fbpx

انڈیا میں گائے کے گوبر اور پیشاب سے بنے کاسمیٹکس اورمصالحہ جات یورپی ممالک میں بھی فروخت ہونے لگے

انڈیا میں ہندوؤں کا ایک بڑا طبقہ گائے کو مقدس سمجھتا ہے اوراسے ماں کا درجہ دیتا ہے ۔ گائے کے پیشاب اورگوبر کو بھی مقدس سمجھا جاتا ہے اور اکثر پوجا پاٹھ سے پہلے فرش پر گوبر کا لیپ اور پیشاب کا چھڑکاؤ کیا جاتا ہے۔

باغی ٹی وی : ہندوستان آبادی کے لحاظ سے دنیا کا دوسرا سب سے بڑا ملک ہے جس کی آبادی 1.3 بلین سے زیادہ ہے۔ ہندوستان کی کل آبادی کا تقریباً 80 فیصد ہندو مذہب پر یقین رکھتا ہے۔ ہندوؤں کی مذہبی کتابوں کے مطابق گائے کو دیوتا نہیں سمجھا جاتا۔ لیکن گائے کا تعلق ادیتی سے تھا، جو سب سے قدیم ہندو صحیفہ میں بیان کردہ تمام دیوتاؤں کی ماں ہے۔ گائے کا تقدس ان کے جذبات، احساسات اور خوابوں میں گہرا جڑا ہوا ہے، جس کی وجہ سے وہ اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ گائے کی حفاظت اور ان کی دیکھ بھال ان کی مذہبی ذمہ داری ہے۔ ہندومت میں گائے کو مارنے اور اس کا گوشت کھانے کا خیال گناہ ہے


ہندو مذہبی نظام گائے کی مصنوعات کو بہت اہمیت دیتا ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ گائے کی ضمنی مصنوعات جیسے گوبر، گھی، دودھ، دہی اور پیشاب صاف کرنے والے ایجنٹ ہیں۔ 3 ہندومت میں، گائے کے گوبر کو گھروں کی صفائی اور نماز کی رسومات کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

ان کا خیال ہے کہ اس میں علاج اور جراثیم کش خصوصیات ہیں۔ آرتھوڈوکس ہندو ونگ گائے کی مصنوعات کو ہر چیز کا علاج سمجھتا ہے۔ مثال کے طور پر ایک بھارتی وزیر نے دعویٰ کیا کہ گائے کا پیشاب پینے سے کینسر کا علاج ہو سکتا ہے۔ 5 ایک اور سیاستدان نے دعویٰ کیا کہ مقامی ہندوستانی گائے کا دودھ پیلا ہے کیونکہ اس میں سونا ہوتا ہے۔

یہاں تک کہ سرکاری ادارے نے دعویٰ کیا ہے کہ مرگی ،جگر کا کینسر ،معدے کے امراض ، چنبل، جلد کے امراض، ایگزیما، گٹھیا، سوزش، جذام وغیرہ جیسے امراض کا علاج گائے کے دودھ، گوبر اور پیشاب سے کیا جا سکتا ہے چل رہی حکومت ایک ایسا پروجیکٹ شروع کرنا چاہے گی جس میں سائنسدان دیسی گایوں کی ضمنی مصنوعات سے ٹوتھ پیسٹ، شیمپو اور مچھروں کو بھگانے والے مادے تیار کرنے کی کوشش کریں۔

بھارت کی ہندو اکثریت گائے کو مقدس جانور سمجھتی ہے اور کئی ریاستوں میں اس کا گوشت کھانے پر پابندی عائد ہے جڑی بوٹیوں پر مشتمل آیور ویدک طرز علاج میں گائے کے پیشاب کو بڑی اہمیت حاصل ہے اور اس کا استعمال کئی بیماریوں کے علاج میں ہوتا ہے ۔ رام دیو کی جڑی بوٹیوں کی دواؤں اور مصنوعات کی کمپنی ‘پتنجلی’ آیورویدک دواؤں اور کاسمیٹکس کی ملک کی سب سے تیزی سے ابھرتی ہوئی کمپنی بن گئی ہے –


یہاں تک کہ گائے کے گوبر اور پیشاب سے بنے سواد نامی برانڈ کے مصالحہ جات،کاسمیٹکس اور رام دیو کی جڑی بوٹیوں کی دواؤں اور مصنوعات کی کمپنی ‘پتنجلی’ آیورویدک دواؤں اور کاسمیٹکس یورپئین ممالک،کینیڈا امریکا اور یو کے، آسٹریلیا، یو ایس اے وغیرہ جیسے ترقی یافتہ ممالک میں بھی اسٹورز اور بڑے بڑے مالز میں عام دستیاب ہیں جہاں بڑے بڑے برانڈز کے ساتھ فروخت ہوتی ہیں-

کاؤ پیتھی Cowpathy صابن، ٹوتھ پیسٹ، فرش کلینر، بالوں کا تیل، بخور، شیونگ کریم اور فیس واش فروخت کرتی ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ صابن میں گائے کا خشک اور چکنا گوبر، نارنجی کا چھلکا، لیوینڈر پاؤڈر اور گوزبیری شامل ہیں۔ ٹوتھ پیسٹ گوبر، گھی اور پیشاب سے بنتا ہے۔ اب یہ کاسمیٹک مصنوعات اور ادویات کی ایک لائن تیار کر رہا ہے۔

"ہندوستانی صحیفوں میں، خاص طور پر ویدوں میں، گائے کے گوبر اور گائے کے پیشاب میں بہت زیادہ دواؤں کی خصوصیات کا ذکر ملتا ہے،” کاؤ پیتھی کے بانی اور سی ای او امیش سونی نے کوارٹز کو بتایا۔ "آیوروید میں بہت ساری جڑی بوٹیاں استعمال ہوتی ہیں، لیکن گائے کا گوبر، اپنی اینٹی بیکٹیریل خصوصیات کے ساتھ، بہت خالص سمجھا جاتا ہے اور آیوروید کا حصہ ہے۔”

اس نے گائے کے گوبر کے صابن کو بھی پیٹنٹ کرایا۔ آج، ان کی کمپنی 45,000 سے زیادہ یونٹ صابن فروخت کرتی ہے — 75 گرام بار کے لیے 35 روپے میں دستیاب ہے ہر ماہ پورے ہندوستان میں اور امریکہ سمیت تقریباً 13 ممالک میں کمپنی اپنی مصنوعات فروخت کرتی ہے یہ 100 گرام کے لیے 75 روپے میں ہر ماہ ٹوتھ پیسٹ کے 5,000 یونٹس بھی فروخت کرتا ہے۔ دیگر کاؤپیتھی مصنوعات میں فیس واش (50 گرام ٹیوب کے لیے 35 روپے)، فرش کلینر (500 ملی لیٹر کے لیے 125 روپے)، اور بالوں کا تیل (200 ملی لیٹر کے لیے 110 روپے) شامل ہیں۔

کمپنی کی ویب سائٹ کے مطابق اس کے صابن میں گائے کے گوبر کی مقدار 23 فیصد اور گائے کا پیشاب 7 فیصد ہے۔ ٹوتھ پیسٹ میں ہر ایک کا 10% اور 2% گھی ہوتا ہے۔ فرش صاف کرنے والے گاونائل میں گائے کا 11 فیصد پیشاب ہوتا ہے۔ سونی نے کہا،’مجھے لوگوں نے بتایا ہے کہ دو سالوں میں ٹھیک نہ ہونے والے ایکزیما گائے کے گوبر کے صابن کے استعمال سے غائب ہو گئے ہیں۔‘‘

کمپنی نے چھ بھارتی ریاستوں میں تقسیم کار قائم کیے ہیں: تامل ناڈو، کرناٹک، گجرات، آسام، پنجاب اور ہریانہ۔ یہ اپنے خام مال، بنیادی طور پر گوبر اور پیشاب کو ملک بھر میں گائے کی پناہ گاہوں سے حاصل کرتا ہے۔ کاؤپیتھی کا ای کامرس ڈویژن بھی ہے اور اس کی مصنوعات اب دو سہولیات سے تیار کی جاتی ہیں- ہریدوار، اتراکھنڈ، اور سرمور، ہماچل پردیش شامل ہیں-

سال 2014 میں حکومت میں آنے کے بعد سے ہندو قوم پرست بھارتی وزیر اعظم نریندرا مودی کی جماعت کی جانب سے گائے کے گوبر اور پیشاب سے مصنوعات تیار کرنے پر لاکھوں ڈالر خرچ کیے جا چکے ہیں گو کہ اس بات کا کوئی سائنسی ثبوت نہیں ہے لیکن وزیر اعظم مودی کی دائیں بازو سے تعلق رکھنے والی حکمران جماعت کے کئی سیاست دان کرونا (کورونا) وائرس کے علاج کے لیے بھی گائے کے پیشاب یعنی گاؤ موتر کو استعمال کرنے کا مشورہ دے چکے ہیں مودی حکومت نے گائے کے گوبر اور پیشاب پر ریسرچ کرنے کا فیصلہ کیا جسے بھارتی سائنسدانوں نے مسترد کر دیا-

علاوہ ازیں بھارتی حکومت کی جانب سے گائے کے گوبر سے صابن اور دیگر ادویات بنانے کے لیے بنائے گئے قومی گائے کمیشن نامی ادارے نے دعویٰ کیا تھا کہ اس نے ایک ‘چپ’ بنائی ہے جو انسان کو موبائل فون سے خارج ہونے والی تابکاری سے محفوظ رکھ سکتی ہے۔

ادارے کے چئیرمین ولابھائی کٹھاریہ نے ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا تھا کہ اسے موبائل فون کے کور میں رکھا جا سکتا ہے م نے دیکھا ہے کہ اگر آپ اس چپ کو موبائل فون میں رکھیں تو یہ تابکاری کو بڑی حد تک کم کر سکتی ہے۔ گائے کا گوبر تابکاری کا توڑ ہے۔ یہ سب کو محفوظ رکھتی ہے. اگر آپ سے گھر لائیں تو یہ آپ کے گھر کو تابکاری سے بچا سکتی ہے۔ یہ سب کچھ سائنسی طور پر ثابت شدہ ہے ان کے اس بیان کا سوشل میڈیا پر بھرپور مذاق اڑایا گیا تھا-

ادارے کے چئیرمین ولابھائی کٹھاریہ نے بھارتی اخبار ‘انڈین ایکسپریس’ کو بتایا تھا کہ یہ چپس ایسی پانچ سو جگہوں پر تیار کی جا رہی ہیں جہاں گائیں رکھی جا رہی ہیں اور اس کی قیمت تقریباً 100 روپے رکھی گئی ہےایک شخص یہ چپس امریکہ بھی برآمد کر رہے ہیں جہاں اس کی قیمت دس ڈالر رکھی گئی ہے۔’ بھارت میں ان چپس کی قیمت ڈیڑھ ڈالر سے بھی کم ہے۔

گائے رکھشکوں کا یہ بھی ماننا ہے کہ اگر آپ کو کبھی آکسیجن کی کمی محسوس ہو، سانس اکھڑ رہی ہو یا پھر کینسر کا خطرہ ہو تو آپ سیدھے کسی گئوشالا کا رخ کریں راجستھان ہائی کورٹ کے ریٹائرڈ جج مہیش چند شرما کا کہنا ہے کہ گائے کے پاس ہر مرض کا علاج ہے گائے ایک چلتا پھرتا ہسپتال ہے، دنیا کا واحد ایسا جانور جو سانس لیتے وقت آکسیجن اندر لیتا ہے( جو کوئی بڑی بات نہیں ہم سب ایسا ہی کرتے ہیں) لیکن سانس چھوڑتے وقت بھی آکسیجن ہی باہر بھی نکالتا ہے( جو ایک بڑی بات ہے کیونکہ ایسا اور کوئی جانور نہیں کرتا)۔

اب اگر کسی کو آکسیجن کی ضرورت ہو اور آکسیجن کا سلنڈر دستیاب نہ ہو تو اس کا علاج بھی گائے ہے اگر آپ کے ذہن میں کبھی ’بوٹوکس‘ کے انجکشن لگوانے کا خیال آیا ہو کیونکہ آپ کو اپنے چہرے پر جھریاں پسند نہیں تو پلاسٹک سرجن سے دور ہی رہیے گا۔ اس کا علاج بھی گائے کے پاس موجود ہے-

ہندوؤں کا ماننا ہے کہ گائے کا پیشاب اگر پی سکتے ہیں تو عمر ڈھلنے کی رفتار ٹھہرے گی تو نہیں لیکن سست ضرور پڑ جائے گی، ساتھ ہی کچھ اور فائدے بھی ہیں۔ اس سے جگر، دل اور دماغ بھی صحت مند رہے گا گائے کے پیشاب سے، پچھلے جنم میں جو گناہ کیے ہیں، وہ بھی دھل جائیں گے۔

جج صاحب کے مطابق ایک روسی سائنسدان کا یہ کہنا ہے کہ گھروں کی دیواروں پر اگر گائے کے گوبر کا لیپ کیا جائے تو آپ تابکاری سے محفوظ رہیں گے گائے کا گوبر ہیضے کے جراثیم کو بھی تباہ کرتا ہے گائے کا دودھ پینے سے آپ کینسر سے محفوظ رہیں گے۔ ساتھ ہی آپ کی ہڈیاں بھی مضبوط رہیں گی

انڈیا میں آج کل گائے کا تحفظ ایک اہم سیاسی موضوع بنا ہوا ہے جس سے سماجی اور سیاسی انتشار بڑھ رہا ہے۔ سب ہندو گائے کو مقدس نہیں مانتے اور اس کی معجزاتی صلاحیتوں پر یقین نہیں کرتے لیکن انھیں مسجھانے کی کوششیں جاری ہیں۔

بھارتی ڈاکٹروں نے خبردار کیا تھا کہ گائے کے گوبر سے کووڈ انیس کا مقابلہ نہیں کیا جا سکتا۔ طبی حلقوں کے مطابق ایسے شواہد نہیں کہ گائے کا گوبر یا پیشاب اس عالمی وبا کو روکنے میں مدد گار ثابت ہو سکتے ہیں۔ تاہم قدامت پسند ہندو اسے کورونا سے تحفظ کی ضمانت اور اس کا علاج بھی قرار دے رہے ہیں-

گائے مکمل سانئس ہے
حکومتی ادارے ‘راشٹریہ کام دھینو آیوگ‘ (قومی گائے کمیشن) کے زیر انتظام قومی سطح کا آن لائن امتحان 25 فروری کو منعقد کیا گیا تھا راشٹریہ کام دھینوآیوگ (آر کے اے) کے چیئرمین اور حکمراں بھارتیہ جنتا پارٹی کے رکن پارلیمان ولبھ بھائی کتھیریا کا کہنا ہے کہ اس امتحان کا مقصد عوام میں گائے کی اہمیت کے حوالے سے ‘تجسس پیدا کرنا‘ اور اس مقدس جانور کے تئیں ‘احساس‘ جگانا ہے۔

ولبھ بھائی کتھیریا کا کہنا تھا کہ ‘گائے سائنس‘ کے بارے میں لوگوں کو جاننے کی ضرور ت ہے، ”گائے اپنے آپ میں ایک مکمل سائنس ہے۔ اگر ہم بھارت کی پانچ کھرب ڈالر کی معیشت کی بات کرتے ہیں تو اس میں انیس کروڑ سے زائد گائے اور بچھڑوں کی بھی اہمیت ہے۔ یہ معیشت کی ترقی میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اگر گائے دودھ نہیں دیتی ہے تب بھی اس کا پیشاب اور گوبر قیمتی ہے۔ اگر ہم ان کا استعمال کریں تو اس سے نہ صرف گائے کو بچایا جاسکتا ہے بلکہ ہماری پوری معیشت بھی اپنے راستے پر آسکتی ہے۔”