fbpx

سندھ میں مکمل لاک ڈاؤن:غریب عوام کیا کریں گے:اجازت نہیں دی جاسکتی :وفاقی وزیرفواد چودھری

اسلام آباد: سندھ میں مکمل طور پر لاک ڈاؤن کی اجازت قطعی طور پر نہیں دی جائے گی، مکمل لاک ڈاؤن کے حوالے سے وفاقی حکومت کی پالیسی واضح ہے، اس حوالے سے وفاقی وزیراطلاعات نے واضح پیغام جاری کردیا ہے ، ان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ بھی قرار دے چکی ہے کہ صوبے اس ضمن میں انفرادی فیصلہ نہیں کر سکتے۔

اس حوالے سے وفاقی وزیرفواد چوہدری نے کہاہے کہ سندھ حکومت کے مکمل لاک ڈاؤن کے فیصلے پر اپنے بیان میں ان کا کہنا تھا کہ آرٹیکل 151 کے تحت پاکستان ایک سنگل مارکیٹ ہے، کراچی کی بندرگاہ پاکستان کی معیشت کی شہ رگ ہے اور ایسا اقدام اٹھانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی جس سے پاکستان کی معاشی شہ رگ متاثر ہو۔

فواد چودھری نے کہا کہ مکمل لاک ڈاؤن کا کوئی آپشن کسی صوبے کو دستیاب نہیں، کووڈ کے حوالے سے پالیسی وفاق اور این سی او سی جاری کرتے ہیں اور صوبے اس پر عملدرآمد کے پابند ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے کورونا کا بھرپور طریقے سے مقابلہ کیا ہے، اب تک ہم انسانی جانیں بچانے میں بھی کامیاب ہوئے اور ملکی معیشت بھی اپنے پاں پر کھڑی ہو رہی ہے۔

وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ وزیراعظم عمران خان کا موقف ہے کہ مکمل لاک ڈاؤن سے مزدور، دیہاڑی دار اور یومیہ اجرت پر کام کرنے والے طبقات شدید متاثر ہوتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر سندھ حکومت نے ایس او پیز پر عملدرآمد کیا ہوتا تو آج کراچی میں صورتحال سنگین نہ ہوتی۔ سندھ کو واضح طور پر یہ پیغام دیا گیا ہے کہ انفرادی فیصلے نہیں کئے جا سکتے، این سی او سی کی گائیڈ لائنز پر عمل درآمد کیا جانا ضروری ہے۔