ورلڈ ہیڈر ایڈ

چونیاں میں ایک اور بچے کی اغوا کی کوشش ناکام، پولیس صحافیوں کے سوال پر برہم

چونیاں میں ایک اور بچے کو اغوا کرنے کی کوشش کی گئی تا ہم اغوا کاروں کو ناکامی کا سامنا کرنا پڑا،پولیس کی بھاری نفری ہونے کے باوجود اغوا کار متحرک ہیں

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ضلع قصور کی تحصیل چونیاں جہاں بچوں کے اغوا کے بعد قتل کی خبریں آںے کے بعد حکومت متحرک ہوئی وہیں آج ایک اور بچے کو اغوا کرنے کی کوشش کی گئی تا ہم کم عمر لڑکا اغوا کاروں کے چنگل سے بھاگنے میں کامیاب ہو گیا ،اس دوران لڑکا زخمی ہوا جسے علاج کے لئے مقامی ہسپتال منتقل کر دیا گیا

نامعلوم برقعہ پوش اغواء کاروں نے اغواء کرنے کی کوشش میں ایک بچہ اغوا کیا جو اغواکاروں کے چُنگل سے فرار ہونے میں کامیاب مقامی لوگوں نے تشویش ناک حالت میں بچے کو تحصیل ہسپتال چونیاں پہنچا دیا، مقامی صحافی کے سوالات پر پولیس آگ بگولہ ہو گئی،پولیس کی بھاری نفری ہونے کے باوجود اغوا کار متحرک ہیں جس سے بچے خوف میں مبتلا ہیں

چونیاں :بچوں کا اغوا ، قتل اور زیادتی کی تحقیقات جاری، متعدد گرفتار،کسی بھی وقت بریک تھرو ہوسکتا ہے، ڈی پی او قصور

کسی بھی چونیاں میں‌بچوں‌کے اغوا، قتل اور پھر زیادتی کے حوالے سے بریک تھرو ہوسکتا ہے ، چونیاں میں بچوں کے اغواء اور قتل کی تحقیقات ڈی پی او زاہد نواز مروت کی سربراہی میں جاری ہیں۔ کیس میں متعدد افراد کو شامل تفتیش کیا گیا ہے۔ جبکہ علاقے کے مشکوک افراد کے ڈی این اے سیمپل بھی اکٹھے کئیے جا رہے ہیں۔ان خیالات کا اظہار ڈی پی او قصور نے مختلف سوالات کے جوابات دیتے ہوئے کیا

مشتبہ افراد کی ڈی این اے سمپلنگ کرلی گئی اس حوالے سے ڈی پی او قصور نے کچھ معلومات دے دی ہیں‌، تفتیشی حکام کے مطابق تین بچوں کا اغواء ایک کلومیٹر کی حدود میں ہوا۔ شبہ ہے کہ مغویان ملزم سے واقفیت رکھتے تھے۔ دوسری جانب پولیس نے نو مشکوک افراد کو حراست میں بھی لیا ہے جن سے پوچھ گچھ جاری ہے

واضح رہے کہ ضلع قصور میں بچوں کی مسخ لاشیں ملنےکے واقعے نے سنسنی پھیلا دی ہے، زینب قتل کیس پھر تازہ ہوگیا۔پتوکی میں تین بچوں کی لاشیں ملی ہیں،جو وقفہ وقفہ سے کچھ دیر قبل گم ہوئے تھے. ایک بچےکی لاش مکمل حالت میں، جب کہ دوبچوں کے سر اور ہڈیاں برآمد ہوئیں.قتل ہونے والا آٹھ سال کا فیضان پیرکو لاپتا ہوا تھا، سلیمان دس اگست اور علی حسنین ایک ماہ سےلاپتا تھے، علاقہ مکینوں کے مطابق بچوں کے لاپتا ہونے کا سلسلہ دو ماہ سے جاری ہے، مگر کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔

دوسری طرف وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے فوری نوٹس لے لیا اور انسپکٹر جنرل پولیس پنجاب سے رپورٹ طلب کر لی ہے- وزیراعلیٰ نے بچوں کے قتل کے واقعہ میں ملوث ملزمان کا جلد سراغ لگا نے کا حکم دیا ہے اور کہا ہے کہ ملزمان کو قانون کی گرفت میں لا کر سخت کارروائی عمل میں لائی جائے- مقتول بچوں کے خاندانوں کو انصاف کی فراہمی ہر صورت یقینی بنائی جائے گی۔

رپورٹ میں بچوں سے زیادتی کی تصدیق ہو گئی،فیضان کی پوسٹ مارٹم رپورٹ جاری ہے. بچوں کی ہلاکت کے سلسلے میں 9 مشکوک افراد کو نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا.

چونیاں شہر میں معصوم بچوں کے ساتھ بد فعلی کے بعد بے دردی سے قتل ہونے والے بچوں کی خبر جنگل میں آگ کی طرح پھیل گئی جس کی وجہ سے پورے شہر سمیت ضلع قصور کی عوام خون کے آنسو رو رہے ہیں ہر طرف کہرام مچا ہوا ہے ہر آنکھ اشکبار ہو گئی ہے شہری خوف میں مُبتلا ہو گئے ہیں جبکہ مقامی پولیس عوام کو تحفظ فراہم کر نے میں بُری طرح ناکام دکھائی دے رہی ہے چونیاں شہر میں ظلم کی ایسی داستان رقم ہو گئی ہے جسکی مثال تاریخ میں کہیں نہیں ملتی بچوں کے والدین صدمہ سے نڈھال ہو گئے ہیں بچوں کے ورثا ء سمیت ہزاروں شہریوں نے وزیراعظم اعظم پاکستان ، وزیر اعلی پنجاب ، چیف جسٹس آف پاکستان اور آئی جی پنجاب سے مُطالبہ کیا ہے کہ معصوم بچوں کو بد فعلی کا نشانے والے اور موت کے گھاٹ اتارنے والے درندوں کو جلد از جلد ٹریس کر کے نشان عبرت بنایا جائے

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.