مسلم مخالف شہریت بل :بھارتی مسلم طلبااحتجاج کرتےسڑکوں پرآگئے، پولیس کاتشدداورگرفتاریاں

0
34

بہار:شہریت بل کے خلاف علی گڑھ یونیورسٹی کے بعد جامعہ ملیہ کے طلباء بھی احتجاج کے سڑکوں آگئے،پولیس کاتشدد کئی زخمی سیکڑوں گرفتار،اطلاعات کےمطابق بھارت میں‌مسلم مخالف شہریت قانون میں ترمیم کے خلاف علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے طلبا احتجاجی مظاہرہ کر ہی رہے ہیں، اب جامعہ ملیہ اسلامیہ کے طلبا بھی سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔

اپوزیشن مانے یا نہ مانے ہم مانتے ہیں کہ پاکستان معاشی بہتری کی طرف جارہاہے،آئی ایم…

بہار سے ذرائع کے مطابق جمعرات کی شام سے ہی انھوں نے اس کے خلاف احتجاجی مظاہرہ شروع کر دیا تھا جس نے جمعہ کے روز بڑی شکل اختیار کر لی۔ اس مظاہرے میں طالبات نے بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور مرکز کی مودی حکومت کے خلاف نعرے لگاتی ہوئی نظر آئیں۔ اس درمیان پولس و طلبا کے درمیان زبردست جھڑپ کی خبریں بھی موصول ہو رہی ہیں اور تازہ ترین اطلاعات کے مطابق کئی طلبا کو پولس نے حراست میں لے لیا ہے۔

ہمیں‌ عمران خان کے بیان سے بڑی تکلیف ہوئی ہے ، بھارت چیخ ا‌ٹھا

بھارت سے آمدہ اطلاعات کے مطابق جامعہ ملیہ اسلامیہ (جے ایم آئی) کے ہزاروں طلبا و طالبات شہریت قانون کے خلاف آواز بلند کرتے ہوئے پارلیمنٹ ہاؤس کی طرف مارچ کر رہے تھے لیکن پولس نے انھیں راستے میں ہی روک لیا۔ جب طلبا نے آگے بڑھنے کی کوشش کی تو پولس نے انھیں طاقت کا استعمال کرتے ہوئے روکا۔

دودوست،دونوں وزیراعظم،عمران خان نے بورس جانسن کودوبارہ وزیراعظم بننےپرمبارک باد…

ذرائع کا کہنا ہے کہ پولس پر طلبا نے پتھراؤ بھی کیا کیونکہ انھیں روکنے کے لیے پولس نے آنسو گیس کے گولے داغے۔ خبروں کے مطابق پولس نے کارروائی کرتے ہوئے کئی طلبا پر لاٹھی چارج کیا جس میں کچھ کو زبردست چوٹیں آئیں۔ کچھ زخمی طلبا کا علاج اسپتال میں چل رہا ہے۔


جامعہ کے طلبا پر ہوئی لاٹھی چارج پر آر جے ڈی لیڈر اور بہار کے سابق نائب وزیر اعلیٰ تیجسوی یادو نے افسوس کا اظہار کیا ہے۔ انھوں نے اس سلسلے میں ایک ٹوئٹ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ’’جامعہ ملیہ اسلامیہ کے طلبا ہندوستانی آئین کو بچانے کے لیے اور شہریت قانون میں ترمیم کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے پارلیمنٹ کی جانب مارچ کر رہے تھے جب ان پر حملہ کیا گیا۔ میں اس حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتا ہوں

Leave a reply