fbpx

چینی صدر شی جن پنگ کا رتبہ ماؤزے تنگ کے برابر قرار

بیجنگ: چینی صدر شی جن پنگ کا رتبہ ماؤزے تنگ کے برابر قرار ،اطلاعات کے مطابق چین کی حکمراں جماعت کمیونسٹ پارٹی نے تاریخی قرارداد منظور کرتے ہوئے ملک کے صدر شی جن پنگ کا رتبہ ماؤ زئے تنگ اور ڈینگ زیاؤپنگ کے برابر قرار دیدیا ہے۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق چین کی کمیونسٹ پارٹی نے صد سالہ تقریبات کے موقع پر ایک عام اجلاس میں ایسی قرارداد منظور کی ہے جس سے موجودہ صدر شی جن پنگ کی اقتدار پر گرفت ہمیشہ کے لیے مضبوط ہوگئی ہے۔

اس قرارداد سے صدر شی جن پنگ کا سیاسی رتبہ بانی جماعت ماؤزے تنگ اور ڈینگ زیاؤپنگ کے برابر ہوگیا ہے۔ 100 سالہ تاریخ میں یہ اپنی نوعیت کی تیسری قرارداد ہے۔ اس سے پہلے 1945 میں ماؤزے تنگ اور 1981 میں ڈینگ زیاؤ پنگ کے دور میں اس طرح کی قراردادیں منظور کی گئی تھیں۔

صدر شی جن پنگ کے لیے ہمیشہ اقتدار میں رہنے کے لیے راہ پہلے ہی ہموار کی جاچکی ہے جب ان کی جماعت نے 2018 میں صدر کے عہدے کے لیے زیادہ سے زیادہ 68 برس کی عمر کی حد ختم کر دی تھی۔

واضح رہے کہ چین کے صدر کے سامنے فی الحال کوئی بھی حریف موجود نہیں ہے لیکن اس کے باوجود انھوں نے اپنے دور اقتدار میں زیادہ سے زیادہ طاقت اور اختیارات حاصل کرلیے ہیں۔

یاد رہے کہ ماؤ زے تنگ (چینی: 毛澤東/毛泽东/Máo Zédōng) (پیدائش: 26 دسمبر 1893ء – وفات: 9 ستمبر 1976ء) ایک چینی مارکسی عسکری و سیاسی رہنما تھے، جنھوں نے چینی خانہ جنگی میں چینی کمیونسٹ جماعت کی قیادت کرتے ہوئے کامیابی حاصل کی اور یکم اکتوبر 1949ء کو بیجنگ میں عوامی جمہوریہ چین کی بنیاد رکھی۔

ماؤ زے تنگ 1945ء سے 1976ء تک چین کی کمیونسٹ جماعت کے چیئرمین رہے جبکہ 1954ء سے 1959ء تک عوامی جمہوریہ چین کی صدارت سنبھالی۔

ماؤ زے تنگ جدید تاریخ کی موثر ترین شخصیات میں شمار ہوتے ہیں اور ٹائم میگزین نے آپ کو 20 ویں صدی کی 100 موثر ترین شخصیات میں شمار کیا تھا۔