تمباکو نوشی کے خلاف کرومیٹک کے زیر اہتمام کانفرنس :کس کس نے اور کیا گفتگو کی؟ تفصیلات آگئیں

0
31

مری : تمباکو نوشی کے خلاف کرومیٹک کے زیر اہتمام کانفرنس :کس کس نے اور کیا گفتگو کی تفصیلات آگئیں،اطلاعات کے مطابق تمباکو نوشی کے خلاف مری میں کرومیٹک کے زیر اہتمام کانفرنس ہوئی ۔کانفرنس می اسلام آباد لاہور سے میڈیا پرسنز نے شرکت کی۔ لاہور سے باغی ٹی وی. اردو پوائنٹ ۔ ڈیلی پاکستان کے نمائندگان کانفرنس میں شریک ہوئے . مقامی ہوٹل میں ہونے والی کانفرنس میں تمباکو نوشی کے خلاف بریفنگ دی گئی جس میں بتایا گیا کہ بچوں کو سگریٹ نوشی سے بچانا ہے

شارق خان نے کہا کہ تمباکو انڈسٹری کو پاکستان میں ختم کرنا ہے تو یہ ایک ایونٹ سے نہیں ہو گا ۔یہ ایک انڈسٹری ہے اسکی کوشش ہے کہ روز 12 سو بچوں کو ٹارگٹ کیا جائے اور جو ایک بار سموکر بنتا ہے وہ ساری زندگی انکا کسٹمر ہے۔ نئے بچوں کو بڑی عادت سے روکنا چاہتے ہیں ایک طریقہ ہے جو پوری دنیا میں بار بار آزمایا جاتا یے۔ سات سال سے 15 سال کی عمر تک سگریٹ پینے والے کو سگریٹ بہت سستے میسر ہیں ۔ اگر لاز پر عمل ہو اور قیمت بڑھا دی جائے تو بچہ خریدے سے دور ہو جائے گا۔ وزیراعظم عمران خان کو تمباکو نوشی انڈسٹری کی طرف سے ڈونیشن ملی جو انہوں نے واپس کئ۔ کسی کی آواز چھوٹی نہیں ہوتی

طیب نے کہا کہ ٹوبیکو انڈسٹری کئ طرف سے جو ڈس انفار میشن آتی ہے ۔ اسکو دیکھتے ہیں ۔ ملکر کام کر رہے ہیں ۔میڈیا بھی تمباکو نوشی کیخلاف چیزوں کو اجاگر کیا جا رہا یے۔یوتھ کو آگاہی دیتے ہیں پالیسی میکرز کے ساتھ ہماری ملاقات ہوتی رہتی ہے ۔حکومتی اپوزیشن اراکین کو اس ایشو سے آگاہ کرتے رہتے ہیں ۔ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی میں بھی اس ایشو کو اٹھایا ہے۔ تعلیمی اداروں میں بھی آگاہی دی جاتی ہے۔ میڈیا کے تعاون کا شکریہ ادا کرتے ہیں جو اس ایشوز پر ہم سپورٹ کرتے ہیں ۔ ٹیکس چوری کی بات بجٹ سے پہلے کی جاتی ہے ۔ یہ 77 ارب ٹیکس چوری کی جو بات کرتے ہیں اس پر انکے پاس کوئی ثبوت نہیں ۔ ٹیکس بڑھانے کی جو حکومت بات کرتی ہے تو ٹیکس چوری کا واویلا کیا جاتا ہے ۔ حکومت کو بلیک میل کیا جاتا ہے یہ واحد انڈسٹری ہے جس میں قیمتیں نہیں بڑھیں ۔پالیسی میکرز کو یہ لوگ مس گائیڈ کرتے ہیں۔

ڈاکٹر ضیاالدین نے کہا کہ تمام ممالک کے ایکسپرٹس میٹنگ کرتے اور اصول طے کرتے کہ کیسے تمباکو نوشی کے خلاف کام ہونا چاہئے پالیسی اچھی بنا لی لیکن اس پر کام نہیں کر سکے۔ لاگو نہیں ہو سکی۔ الارمنگ صورتحال ہے اپنی کوشش بڑھانی چاہئے تا کہ بچے استعمال نہ کر سکیں . 450 افراد کی روز بیماریوں سے موت ہوتی ہے۔ حکومت کا علاج پر فوکس نہیں . سوسائٹی اپنی بیماریوں پر پیسہ خود خرچ کرتی ہے

شارق خان کا مزید کہنا تھا کہ ٹوبیکو انڈسٹری کو کوئی پروموٹ نہیں کرنا چاہتا ۔ ٹوبیکو انڈسٹری دھوکہ دے رہی ہے اور عوام کو بتاتی ہے کہ آپ ملک کی بہتری کے لیے کام کر رہے ہیں ۔ ہمارا فوکس ہے کہ بچوں کو سگریٹ سے روکیں

Leave a reply