خیال نہیں رکھ سکتے تو پنجروں میں قید کیوں، چڑیا گھر کے جانوروں کو پناہ گاہوں میں منتقل کر دیا جائے؟ عدالت

خیال نہیں رکھ سکتے تو پنجروں میں قید کیوں، چڑیا گھر کے جانوروں کو پناہ گاہوں میں منتقل کر دیا جائے؟ عدالت
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اسلام آبادہائیکورٹ میں مرغزار چڑیا گھر میں جانوروں کی نامناسب دیکھ بھال کےخلاف کیس کا فیصلہ محفوظ کر لیا گیا

مرغزار چڑیا گھر میں جانوروں کی نامناسب دیکھ بھال کےخلاف کیس کا فیصلہ 30اپریل کو سنایاجائےگا،چڑیا گھر کی بہتری کے لیے اقدامات پر وزارت موسمیاتی تبدیلی، وائلڈ لائف اور ایم سی آئی سے جواب طلب کر لیا گیا

اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ 4مئی کو تحریری طور پر آگاہ کریں کہ چڑیا گھر کی بہتری کے لیے کیا اقدامات کیے جائیں گے،

سیکریٹری وزارت موسمیاتی تبدیلی ناہید بخاری، چیئرمین وائلڈ لائف اور میئر اسلام آباد عدالت میں پیش ہوئے، چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ دانستہ طور پر کیس میں التواء کیا کیونکہ عدالت جانوروں کے لیے انسانی رویے دیکھنا چاہتی تھی،تینوں اداروں کو چڑیا گھر کی ذمہ داری دی لیکن عدالت اپنی مایوسی کا اظہار کر رہی ہے،دوسرے ملک کی طرف سے تحفے میں دیئے گئے ہاتھی کو چڑیا گھر میں تکلیف میں رکھا ہوا ہے،

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے استفسار کیا کہ جانوروں کا خیال نہیں رکھ سکتے تو ان کو پنجروں میں قید کیوں کر رکھا ہے؟کیوں نہ یہ عدالت چڑیا گھر کے جانوروں کو پناہ گاہوں میں منتقل کر دے،جو جانوروں کا خیال رکھنا چاہتے ہیں انکی حوصلہ شکنی کی جاتی ہے، لاک ڈاؤن میں لوگ قید ہو چکے ہیں، ہمیں اب بھی کوئی خوف نہیں، جو لوگ چڑیا گھر جاتے ہیں وہ بھی جانوروں کو مختلف طریقوں سے تکلیف دیتے ہیں

چیف جسٹس اطہر من اللہ کا مزید کہنا تھا کہ تین بڑے ادارے ایک چھوٹے سے چڑیا گھر کا انتظام نہیں چلا پا رہے،سیکریٹری صاحبہ اس عدالت کو آپ سے بہت امیدیں تھیں،عدالت نے دیکھا ہے کہ میئر اسلام آباد بالکل بے بس ہے،بنی گالا کی حالت دیکھیں، مراعات یافتہ لوگوں نے وہ جانوروں سے چھین لیا ہے،

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.