fbpx

ماحولیاتی تغیرات گمراہ کُن معلومات، پاکستانی میڈیا نے ذمہ داری کا مظاہرہ کیا،برطانوی جریدہ

اسلام آباد: ماحولیاتی تغیرات گمراہ کُن معلومات، پاکستانی میڈیا نے ذمہ داری کا مظاہرہ کیا،،اطلاعات کے مطابق برطانوی جریدے کی ایک تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق پاکستانی میڈیا نے موسمیاتی تبدیلیوں سمیت دیگر ماحولیاتی موضوعات کے حوالے سے ذمہ دارانہ صحافت کا مظاہرہ کیا ہے،

ذرائع ابلاغ میں گمراہ کن اور بے بنیاد خبروں کے تناظر میں شائع کردہ ریسرچ رپورٹ میں واضح کیاگیاہے کہ دیگر ممالک کے برعکس پاکستان میں اس موضوع پر فیک نیوز کے وسیع پیمانے پرپھیلاؤ کے ثبوت نہیں ملے ہیں،

تاہم نسٹ یونیورسٹی اسلام آباد کے میڈیا ڈیپارٹمنٹ سے وابستہ ریسرچرز بشمول ڈاکٹر محمد عارف، ڈاکٹر وقاص اعجاز اور محمد اتفاق نے اپنی رپورٹ میں تسلیم کیا ہے کہ پاکستان میں ماحولیاتی رپورٹرز کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر ہے جبکہ قومی اور علاقائی سطح کی صحافتی تنظیموں میں ماحولیاتی صحافیوں کی نمائندگی نہ ہونے کے برابر ہے۔

میڈیا ریسرچراور ایڈیٹر پریس نیٹ ورک آف پاکستان صباح الدین قاضی کے مطابق ففتھ جنریشن وارفیئر کے تناظر میں سوشل میڈیا پر فیک نیوزکی صورت میں گمراہ کُن معلومات کی بھرمار ہے، پی این پی فیکٹ چیک انٹرنیٹ صارفین پر زور دے رہی ہے کہ وہ فیک نیوز کے تدارک میں اپنا کردار ادا کریں۔

اس حوالے سے نجی ٹی وی چینل سے وابستہ رپورٹر عدیل جاوید وڑائچ کا کہنا تھا کہ پاکستانی صحافیوں کیلئے کلائمیٹ چینج ایک بہت خشک اور بورنگ موضوع ہے،اسی طرح براڈکاسٹ جرنلسٹ سبوخ سیدنے ڈیجیٹل میڈیا کی اہمیت کے پیش نظر جدید ٹولز کے استعمال کی افادیت بیان کی۔

جرنلزم پریکٹس نامی عالمی برطانوی جریدے کی شائع کردہ رپورٹ میں زور دیا گیا ہے کہ پاکستان میں ماحولیاتی رپورٹنگ کا فروغ وقت کی ضرورت ہے،فیک نیوز کا مقابلہ کرنے کیلئے دورِجدید کے نئے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں نبھانی چاہیے، پاکستانی میڈیا پر تحقیقاتی رپورٹ میں اکیس صحافیوں نے حصہ لیا ہے۔