fbpx

چترال : سی ڈی ایم کے اراکین اور سول سوسایٹی کا مشترکہ احتجاجی جلسہ۔ سڑکوں پر فوری کام شروع کرنے کا پرزور مطالبہ

چترال(گل حماد فاروقی)چترال ڈیویلپمنٹ مومنٹ (سی ڈی ایم) کے زیر اہتمام سول سوسایٹی کے اراکین اور محتلف سیاسی اور مذہبی پارٹیوں کے رہنماؤں کا مشترکہ جلسہ ہوا۔ جلسے کی صدارت مولوی اسرار الدین الہلال نے کی۔اس جلسہ میں پہلی بار شہزادہ سراج الملک نے شرکت کرکے اظہار حیال کیا۔جلسہ میں ایک متفقہ قرارداد بھی منظور ہوا۔قرارداد کے ذریعے حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ لواری ٹنل سے شندور اور درہ پاس تک تمام سڑکوں پر دوبارہ فوری کام شروع کیا جائے۔گرم چشمہ سڑک کیلئے فنڈ دوبارہ منظور کیا جائے۔قرارداد کے ذریعے مطالبہ کیا گیا کہ آیون اور وادی کیلاش کی سڑکوں پر کام بند نہ کیا جائے اور اس سڑک میں آنے والے زمینوں کے مالکان کو فوری ادایگی بھی کی جائے۔مقررین نے کہا کہ چترال میں قیمتی معدنیات کے پہاڑ اور ذحائیر موجود ہیں مگر اس کی لیز غیر مقامی بااثر افراد کو دی گئی ہے جس سے مقامی لوگ استفادہ نہیں کرسکتے قرارداد ک ذریعے صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ ان معدنیات کے ذحائیر سے مقامی لوگوں کو فائدہ دیا جائے۔
قرارداد کے ذریعے دروش سے مڈگلشٹ کی سڑک کی تعمیر کا بھی مطالبہ کیا گیا۔ارندو جو کہ ماضی میں ایک بڑا تجارتی مرکز بھی تھااس سڑک پر بھی فوری کام شروع کرکے زمین کے مالکان کو ادایگی کی جائے۔قرارداد میں مطالبہ کیا گیا کہ بیوٹیفیکشن آف چترال کے نام پر جو 28 کروڑ روپے کا فنڈ آیا ہوا ہے اس فنڈ سے بھی معیاری کام کرکے چترال کی خوبصورتی کا کام جلد سے جلد مکمل کیا جائے۔قرارداد میں مطالبہ کیا گیا کہ ماضی کی طرح چترال کے سرکاری غلہ گوداموں سے مقامی لوگوں کو رعایتی نرح پر گندم فراہم کیا جائے۔ مطالبہ کیا گیا کہ سرکاری غلہ گوداموں سے جو گندم فلور مل مالکان کو دی جاتی ہے وہ آئے روز آٹے کی قیمت بڑھاتے رہتے ہیں اس سلسلے کو بند کیا جائے لوگوں کو ان گوداموں سے گندم بھی دی جائے تاکہ وہ اپنے مرضی سے پن چکی میں اس سے آٹا پیس کر اسے استعمال کرے۔چترال میں چار سو سے زیادہ پن چکیوں کو بند کیا گیا ہے جس سے چار سو گھرانے متاثر ہوئے ہیں قرارداد کے ذریعے مطالبہ کیا گیا کہ ان پن چکیوں کو دوبارہ بحال کیا جائے اور یہ ظالمانہ فیصلہ واپس لیا جائے جس میں صرف مل مالکان کو خوش کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔چترال میں 107 میگا واٹ پن بجلی گھر گولین میں تعمیر ہوچکا ہے مگر علاقے کے لوگ اس بجلی سے محروم ہیں اور چترال میں اب بھی آٹھ سے دس گھنٹے لوڈ شیڈنگ کا سلسلہ جاری ہے جبکہ یہاں نہ کارخانہ ہے نہ کوئی بجلی چوری کرتا ہے قرارداد کے ذریعے واپڈا حکام سے مطالبہ کیا گیا کہ اس ظالمانہ اور ناروا لوڈ شیڈنگ کا سلسلہ بند کیا جائے اور عوام کو سستی نرح پر بجلی فراہم کیا جائے تاکہ وہ اسے کھانا پکانے اور خود کو گرم رکھنے کیلئے بھی استعمال کرسکے۔
یہ بھی مطالبہ کیا گیا کہ مرکزی حکومت اپنا وعدہ پوراکرتے ہوئے گولین بجلی گھر سے چترال کو تیس میگا واٹ بجلی دیکر بقایا بجلی کو نیچے اضلاع کو دی جائے۔چترال کے دونوں اضلاع میں سڑکوں میں آنے والے زمین کے مالکان کو مارکیٹ ریٹ کے مطابق قیمت ادا کی جائے۔ قرارداد کے ذریعے مطالبہ کیا گیا کہ چترال میں بھی گورنمنٹ میڈیکل کالج کی قیام پر غور کیا جائے اور ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز ہسپتال جو پندرہ سال قبل اسے کیٹیگری بی کا درجہ دیا گیا تھا مگر اس پر ابھی تک عملی کام نہیں ہوا ہے اس ہسپتال میں بھی کیٹیگری B کے مطابق تمام سہولیات فراہم کیا جائے۔ چترال یونیورسٹی کی تعمیر کا کام جلدی شروع کیا جائے اور اپر چترال کے قاقلشٹ کے میدان میں تریچ میر یونیورسٹی پر بھی کام شروع کیا جائے۔ قرارداد میں یہ بھی مطالبہ کیا گیا کہ چترال کے دونوں اضلاع کیلئے انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری بورڈ کے قیام کا جلد از جلد اعلان کیا جائے۔
چترال کی جنگلات کو حتم ہونے اور ماحول کو تباہ ہونے سے بچانے کیلئے ضلع اپر اور لوئیر چترال کے لئے منظور شدہ ایل پی جی گیس پلانٹ کی چترال میں تنصیب کا کام جلد شروع کیا جائے اس مقصد کیلئے خریدے گئے زمینات کو نیلام نہ کیا جائے۔جلسہ سے الحاج عید الحسین، شریف حسین، وقاص احمد ایڈوکیٹ،لیاقت علی، عنایت اللہ اسیر، شہزادہ سراج الملک، نور احمد خان چارویلو،سلطان نگاہ،شبیر احمد، رحمت علی جعفر دوست، چوہدری امان اللہ اور دیگر نے بھی اظہار حیال کیا۔ جلسہ میں اس بات پر نہایت افسوس کااظہار کیا گیا کہ نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے ٹھیکدار نے چترال سے بونی سڑک جو چین کے ایک تعمیراتی کمپنی نے چالیس سال پہلے بنایا تھا مگرا س کی تارکول ابھی تک نہایت مضبوط تھی مگر این ایچ اے حکام نے اس سڑک کی کشادگی کے دوان پورے سڑک سے تارکول اکاڑ کراسے کھنڈرات کی شکل میں تبدیل کیا اور دوبارہ اس پر تارکول بھی نہیں کیا جس سے ایک طرف نہایت مٹی اور گرد و غبار اٹھتی ہے تو دوسری طرف سڑک کے بیچ میں کھڈوں کی وجہ سے مریض اس سڑک پر سفر کے دوران نہایت مشکلات سے دوچار ہوتے ہیں۔ مقررین نے حکومت پر واضح کیا کہ ہم پر امن لوگ ہیں اور نہایت مہذب طریقے سے اپنا جائز حق مانگتے ہیں ہمیں مجبور نہ کیا جائے کہ ہم بھی دوسرے لوگوں کی طرح سڑکوں پر آکر جلاؤ گھیراو پر مجبور ہوجائے۔
بعد میں جلسہ کے شرکاء نے ایک ریلی بھی نکالی جس میں تمام سول سوسائٹی اراکین اور سیاسی جماعتوں کے نمائندوں نے بھی شرکت کی۔ یہ جلسہ دعائیہ کلمات کے ساتھ احتتام پذیر ہوا۔