fbpx

تمباکو نوشی ترک کرنے کے فوائد تحریر ، راحیلہ عقیل

سگریٹ کے ڈبے پر بھیانک تصویر گلا سڑا منہ اور ساتھ لکھی ہدایات کے باوجود تمباکو نوشی کرنے والوں میں کوئی ڈر خوف نظر نہیں آتا وہ جانتے بوجھتے اپنی صحت کو نقصان پہنچا رہے ہوتے ہیں اور ساتھ ساتھ سگریٹ کے دھوئیں سے آس پاس موجود افراد بھی اسکا شکار ہوتے ہیں چھوٹے بچوں کے سامنے تمباکو نوشی کرنا نا کے صرف بچوں کو نقصان پہنچایا جارہا بلکہ بچوں کو انجانے میں نشے کی ترغیب بھی دی جارہی، بہت سے گھروں میں اگر ایک والد تمباکو نوشی کرتا ہے تو لازمی سی بات ہے اسکے بچے بھی یہی چیز سیکھیں گے” کہ ایسا کیا مزہ ہے اس میں بچے گھروں سے باہر جاکر دوستوں میں تمباکو نوشی کرتے پھر دھیرے دھیرے یہ عادی ہوجاتے جب تک گھروالوں کو خبر ہوتی بچہ اس نشے کا عادی ہوجاتا آپ بچے کو ڈانٹیں ماریں اس پر دباو ڈالیں گے تو مزید بچہ بگڑے گا وہ چڑچڑا ہوگا اسکو سکون ملے گا صرف تمباکو نوشی میں، والدین کو اس بات کا خاص خیال رکھنا ہوگا کے ہمارے بچے کن دوستوں میں اٹھ بیٹھ رہے کہیں انکا کوئی دوست ساتھی انکو تمباکو نوشی پر تو نہیں لگا رہا

تمباکو نوشی انسانی معاشرے کی ایک بہت بڑی کمزوری ہے اس کے کئی جسمانی وذہنی نقصانات ہیں۔ لیکن اس کے باوجود ایک بڑے طبقے میں اس کا استعمال مدتوں سے دیکھا جارہا ہے تمباکو نوشی کے رحجان کوکم کرنے اور اس پر قابو پانے کے لیے بہت سی کتابیں لکھی گئی ہیں، ہر سال ایک لاکھ ساٹھ ہزار سے زائد افراد تمباکونوشی سےمتعلق بیماریوں کےباعث ہلاک ہوجاتے ہیں۔یعنی یہ زہر روزانہ سیکڑوں افراد کو لقمہ اجل بناتاہے، تمباکو ہر لحاظ سے نقصان دہ ہے ۔اس کے پتے pestisides ہیں اس میں پندرہ اقسام کےسرطان مخفی بتائے جاتے ہیں جن کی براہ راست وجہ تمباکو ہے۔دنیا میں جو دس بڑی بیماریاں جن میں چھ کی وجہ تمباکو نوشی بتائی جاتی ہے۔ پاکستان میں سگریٹ نوشی کےانسداداور نان اسموکرز کے تحفظ کا قانون مجریہ2002سے رائج ہے ۔جس کے تحت عوامی مقامات پر سگریٹ نوشی کرنا قانون جرم ہے جس کی سزاقید کےساتھ جرمانہ بھی ہے، اسکے باوجود ہمیں سڑکوں پر دفاتر میں کھلے عام یہ نشہ کرتے لوگ نظر ہیں جن میں کوئی ڈر خوف نہیں نا ہی قانون کی سختی نظر آتی ہے،

اکثر طلباء پرھائی کا دباؤ کم کرنے کے لیے تمباکو نوشی کا سہارا لیتے نظر آتے ہیں، بکثرت سگریٹ نوشی سے سیل یعنی تپ محرقہ (ٹی بی) کی بیماری ہونے لگتی ہے۔والدین، استادوں اور سماج کے معزز لوگوں کو مل کر حقہ نوشی اور سگریٹ نوشی کے خلاف موثر اقدام اٹھانے کی ضرورت ہے۔ اکثر ہونہار اور اچھے لڑکے سگریٹ نوشی کی وجہ سے تباہ و برباد ہو جاتے ہیں۔ تمباکو نوشی سے دل کے امراض اور پھیپھڑوں کے سرطان جیسی خطرناک بیماریاں ہوتی ہیں اور تمباکو نوشی کرنے والا اپنی اوسط عمر سے پندرہ سال پہلے دنیا سے گزر جاتاہے، تشویش ناک بات یہ ہے کہ ملک میں روزانہ تقریباً 1200 بچے سگریٹ نوشی کا آغاز کر رہے ہیں۔یعنی تمباکو نوشی کی جانب بڑھانے والے ہر پانچ میں سے دو کی عمر دس سے بارہ سال ہے۔تمباکو نوشی میں مبتلا افرادکے لیے عوامی مقامات پر تمباکونوشی کی ممانعت، تعلیمی اداروں میں تمباکو کی مصنوعات کی رسائی اوراٹھارہ سال سے کم عمر کےافرادکو سگریٹ فروخت کرنے پر پابندی عائد کی گئی ہے،لیکن اسکے باوجود آپ کو ہر دوسرا بچہ سگریٹ لیتا نظر آئے گا چائیے پھر وہ خود چھپ کر تمباکو نوشی کرے یا کسی کے لیے خرید رہا ہو دکاندار کو اس سے کوئی سرکار نہیں

حکومت پاکستان کو تمباکو نوشی پر ہر سال ٹیکس لازمی لگانا چاہیے اس سلسلے میں کچھ اقدامات کیے جارہے ہیں جن پر عمل ہونے سے کافی حد تک پاکستان میں تمباکو نوشی پر قابو پالیا جائے گا، ہمیں چائیے زمہ دار ہوجاہیں ایسے اچھے اقدامات میں حکومت کو سپورٹ کریں تاکہ ہماری نسلیں اس زہر سے بچ سکیں

*تمباکو نوشی ترک کرنے کے فوائد*
شائد آپ خود آپ کو زیادہ صحتمند اور تازہ دم محسوس کریں، آپ کی روزمرہ کی ادویات میں کمی ھونے کے زیادہ امکانات ہیں، درازی عمر اور اچھی صحت کا واحد راستہ،
اپنے پیاروں کو بچوں کو اس نشے سے بچائیں کیونکہ آپکی جان قیمتی ہے کوشش کریں جلد ازجلد اس لت سے آزادی ملے،