fbpx

چیف جسٹس کا جوڈیشل کمیشن کی آڈیو ریکارڈنگ سپریم کورٹ کی آفیشل ویب سائٹ پر جاری کرنے کا حکم

اسلام آباد:چیف جسٹس کا جوڈیشل کمیشن کی آڈیو ریکارڈنگ سپریم کورٹ کی آفیشل ویب سائٹ پر جاری کرنے کا حکم،اطلاعات کے مطابق چیف جسٹس آف پاکستان کی طرف سے یہ حکم دیا گیاہے کہ سپریم جوڈیشل کونسل کے اجلاس کی تمام آیڈیو ریکارڈنگ ویب سائٹ پر پبلک کی جائے تاکہ پاکستانیوں کو ساری صورت حال کا معلوم ہوسکے

 

ترجمان سپریم کورٹ کے مطابق چیف جسٹس کا کہنا ہے کہ اجلاس کی آڈیو ریکارڈنگ سپریم کورٹ کی ویب سائٹ پر جاری کی جائے۔

ترجمان کے مطابق جسٹس فائز عیسیٰ اور جسٹس سردار طارق نے جوڈیشل کمیشن اجلاس کے اعلامیے سے اختلاف کیا جس کے باعث چیف جسٹس نے آڈیو ریکارڈنگ جاری کرنے کی ہدایت کی۔

اعلامیے میں مزید کہا گیا ہے کہ آڈیو ریکارڈنگ کے ایک گھنٹہ 29 منٹ سے ایک گھنٹہ 38 منٹ تک اٹارنی جنرل کی گفتگو ہے جس میں انہوں نے رولز بننے تک ججز تعیناتی کا معاملہ مؤخر کرنے کی بات کی۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ اٹارنی جنرل نے میرٹ پر کسی نامزدگی کی حمایت یا مخالفت نہیں کی بلکہ کمیشن کے 5 ارکان نے کل ہونے والا اجلاس مؤخر کرنے کی حمایت کی تھی۔

 

https://www.supremecourt.gov.pk/

یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کی طرف سے قوم کے نام بڑی مودبانہ گزارش کی گئی ہےکہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور جسٹس طارق مسعود کے خطوط کی وجہ سے ابہام پیدا ہوا اس لیے اجلاس کی آڈیو جاری کی جاتی ہے

 

 

یاد رہے کہ اس سے پہلے سپریم کورٹ کے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے چیف جسٹس پاکستان اور جوڈیشل کمیشن کے دیگر اراکین کو خط لکھ کریہ تاثر دیا تھا کہ کس طرح انہوں نے اور دیگر 4 اراکین نے سندھ ہائیکورٹ کے 3 اور لاہور ہائیکورٹ کے ایک جونیئر جج کے نام سپریم کورٹ میں تعیناتی کے لیے رد کیے۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خط میں کہا گیا ہے کہ چیف جسٹس عمر عطا بندیال اچانک اجلاس چھوڑ کر چلے گئے، جس کے بعد جسٹس اعجازالاحسن بھی چلے گئے۔

خط میں لکھا گیا ہے کہ آئین متوقع تقرریوں کی اجازت نہیں دیتا، چیئرمین جوڈیشل کمیشن نے اجلاس میں لیے گئے فیصلے ڈکٹیٹ نہیں کرائے، لہذا اب یہ قائم مقام سیکریٹری کی ذمہ داری تھی کہ وہ جوڈیشل کمیشن پاکستان کے اجلاس میں کیے گئے فیصلوں کے منٹس تیار کریں۔

جوڈیشل کمیشن کی گزشتہ روز کے اجلاس پر ایک اور سپریم کورٹ کے جج کا خط سامنے آگیا، جسٹس سردار طارق مسعود نے چیف جسٹس اور جوڈیشل کمیشن کے ارکان کو خط لکھا۔

جسٹس طارق مسعود کے خط کے مطابق جوڈیشل کمیشن کے اجلاس شروع ہوا تو چیف جسٹس نے اپنے نامزد ججز کے کوائف بارے بتایا، پھر جسٹس ریٹائرڈ سرمد جلال عثمانی نے چار ججز کی تقرری کے حق میں جب کہ ایک جج کی تقرری کے خلاف رائے دی، میں نے بھی اپنی باری پر رائے دی اور جسٹس اطہر من اللہ چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ کی سپریم کورٹ میں تقرری کا کہا، جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس سجاد علی شاہ نے چیف جسٹس کے ناموں کی منظوری دی۔

اپنے خط میں جسٹس طارق مسعود نے لکھا کہ میں نے بھی سندھ ہائی کورٹ کے تین اور لاہور ہائی کورٹ کے ایک جج کی نامزدگی کو نامنظور کیا، چیف جسٹسز ہائی کورٹس میں جسٹس اطہر من اللہ سینئر ترین جج ہیں، اٹارنی جنرل، وزیر قانون اور بار کونسل کے نمایندوں نے مجھ سے اتفاق کرتے ہوئے چار نامزد ججز کی تقرری کو نامنظور کیا، جسٹس قاضی فائز عیسیـ چیف جسٹس کی جانب سے نامزدگیوں کو نامنظور کرنے کی وجوہات بتا رہے تھے، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی رائے کے دوران ہی چیف جسٹس غیر معمولی اور غیر جمہوری عمل کرتے ہوئے کمیشن کا فیصلہ لکھوائے بغیر اجلاس سے اٹھ کر چلے گئے۔