fbpx

چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ نے حکومت سے سبسڈائز آٹے کی تقسیم سے متعلق جواب طلب کرلیا

چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ نے سماعت کے دوران کہا ہے کہ مہنگائی کی وجہ سے عوام پریشان ہیں۔

پشاور ہائیکورٹ میں آٹے کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف کیس کی سماعت ہوئی۔ عدالت نے حکومت سے سبسڈائز آٹے کی تقسیم سے متعلق جواب طلب کرلیا۔درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ ملک میں اس وقت آٹے کا شدید بحران ہے، خیبرپختونخوا میں قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے لوگ پریشان ہیں، سبسڈائز آٹا سیاسی بنیادوں پر تقسیم کیا جاتا ہے، جس کی وجہ سے مستحق لوگ رہ جاتے ہیں۔

چیف جسٹس قیصر رشید خان نے ریمارکس دیے کہ آج کل پورے ملک میں مہنگائی اور مہنگے آٹے کی وجہ سے لوگ پریشان ہیں۔ عدالت نے حکومت سے سبسڈائز آٹے کی تقسیم سے متعلق جواب طلب کرلیا۔ واضح رہے کہ اس سے قبل بھی چیف جسٹس قیصر رشید خان آٹا مہنگا ہونے سے متعلق کیسز کی سماعت کرچکے ہیں اور بڑے سخت ریمارکس دے چکے ہیں.

تاہم خیال رہے کہ دوسری جانب گزشتہ دنوں سے کراچی، پشاور، لاہور، اسلام آباد سمیت ملک بھر میں مہنگا آٹا اور بھی مہنگا ہوگیا ہورہا ہے جبکہ ملک میں حالیہ بارشوں اور سیلاب سے مشکلات بڑھنے لگیں،اوپن مارکیٹ میں گندم کی قیمت بڑھی تو چکی مالکان نے بھی آٹے کی قیمتوں میں اضافہ کردیا ہے. ملک میں آٹے کی قیمت 130روپے کلو تک پہنچ گئی اور مزید مہنگا ہونے کا خدشہ ہے۔ کراچی میں آٹا ملک میں سب سے مہنگا ہے۔ ایک کلو کی قیمت125سے130 روپے ہے۔

لاہور میں110 روپے سے 116 روپے میں ایک کلو آٹا مل رہا ہے۔ اسلام آباد میں چکی کا آٹا125 روپے میں فروخت ہونے لگا۔ کوئٹہ میں آٹے کی قیمت120روپے کلو ہوگئی۔ گوجرانوالہ میں چکی کا آٹا 130 روپے کلو فروخت ہو رہا ہے۔ چکی مالکان کا کہنا ہے کہ غلہ منڈیوں میں قلت کے سبب فی من گندم 2 ہزار850 سے بڑھ کر3 ہزار800 روپے تک پہنچ چکی ہے۔ بجلی کے بھاری بل بھی ادا کر رہے ہیں۔ آٹا مہنگا کرنا ناگزیر ہو چکا ہے۔ اوپن مارکیٹ میں بیس کلو آٹے کی قیمت میں بھی اضافہ ہوچکا ہے۔ لاہور میں حکومت کی جانب سے فراہم کردہ بیس کلو آٹے کے تھیلے کی قیمت نو سو اسی روپے ہے جو مارکیٹ میں کئی جگہوں پر دستیاب ہی نہیں۔