fbpx

وفاقی حکومت نے کرسچن میرج ایکٹ کی بعض دفعات کا ترمیمی مسودہ تیار کرلیا

کرسچن میرج ایکٹ کے تحت طلاق کے طریقہ کار کے خلاف کیس میں وفاق نے جواب جمع کر ادیا-

باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابقڈپٹی اٹارنی جنرل سید محمد طیب شاہ کی جانب سے رپورٹ عدالت میں جمع کرائی گئی ، ڈپٹی اٹارنی جنرل نے کہا کہ کرسچن میرج ایکٹ کی بعض دفعات کا ترمیمی مسودہ تیار کرلیا، ترمیمی مسودے کی تیاری اقلیتی نمائندوں کی مشاورت سے کی گئی۔

ڈپٹی اٹارنی جنرل طیب شاہ کے مطابق وزارت انسانی حقوق نے مذہبی امور کی مشاورت کے بعد مسودہ وزارت قانون کو بھجوایا، مسودے کا قانونی اور آئینی جائزہ لے کر پارلیمنٹ میں پیش کیا جائے گا۔

قبل ازیں لاہور پنجاب اسمبلی میں نکاح نامے میں ختم نبوت کا حلف شامل کرنے کی قرارداد منظور کر لی گئی اجلاس میں نکاح نامے کے فارم میں ختم نبوت کا حلف شامل کرنے کی قرارداد متفقہ طور پر منظور کرلی گئی۔

نکاح نامے میں ختم نبوت کا حلف شامل کرنے کی قرداد منظور

قرار داد مسلم لیگ (ق) کی خدیجہ عمر، بسمہ چوہدری اور (ن) لیگ کے مولانا الیاس چنیوٹی نے مشترکہ طور پر پیش کی اس کے علاوہ اجلاس میں یونیورسٹی آف لاہور ترمیمی بل، راشد لطیف یونیورسٹی اور دیگر ترمیمی بل متعارف کرائے گئے جو متعلقہ کمیٹیوں کو ریفر کردیئے گئے۔

اس سے قبل وفاقی شریعت عدالت نے لڑائی جھگڑوں میں بدلِ صلح کے طور پر غیرشادی شدہ عورت کا رشتہ دینے کی بھیانک رسم ونی یا سوارہ کو غیراسلامی قرار دے دیا ہے یہ فیصلہ چیف جسٹس محمد نور مسکانزئی کی سربراہی میں جسٹس ڈاکٹر سید محمد انور اور جسٹس خادم حسین ایم شیخ پر مشتمل فل بینچ نے سنایا تھا-

سوموار کے روز درخواست گزارسکینہ بی بی کی درخواستوں کی سماعت مکمل ہونے کے بعد وفاقی شرعی عدالت نے قرار دیا ہے کہ لڑائی جھگڑوں میں بدلِ صلح کے طور پرغیرشادی شدہ عورت کا رشتہ دینے کی بھیانک رسم ونی یا سوارہ غیراسلامی ہے۔

شریعت عدالت نے ونی یا سوارہ کی رسم کو غیر اسلامی قرار دے دیا

عدالت نے کہا کہ قرآنی آیات اور احادیث نبوی ﷺ کی روشنی میں یہ رسم، جو ملک کے مختلف علاقوں میں مختلف ناموں سے رائج ہے، قطعا ًغیر اسلامی اور قرآن و سنت کی تعلیمات کیخلاف ہے، عدالت نے وضاحت کی ہے کہ اس رسم کے خلافِ اسلام ہونے پر جمہور علماکا اجماع ہے۔

واضح رہے کہ سوارہ کی رسم جس میں عورت کوبدل صلح کے طور پر دیا جاتا ہے اور پاکستان کے مختلف علاقوں میں مختلف ناموں سے رائج چلی آ رہی ہے حکومت نےتعزیرات پاکستان کی مختلف دفعات کے تحت اس رسم کو قابل تعزیر جرم قرار دیا ہے لیکن پھر بھی ملک کےمختلف علاقوں میں یہ رواج موجود ہے،اس رسم کوپنجاب میں ونی جبکہ خیبرپختونخوا میں سوارہ کہا جاتا ہے۔

Facebook Notice for EU! You need to login to view and post FB Comments!