fbpx

بغداد میں قاسم سلیمانی کی برسی پرامریکی ڈرونز کا حملہ:دوڈرون مارگرائے گئے

بغداد :بغداد میں قاسم سلیمانی کی برسی پرامریکی ڈرونز کا حملہ:دوڈرون مارگرائے گئے،اطلاعات کے مطابق عراقی سیکورٹی ذرائع نے بتایا کہ پیر کے روز دو مسلح ڈرونز کو مار گرایا گیا جب وہ بغداد کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کے قریب امریکی افواج کی میزبانی کرنے والے عراقی فوجی اڈے کے قریب پہنچے، انہوں نے مزید کہا کہ اس واقعے میں کوئی بھی زخمی نہیں ہوا۔

یہ حملہ ایسے وقت میں ہوا جب ایران اور عراق میں اس کے اتحادیوں نے اعلیٰ ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کے قتل کی دوسری برسی منائی۔

عراق کے دارالحکومت بغداد میں امریکی ڈرون حملے میں ایران کی القدس فورس کے سربراہ میجرجنرل قاسم سلیمانی اورشیعہ ملیشیا کے رہ نما ابومہدی المہندس کی ہلاکت کی دوسری برسی کے موقع پر سیکڑوں افراد نے ریلی نکالی ہے۔انھوں نے امریکا مخالف شدید نعرے بازی کی ہے۔

مظاہرین نےعراق میں موجود باقی امریکی افواج کو نکالنے کا مطالبہ کیا۔ مظاہرین نے پلے کارڈزاٹھا رکھے تھے،جن پرلکھا تھا:’’ہم آپ کوآج کے بعد شہیدوں کی سرزمین پر نہیں رہنے دیں گے‘‘۔امریکی اور اسرائیلی جھنڈے زمین پر بکھرے پڑے تھے اور ریلی کے دوران میں لوگ انھیں پامال کررہے تھے۔

ایران کی سپاہِ پاسداران انقلاب کے تحت القدس فورس کے سربراہ میجرجنرل قاسم سلیمانی تین جنوری 2020ء کو عراق کے دارالحکومت بغداد کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کے نزدیک امریکا کے ایک ڈرون حملے میں ہلاک ہوگئے تھے۔ان کے ساتھ الحشدالشعبی کے نائب سربراہ ابومہدی المہندس بھی مارے گئے تھے۔

ان کے ڈرون حملے میں اہدافی قتل نے ایران اور امریکا کو ایک ہمہ گیر تنازع میں دھکیل دیا تھا اورعراق میں اشتعال پیدا کردیا تھا جس کے نتیجے میں پارلیمنٹ نے کئی روز بعد ایک غیرپابند قرارداد منظور کی جس میں عراق سے تمام غیر ملکی فوجیوں کو بے دخل کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

امریکا نے بعد میں عراق میں اپنا جنگی مشن ختم کردیا تھا اور مستقبل قریب میں قریباً ڈھائی ہزار فوجی تعینات رکھنے کا فیصلہ کیا تھا۔وہ عراقی افواج کی تربیت کے لیے مشاورتی کردار جاری رکھیں گے۔عراقی ملیشیاؤں کے بعض رہ نما تمام امریکی فوجیوں کے انخلا پراصرار کررہے ہیں۔

ایران کے اتحادی کے سربراہ ہادی العامری نے کہا کہ ہم اپنے شہیدوں کے خون کا بدلہ لینے کے لیے امریکی فوج کے مکمل انخلا سے کم کچھ بھی قبول نہیں کریں گے۔