fbpx

چینی خلائی جہاز نے پورے مریخ کی تصاویر کھینچ لیں

بیجنگ: سرخ سیارے پر 1300 سے زائد چکر لگانے کے بعد چینی جہاز تیان وین اول نے پورے مریخ کی تصاویر کھینچی ہیں۔

باغی ٹی وی : سائنسدانوں نے تیان وین اول کو مختلف سمتوں اور زاویوں میں مریخ کے گرد گھمایا اور ایک طرح سے پورے سیارے کو اسکین کرکے اس کی بلند معیاری تصاویر لی گئی ہیں اس نے پہلی مرتبہ وہاں کے قطبِ جنوبی کے عکس بھی لیے ہیں۔

بدھ کے روز چینی خلائی ایجنسی نے سب سے پہلے مریخی قطبِ جنوبی کی تصویر جاری کی ہے اور اس کے متعلق کہا جاتا ہے کہ وہاں پانی کے ذخائرموجود ہوسکتے ہیں چینی خلائی جہاز نے 4000 کلومیٹر طویل ویلس میرینیرس کی تصاویر بھی لی ہیں جو ایک تنگ گھاٹی ہے اس کے علاوہ چھوٹے بڑے گڑھے بھی کیمرے میں محفوظ کئے ہیں۔

تیان وین اول فروری 2021 کو مریخی مدار میں پہنچا تھا اور یہ چین کا پہلا مریخی مشن بھی ہے اسی کے ساتھ ایک روبوٹک گاڑی بھی مریخ پر اتاری گئی تھی۔

اس سے قبل 2018 میں یورپی خلائی ایجنسی کے ایک آربٹر نے کہا تھا کہ مریخ کے قطبِ جنوبی پر پانی کے وسیع ذخائر گویا بند پڑے ہیں۔ اس پر مزید تحقیق سے معلوم ہوا کہ شاید یہاں حیات کی کوئی شکل بھی موجود ہو، تاہم اب تک گمان یہی ہے کہ مریخ جنوبی قطب پر برف بھی ہوسکتی ہے۔

دوسری جانب ناسا کے ٹرانزٹنگ ایکسوپلینٹ سروے سیٹلائیٹ (TESS) نے حال ہی میں ہمارے نظامِ شمسی سے قریب ترین دو چٹانی، زمین کے جیسے سیاروں کی دریافت کی ہے۔

سیاروں کی دریافت یونیورسٹی آف شیکاگو میں پوسٹ ڈاکٹرل کے فیلو رافیل لوک کی سربراہی میں کام کرنے والی بین الاقوامی محققین کی ٹیم نے ٹیس سے موصول ہونے والے ڈیٹا میں کی محققین کی جانب سے پہلے اس دریافت کے متعلق معلومات امریکی ریاست کیلیفورنیا کے شہر پیسیڈینا میں منعقد ہونے والی امیریکن آسٹرونومیکل سوسائیٹی کی 240 ویں میٹنگ میں پیش کی گئیں تھیں۔

محققین کے مطابق یہ ایکسو پلینٹ یعنی نظام شمسی سے باہر یہ دو سیارے زمین سے 33 نوری سال کے فاصلے پر موجود HD 260655 نامی سرخ ڈوارف سیارے کے گرد گھوم رہے ہیں یہ سیارے ہماری زمین کی طرح چٹانی تو ہیں لیکن ہیئت میں زمین سے بڑے ہیں ایک سیارہ زمین سے 1.2 گُنا اپنے ستارے کے گرد چکر لگانے میں صرف 2.8 دن لیتا ہے جبکہ دوسرا سیارہ زمین سے 1.5 گُنا بڑا ہے جس کو ایک مدار مکمل کرنے کے لیے 5.7 دن درکار ہیں۔