکہ اور بھارت سمیت تمام وہ بڑے ممالک جو کہ چین کے خلاف ہیں وہ اس معاملے ہر اکھٹے ہو گئے ہیں۔ تاکہ میانمار میں چین کا بڑھتا ہوا اثرورسوخ روک کر بھارت کو مضبوط کیا جائے۔ میانمار میں اپنی مرضی کی حکومت بحال کروائی جائے۔ لیکن ہم جانتے ہیں کہ چین کوئی عام ملک نہیں ہے وہ کبھی ایسا نہیں ہونے دے گا اس لئے یہ حالات کسی وقت بھی مزید خراب ہو سکتے ہیں، میانمار میں تبدیلی کے بعد بھارت کا نیا نقشہ کیا ہو گا یہ کہنا ابھی ممکن نہیں ہے لیکن اب تباہی اور بربادی بھارت کا مقدر بن چکی ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.