fbpx

چین نے حملہ کیا تو امریکا تائیوان کا دفاع کرے گا

امریکی صدر جوبائیڈن نے کہا ہے کہ چین نے تائیوان پر حملہ کیا تو امریکی افواج تائیوان کا دفاع کریں گی-

باغی ٹی وی : غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق ایک انٹرویو میں صحافی کے سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر تائیوان پر کوئی غیر معمولی حملہ کیا گیا تو ہم ضرور جواب دیں گے۔

روس یوکرین میں کیمیائی یا ٹیکٹیکل جوہری ہتھیار استعمال کرنے سے باز رہے،امریکا

امریکی صدر کے بیان کا خیر مقدم کرتے ہوئے تائیوان کے حکومتی حکام کا کہنا ہے کہ امریکا نے تائیوان کی سیکیورٹی کے لیے مضبوط عزم کا اظہار کیا ہے۔

بائیڈن نے کہا امریکہ کافی عرصہ سے ہی ’’ون چائنہ پالیسی‘‘ سے اتفاق کرتا ہے۔ تائیوان اپنی آزادی کا فیصلہ خود کرتا ہے، ہم تائیوان کی آزادی کیلئے متحرک ہیں نہ اس کی حوصلہ افزائی کررہے ، یہ ان کا اپنا فیصلہ ہے۔

ان سے پھر پوچھا گیا کہ اگر چین نے تائیوان پر حملے کا فیصلہ کیا تو کیا امریکی مردو خواتین تائیوان کا دفاع کریں گے تو جواب میں بائیڈن نے ہاں میں جواب دیا۔

بائیڈن کے اس انٹرویو کے بعد وائٹ ہاؤس کے ایک ذریعہ نے کہا کہ امریکی پالیسی باضابطہ طور پر تبدیل نہیں ہوئی۔ امریکہ یہ نہیں بتائے گا کہ وہ جزیرہ تائیوان کا دفاع کرے گا یا نہیں تاہم یہ مسلح افواج کے کمانڈر انچیف کا اپنا فیصلہ ہے۔

دوسری جانب یوکرین اورروس کے درمیان جاری جنگ سےمتعلق امریکی صدر نے کہا روسی صدر پیوٹن ہمارے ارادے کو توڑ نہیں سکتا۔ امریکہ یوکرین کی اس وقت تک مدد کرتے رہے گا جب تک اسے ضرورت رہے گی۔

افغانستان کے منجمد اثاثوں کی بحالی کیلئے چین نے پھرمطالبہ کردیا

امریکی صدر بائیڈن نے کہا یوکرین جنگ نہیں ہار رہا بلکہ کچھ علاقوں میں کامیابیاں حاصل کر رہا ہے۔ اس کی وجہ یوکرین کو دی جانے والی بڑی امداد اور یوکرین عوام کی بے مثال بہادری اور عزم ہے۔

امریکی صدر نے کہا روس کی یوکرین سے مکمل بے دخلی اور اس کی خودمختاری کو تسلیم کرنا اور یوکرینی عوام کا روس کو ہزیمت کا شکار کرنا ہی جنگ میں یوکرین کی کامیابی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ان حالات سےمعلوم ہوگیا کہ روس اتنا اہل اور قابل نہیں جتنا لوگ اس کے بارے میں سوچ رہے تھے۔ روس یوکرین کے بے گناہ شہریوں کا خون بہا رہا اور وہاں پر تباہی پھیلا رہا، اس سب کو فتح نہیں کہاجاسکتا بلکہ یہ تو ایک گھناؤنی حرکت ہے، اسے فتح سمجھنا مشکل ہے۔

خیال رہے کہ چند ماہ پہلے چین کی وزارت خارجہ کے ایک ترجمان نے کہا تھا کہ تائیوان چین کی سرزمین کا ایک اٹوٹ حصہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ تائیوان کا سوال خالصتاً چین کا اندرونی معاملہ ہے، جس میں کسی غیر ملکی مداخلت کا جواز نہیں۔

بھارت کو بڑی سفارتی ناکامی کا سامنا،کینیڈا میں ریفرنڈم آج ہوگا