fbpx

چینی مافیا کے خلاف کے خلاف کتنی ایف آئی آر داخل ہو چکی ہیں. شہزاد اکبر نے کیے انکشافات

چینی مافیا کے خلاف کے خلاف کتنی ایف آئی آر داخل ہو چکی ہیں. شہزاد اکبر نے کیے انکشافات

باغی ٹی وی : مشیر احتساب و داخلہ شہزاد اکبر نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت کرپٹ عناصر کے خلاف سرگرم ہے،موجودہ وقت میں چینی کامسئلہ درپیش ہے ،سالوں سے دیکھ رہے ہیں چینی کا مسئلہ حل نہیں ہوا،تین چار دہائیوں میں چینی کی قیمت مقرر نہیں کی گئی ،

مشیر احتساب و داخلہ شہزاد اکبر کا کہنا تھا برسوں سے دیکھ رہے ہیں چینی کا مسئلہ حل نہیں ہوا،چینی کی ذخیرہ اندوزی ختم کرنےکیلئےحکومت نےاقدامات اٹھائے.رمضان المبارک میں ہی چینی سمیت تمام اشیا کو مہنگے داموں پر فروخت کیاجاتاہے،ایوب خان کے دور سے چینی کی قیمت ایک مسئلہ ہے،چینی کی قیمت کے تعین کاقانو ن 1958سے بناہواہے

مشیر احتساب و داخلہ شہزاد اکبر کا کہنا تھا چینی کامصنوعی بحران ختم کرنے کےلیےچینی کی قیمت مقرر کرناضروری ہے،شوگر ملز مالکان نے چینی کی قیمتوں پر عدالت سے رجوع کیا،13شوگر مل انڈر انویسٹی گیشن ہیں، .شریف فیملی کا منی لانڈرنگ کا معاملہ25ارب روپے کا بنتاہے ،جے ڈی ڈبلیو کامنی لانڈرنگ کا معاملہ 8ارب رو پے کا بنتاہے.کسی گروہ یا کسی ایک شخص کو نشانہ نہیں بنایا جارہا، اگرآپ کانعرہ احتساب کاہے تویہ نہیں ہوسکتا ہےدوسروں کاکریں اپنا نہ کریں،

مشیر احتساب و داخلہ شہزاد اکبر کا مزید کہنا تھا کہ چینی مافیا کے خلاف 10 ایف آئی آر درج ہوچکی ہیں.جے ڈبلیو بی کی ملکی چینی کی پیدوار میں 20 فیصد حصہ ہے،اراکین قومی وصوبائی اسمبلی کے جہانگیر ترین کے ہمراہ عدالت جانے سے کوئی فرق نہیں پڑتا،میں نہیں بتاسکتا کہ جہانگیر ترین کا اشارہ کس کی جانب تھا،جہانگیر ترین ہمارے اپنے ہیں ان کے تحفظات ہیں

ان کا کہنا تھا وزیراعظم عمرا ن خان کا موقف ہے جب سوال کیاجائے تو جواب دیاجائے گا،پی ٹی آئی میں جتنی جمہوریت ہے کسی اور جماعت میں نہیں ،قانون عمل کو پارٹی نہیں چلاتی،قانونی اور عدالتی عمل کو پارٹی نہیں چلاتی،ہم نے من پسند افراد کو اداروں میں تعینات نہیں کیا،ہم قانونی معاملات میں مداخلت نہیں کرتے ،

جہانگیر ترین کامیاب بزنس مین ہیں ،چینی کی زیادہ پیداوار بھی ان کی ہوتی ہے، چینی کمیشن نے کہا جے ڈبلیو بی وقت پر پیسے ادا کرتی ہے،چینی کی قیمت میں ایک روپیہ فی کلو اضافہ ہوتو عوام پر 40ارب روپے کا بوجھ پڑتاہے،

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.