fbpx

چیف جسٹس نے میری شہرت کو داغدار کیا،قاضی فائز عیسیٰ

چیف جسٹس نے میری شہرت کو داغدار کیا،قاضی فائز عیسیٰ

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیر اعظم کی جانب سے ارکان اسمبلی کو ترقیاتی فنڈز جاری کرنے سے متعلق کیس جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا 28 صفحات پر مشتمل اختلافی نوٹ جاری کر دیا گیا

اختلافی نوٹ میں کہا گیا کہ وزیر اعظم کے بیان پر سپریم کورٹ نے نوٹس لیا تھا،بظاہر وزیر اعظم کا بیان غیر آئینی تھا،اختلافی نوٹ میں مزید کہا گیا کہ غیر متوقع طور پر کیس کو ختم کر دیا گیا،ایک جج کو آئینی ذمہ داری پوری کرنے سے روکا گیا،جج کسی غیر قانونی کام کا نوٹس لے سکتا ہے،چیف جسٹس نے میری شہرت کو داغدار کیا ،اٹارنی جنرل سمیت کسی فریق نے میری ذات پر اعتراض نہیں کیا،چیف جسٹس کی جانب سے مجھے جانبدار کہنا افسوسناک ہے،مجھے جانبدار کہنا افسوسناک ہے

اختلافی نوٹ میں کہا گیا کہوزیراعظم عمران خان سے متعلق مقدمات سننے سے روکنے پر عہدے سے مستعفی ہونے کا سوچا، لیکن پھر خیال آیا یہ ایک جج سے زیادہ آئین اور عوامی حقوق کا معاملہ ہے، میں اللہ کی مدد سے آئین پاکستان اور عوام کے حقوق کی حفاظت جاری رکھوں گا،وزیراعظم کیخلاف مقدمہ نہ سننے کا مطلب ہے جج صرف پرائیویٹ کیسز سن سکتا۔ عمران خان کو ذاتی طور نہیں جاتنا تو جانبدار کیسے ہوسکتا ہوں۔جانبداری کا الزام عمران خان خود لگا سکتے تھے، اٹارنی جنرل انکے ذاتی وکیل نہیں۔ انتخابات سے قبل ووٹوں کی خریدوفروخت کا الزام عائد کیا گیا،،ایسی صورتحال میں سپریم کورٹ ترقیاتی فنڈز کے اجراء بارے الزام کو نظرانداز نہیں کر سکتی جج صاحبان کا اچانک کمرہ عدالت سے آٹھ کر جانا عدالتی ڈیکورم کے خلاف ہے،

قبل ازیں سپریم کورٹ میں وزیر اعظم کی ارکان اسمبلی کو ترقیاتی فنڈز جاری کرنے سے متعلق کیس ،جسٹس قاضی فائز عیسی ٰنے رجسٹرار سے تحریری فیصلے کی کاپی طلب کی تھی،جسٹس قاضی فائز عیسی نے رجسٹرار سپریم کورٹ کے نام خط لکھا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ گیارہ فروری کے فیصلہ میڈیا پر جاری کر دیا گیا جسکی کاپی مجھے نہیں ارسال کی گئی۔ مجھے کیوں اس فیصلے سے اتفاق یا اختلاف کا موقع فراہم نہیں کیا گیا؟یہ فیصلہ میڈیا کو جاری کرنے کی ہدایت کس نے جاری کی؟

مجھے واٹس ایپ پر کیا موصول ہوا ؟کیا وزیراعظم کا کام لفافے تقسیم کرنا ہے،جسٹس قاضی فائز عیسیٰ

لگتا ہے وزیراعظم نےعدالتی فیصلہ ٹھیک سے نہیں پڑھا،جسٹس قاضی فائز عیسیٰ

ہرمخالف غداراورحمایت کرنے والا محب وطن ،ملک کو منظم طریقے سے تحت تباہ کیا جا رہا ہے،جسٹس قاضی فائز عیسیٰ

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کیس کے تحریری فیصلے کی کاپی مجھے نہیں دی گئی،بینچ کا حصہ بننے والے ججز کو فیصلے کی کاپی فراہم کی جاتی ہے،میں بینچ میں شامل تھا پریکٹس کے مطابق کیس کی فائل مجھے نہیں بھیجی گئی ۔اور فیصلہ میڈیا میں جاری کر دیا گیا ۔مجھے فیصلے سے اتفاق یا اختلاف کا حق نہیں دیا گیا ۔مجھ سے پہلے میڈیا کے ذریعے کیس کے فیصلے سے پوری دنیا کو پتا چل چکا تھا،جسٹس اعجاز الاحسن کو فیصلے کی کاپی موصول ہوئی مگر مجھے نہیں،

قانون آرڈیننس کے ذریعے بنانے ہیں تو پارلیمان کو بند کر دیں،جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے ریمارکس

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا وزیراعظم کی ارکان اسمبلی کو ترقیاتی فنڈز دینے کے معاملے کا نوٹس

جوڈیشل کونسل کے خلاف سپریم کورٹ کا بینچ تحلیل

کسی جج پر ذاتی اعتراض نہ اٹھائیں، جسٹس عمر عطا بندیال کا وکیل سے مکالمہ

ججز کے خلاف ریفرنس، سپریم کورٹ باراحتجاج کے معاملہ پر تقسیم

حکومت نے سپریم کورٹ‌ کے سینئر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیخلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر کر دیا

حکومت نے یہ کام کیا تو وکلاء 2007 سے بھی بڑی تحریک چلائیں گے،وکلا کی دھمکی

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ بھی میدان میں‌ آگئے، ریفرنس کی خبروں‌ پر صدرمملکت کوخط لکھ کر اہم مطالبہ کر دیا

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ جائیداد کے اصل مالک ہیں یا نہیں؟ اٹارنی جنرل نے سب بتا دیا

صدارتی ریفرنس کیس، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ سپریم کورٹ پیش ہو گئے،اہلیہ کے بیان بارے عدالت کو بتا دیا

منافق نہیں، سچ کہتا ہوں، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ،آپ نے کورٹ کی کارروائی میں مداخلت کی،جسٹس عمر عطا بندیال

سپریم کورٹ فیصلے کے بعد صدر اور وزیر اعظم کو فورا مستعفی ہوجانا چاہئے، احسن اقبال

میڈیا پر پابندی لگانے والے مجرم،انہیں جیل میں ہونا چاہئے، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے ریمارکس

ارکان اسمبلی کو ترقیاتی فنڈز کا کیس، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے رجسٹرار سپریم کورٹ کو خط لکھ دیا،اہم انکشاف

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.