fbpx

کرس ہپکنز نیوزی لینڈ کے نئے وزیرِاعظم نامزد

ویلنگٹن: نیوزی لینڈ کی خاتون وزیرِ اعظم جیسنڈا آرڈرن کے استعفٰے کے بعد لیبر ایم پی کرس ہپکنز کو نیوزی لینڈ کے نئے وزیرِاعظم نامزد کر دیئے گئے۔

باغی ٹی وی: غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق نیوزی لینڈ میں قدیم مقامی نسل ماوری سے تعلق رکھنے والے وزیرِ اعظم کے انتخاب کیلئے دباؤ دیکھا گیا جس کے بعد ملک کے وزیرِاعظم کیلئے کرس ہپکنز کے علاوہ وزیرِ انصاف کیری ایلن اور وزیر امیگریشن مائیکل ووڈ کے نام زیرِ غور تھے۔

نیوزی لینڈ کی وزیراعظم کا اقتدار چھوڑنے کا اعلان

تاہم نیوزی لینڈ کے نئے وزیرِاعظم کیلئے لیبر ایم پی کرس ہپکنز کو نامزد کر لیا گیا ہے جنہیں اس عہدے پر براجمان ہونے کیلئے اتوار کو ایوان میں لیبر پارٹی کی جانب سے باضابطہ توثیق کے بعد نیوزی لینڈ کا نیا وزیرِاعظم مقرر کیا جائے گا۔

جیسنڈا 7 فروری کو باضابطہ طور پر اپنا استعفی گورنر جنرل کنگ چارلس 3 کو پیش کریں گی جس کے بعد اگر کرس ہپکنز کو ایوان نمائندگان کی جانب سے حمایت حاصل ہوئی تو گورنر جنرل انہیں وزیرِ اعظم مقرر کریں گے۔

رواں برس ہی روسی افواج کو یوکرینی علاقوں سے نکالنا بہت مشکل ہے،امریکا

44 سالہ کرس ہپکنز پولیس تعلیم اور عوامی خدمت کے وزیر ہیں جو 2008 میں پارلیمنٹ کا حصہ بنے تھے کرس ہپکنز عارضی طور پر نیوزی لینڈ کے وزیرِ اعظم کے عہدے کو سنبھال سکیں گے کیونکہ رواں سال اکتوبر میں عام انتخابات ہوں گے۔

یاد رہے کہ جیسنڈا آرڈرن نے جمعرات کو انتخابات میں دوسری مدت حاصل کرنے کے تین سال سے بھی کم عرصے کے بعد اچانک عہدے سے الگ ہونے کا اعلان کر دیا تھا۔

اپنا جانشین منتخب کئے بغیر اچانک عہدہ چھوڑنے کا اعلان کر کے جیسنڈا نے سب کو حیران کر دیا تھا جس کے بعد فوری طور پر عبوری وزیرِ اعظم کو منتخب کرنے کیلئے پارلیمنٹ سر جوڑ کر بیٹھ گئی تھی۔

ہپکنز کے پاس عام انتخابات لڑنے سے پہلے آٹھ ماہ سے بھی کم وقت ہوگا۔ رائے عامہ کے جائزوں نے اشارہ کیا ہے کہ لیبر مرکزی مخالف، قدامت پسند نیشنل پارٹی سے پیچھے ہے۔

ہپکنز کو کورونا وائرس وبائی مرض کے دوران عوامی اہمیت حاصل ہوئی جب اس نے بحران کے انتظام میں ایک قسم کا کردار ادا کیا۔ لیکن وہ اور دیگر لبرلز طویل عرصے سے آرڈرن کے سائے میں رہے ہیں، جو بائیں بازو کا عالمی آئیکن بن گئے اور قیادت کے ایک نئے انداز کی مثال پیش کی۔

برطانوی وزیراعظم کوکارمیں دوران سفرسیٹ بیلٹ نہ باندھنے پرجرمانہ