سول ایوی ایشن اتھارٹی کو دو حصوں‌ میں تقسیم کرنے کا فیصلہ، وزیر اعظم نے منظوری دے دی

پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی کو دو حصوں میں تقسیم کرنے کا اصولی فیصلہ کرلیا گیا ہے، ایک ڈویژن ریگولیٹری اور دوسرا سروسز کے حوالے سے بنایا جائے گا، ریگولیٹری ڈویژن کابینہ اورسروسز ڈویژن وزارت ایوی ایشن کے ماتحت کام کرے گا، ایئرپورٹس سروسز آف پاکستان کوباقاعدہ ایس ای سی پی میں رجسٹرڈکیاجائے گا۔پہلے مرحلے میں اسلام آباد، لاہور اور کراچی ایئرپورٹ کے سروسز کی نجکاری کی جائے گی ،

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق نجکاری میں ناکامی پر جوائنٹ وینچراس میں ناکامی پر کمپنی خود چلائے گی۔ پیر کو وزیراعظم عمران خان سے وفاقی وزیر برائے ہوا بازی غلام سرور نے ملاقات کی، ملاقات کے دوران پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی کو دو حصوں میں‌ تقسیم کرنے کی باضابطہ طورپر منظوری دی گئی ، ایک ڈویژن ریگولیٹری کا کام کرے گا جبکہ دوسرا ڈویژن ایئرپورٹ میں دی جانے والی سہولیات (سروسز) کے حوالے سے کام کرے گا۔ ایوی ایشن ڈویژن کو دو حصوں میں تقسیم کرنے کی بنیادی وجہ کابینہ کا فیصلہ ہے اور دوسرا ایوی ایشن پالیسی 2019ء کے تحت اس کو دو حصوں میں تقسیم کیا جارہا ہے تاکہ لوگوں کو ایئرپورٹ پر بہترین سہولیات فراہم کی جاسکیں۔

دو حصوں میں تقسیم کرنے کے بعد پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی کابینہ ڈویژن ایئرپورٹس سروسز آف پاکستان ( اے ایس پی) ایوی ایشن ڈویژن کے نیچے کام کرے گا۔ایئرپورٹس سروسز آف پاکستان کو سیکورٹی ایکسچینج کمیشن آف پاکستان میں باقاعدہ رجسٹر کیا جائے گا اور یہ 43ایئرپورٹ کی مالک ہوگی۔ کمپنی مختلف معاشی ماڈل پرکام کرے گی، کراچی ، اسلام آباد اور لاہور میں عوام کو سہولیات کی بہتری کیلئے سروزکوآوٹ سورس کیاجائے گااس کے لیے باقاعدہ ٹینڈر کئے جائیں گے ۔ اگر کوئی مثبت جواب نہ آئے تو ان کو ائیرپورٹسز کو جوائنٹ وینچر کے طورپر چلایا جائے گا اگر اس میں بھی اچھا رسپانس نہ آئے تو ایئرپورٹس سروسز آف پاکستان خود یہ ایئرپورٹ چلائے گی۔ اگست میں ایوی ایشن ڈویژن کو دو حصوں میں تقسیم کیا جائے گا اور اس کی انتظامیہ کمیٹی اور ضابطہ کار اورقانونی حیثیت کی نظرثانی کی جائے گی۔ دو حصوں میں تقسیم کرنے سے ایوی ایشن سیکٹر کو فائدہ ہوگا۔
محمد اویس

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.