چنار باغ کوآپریٹو ہاؤسنگ سکینڈل، 3 ارب روپے کا بڑا فراڈ، ہزاروں‌ شہری متاثر، نیب کی کاروائی جاری

ہاؤسنگ سیکٹر میں ایک بہت بڑا سکینڈل منظر عام پر آیا ہے جس میں چنار باغ کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی میں 3 ارب روپے سے زیادہ مالیت کا فراڈ ہوا ہے. اس فراڈ کے مرکزی کرداروں‌ کو نیب نے پکڑ رکھا ہے جبکہ جو کردار پس منظر میں‌ ہیں‌ ان کی جلد گرفتاری عمل میں لائی جائے گی. ڈی جی نیب لاہور شہزاد سلیم کی کوشش سے سینکڑوں‌ متاثرین کو اب تک ان کی رقوم واپس مل چکی ہیں.

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق روزنامہ خبریں‌ میں‌ سینئر صحافی میاں‌ افضل نے چنار باغ ہاؤسنگ سوسائٹی کے حوالہ سے خصوصی رپورٹ شائع کی ہے جس میں‌ بتایا گیا ہےکہ ماضی میں ہاؤسنگ سیکٹر کر نظر انداز کر کے بے لگام چھوڑ دیا گیا جس سے بڑے بڑے سکینڈل منظر عام پر آئے. چنار باغ ہاؤسنگ سوسائٹی رائے ونڈ روڈ میں‌ واقع ہے، اس کے سابق ایگزیکٹو ممبر طارق شاہ نے استعفی دیکر سوسائٹی میں پراپرٹی ڈیلروں کے ساتھ مل کر فراڈ کئے اور ان دنوں‌ وہ نیب کی زیر حراست ہے،

نیب کی زیر حراست طارق شاہ نے بڑے انکشافات کئے ہیں‌ کہ کون کون سے سرکاری افسر نذرانے لیتے رہے اور اس سارے فراڈ میں ملوث ہیں. ایک چنار باغ ایکسٹینشن لاہور، د وسری جہلم اور تیسری پرائیویٹ ہاؤسنگ سوسائٹی جو پانچ سو کنال پر بنائی گئی تھی اس میں ممبران سے 2 ارب گیارہ کروڑ روپے ممبر شپ اور پلاٹوں کے نام پر اکٹھے کئے گئے. جتنی فائلیں‌ فروخت کی گئیں‌ وہ پانچ ہزار کنال رقبے کی تھیں‌ جبکہ زمین صرف پانچ سو کنال خریدی گئی،
چنار باغ ہاؤسنگ کی انتظامیہ نے ایکسٹنشن کیلئے جو منظوری لی اس میں صرف پانچ سو کنال زمین خریدی گئی اس پر بھی طارق شاہ نے ایل ڈی اے افسران کو نذرانہ دے کر این او سی کی منظوری لی.

خبریں‌ میں‌ شائع ہونے والی خصوصی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ چنار باغ ہاؤسنگ پروجیکٹ بریگیڈیئر ر قرار علی آغا نے شروع کیا تھا . اس ہاؤسنگ سوسائٹی کی 16 سو کنال زمین خریدی گئی تھی مگر لینڈ مافیا نے اس میں‌بھی کمیونیٹی سنٹر پر کمرشل پلا‌ٹ بنا کر فروخت کر دیے تھے. چنار باغ ہاؤسنگ سوسائٹی میں‌ فراڈ کا سلسلہ 2013 سے شروع ہوا ، محکمہ کوآپریٹو کے افسران نے اس فراڈ کو پکڑنے اور اس فراڈ میں ملوث ہونے والے افراد کے خلاف کاروائی کرنے کی بجائے ان پر نوازشات کا سلسلہ شروع کر دیا.

بتایا گیا ہے کہ چنار باغ لاہور ایکسٹینشن کی اجازت اس وقت کے ڈی سی او اعجاز خان نے دی جبکہ قانون کے مطابق ڈی سی او ایسا کر ہی نہیں سکتا جس پر نیب نے اعجاز خان کو بھی حراست میں لے رکھا ہے. اس وقت پانچ سو متاثرین کو کروڑو‌ں‌ روپے واپس دلوائے جاچکے ہیں تاہم ابھی متاثرین کی بڑی تعداد باقی ہے.

نیب لاہور بیورو کی جانب سے کہا گیا ہے کہ چنار باغ ہاؤسنگ سوسائٹی لاہور کے ڈویلپر، سوسائٹی کے اعلیٰ حکام اور دیگر کیخلاف عوام کو سوسائٹی میں پلاٹ دینے کے جھوٹے وعدوں پر پیسے بٹورنے کیخلاف تحقیقات ہو رہی ہیں۔ اس لئے تمام متاثرہ لوگوں سے درخواست ہے کہ وہ 7اگست تک اپنے دعوے دستاویزی ثبوت کے ساتھ مہیا کریں۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.