fbpx

وزیراعلیٰ پنجاب کو کسی بھی وقت دوبارہ اعتماد کے ووٹ کا کہا جا سکتا ہے. وکیل گورنر

گورنر پنجاب کے وکیل منصور عثمان اعوان کا کہنا ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب کو کسی بھی وقت دوبارہ اعتماد کے ووٹ کا کہا جا سکتا ہے، اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے کیلئے چھ ماہ کی کوئی قد غن نہیں ہے۔ لاہور ہائی کورٹ کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے گورنر پنجاب کے وکیل منصور عثمان اعوان کا کہنا تھا کہ گورنر پنجاب بلیغ الرحمان نے اپنا جاری کردہ 22 دسمبر کا نوٹیفکیشن واپس لے لیا ہے۔

وکیل منصور عثمان اعوان نے کہا کہ اسپیکر پنجاب اسمبلی نے اعتماد کے ووٹ کی رپورٹ گورنر کو بھیجی، اور گورنر نے رپورٹ کا جائزہ لینے کے بعد 22 دسمبر کا حکم واپس لیا۔ منصور عثمان اعوان کا کہنا تھا کہ گورنر بلیغ الرحمان کسی بھی وقت دوبارہ اعتماد کے ووٹ کا کہہ سکتے ہیں، آئین میں عدم اعتماد کے معاملے پرچھ ماہ کی قد غن ہے لیکن اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے کیلئے چھ ماہ کی کوئی قد غن نہیں ہے۔
مزید یہ بھی پڑھیں؛
رمضان شوگر ملز کو این او سی جاری کرنے کے خلاف پنجاب حکومت کی انٹرا کورٹ اپیل مسترد
آٹا بحران کیس؛ پشاور ہائیکورٹ کا سیکریٹری فوڈ و دیگر کو مارکیٹ کا دورہ کرنیکا حکم
لیپ ٹاپ گم ہونے پر گاہک نےغصے میں اپنی کار ہوٹل پر دے ماری
نادیہ خان 38 ہزار ڈالرز گنوا بیٹھیں. اداکارہ نے دلچسپ واقعہ سنا کر حیران کر دیا
عدلیہ اورنیب کو درخواست کرتا ہوں جھوٹے کیسز ختم کیے جائیں. وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ
معروف فٹبالر کی منفرد گھڑی توجہ کا مرکز بن گئی
وزیراعظم دو روزہ سرکاری دورے پر متحدہ عرب امارات روانہ
یاد رہے کہ گزشتہ روز وزیراعلی پنجاب پرویز الہیٰ صوبائی اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ لینے میں کامیاب ہو گئے تھے ۔انہوں نے 186 ووٹ حاصل کئے ہیں۔ اسپیکر سبطین خان کی زیر صدارت پنجاب اسمبلی کا اجلاس رات گئے شروع ہوا جس میں راجہ بشارت کی جانب سے اعتماد کا ووٹ لینے کی قرارداد پیش کی گئی۔ اجلاس شروع ہوتے ہی اپوزیشن اور حکومتی ارکان اسمبلی میں ہاتھا پائی ہوئی، کرسیاں چلیں۔ اس دوران اپوزیشن نے کارروائی کا بائیکاٹ کر دیا۔وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ اور عطا تارڑ بھی ایوان سے اٹھ کر چلے گئے۔
بعدازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ نے کہا تھا کہ اعتماد کے ووٹ کے عمل کو بلڈوز کر دیا گیا۔