fbpx

نواز شریف کی زیر صدارت اجلاس میں عمران خان کے بیانات کی مذمت

لندن سے بڑا فیصلہ آگیا. مسلم لیک ن کی اعلی سطحی قیادت کا لندن میں انتخابی اصلاحات کے بعد اکتوبر یا نومبر مین عام انتخابات کرانے جبکہ بڑھتی ہوئی مہنگائی کی لہر میں عوام پر کم سے کم بوجھ ڈالنے کا فیصلہ کیاگیا ہے. تفصیلات کے مطابق ویسٹ لندن میں مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف کی زیر صدارت پارٹی کی سینئر لیڈر شپ کا اہم اجلاس منعقد ہوا.

ذرائع کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف اجلاس سے قبل مسلم لیگ ن کے قائد اور بڑے بھائی نوازشریف سے بگل گیر ہوئے. نواز شریف نے وزیراعظم شہباز شریف کو مبادکباد دی. کچھ دیر نواز شریف اور شہباز شریف کے درمیان ملاقات ہوئی جس میں اسخاق ڈار بھی شریک ہوئے. نواز شریف نے شہباز شریف کو پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کے ساتھ ہونے والی گفتگو پر اعتماد میں لیا.

وزیراعظم شہباز شریف نے مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف کو ملک کی تازہ ترین صورتحال اور پنجاب میں حکومت سازی اور کابینہ کی تشکیل کے حوالے سے بریفنگ دی… زرائع کے مطابق دونون بھائیوں کی ملاقات میں انتخابی اصلاحات کے بعد اکتوبر یا نومبر میں اعام انتخابات کرانے پر اتفاق گیا گیا. زرائع کے مطابق اکتوبر یا نومبر میں انتخابات کرانے کی تجویز سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی جانب سے دی گئی. بڑون کی اہم بیٹھک کے بعد نواز شریف کی زیر صدارت پارٹی کا اجلاس طلب کیا گیا.پارٹی رہنماوں نے فردا فردا نواز شریف سے مصافحہ کیا اور ان کی خیریت دریافت کی. نواز شریف نےثابت قدم رہنے پر پارٹی رہنماوں کی تعریف کی.

اجلاس کے دوران پاکستان میں عام انتخابات، عمران خان کی جانب سے پھیلاتی جانے والی اشتعال انگیزی، ریاستی اداروں، انتخابی اصلاحات سمیت بڑھتی ہوئی مہنگائی میں عوام جو ریلیف دینے کے معاملات زیر بحث آئے.
نواز شریف کی زیرقیادت اجلاس میں سابق وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار، وزیراعظم شہبازشریف، مریم اورنگزیب، احسن اقبال، خواجہ آصف، خواجہ سعدرفیق، خرم دستگیر اور عطاء تارڑ نے شرکت کی. اجلاس میں تمام معاملات پر ارکان کی رائے لی گئی.

ذرائع کےمطابق اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ پہلے انتخابی اصلاحات کی جائیں گی اور بعد میں انتخابات کا اعلان کیا جائے گا. اجلاس میں سابق وزیراعظم عمران خان کی جانب سے اشتعال انگیز بیانات کی مزمت کی گئی. تاہم زرائع کے مطابق عمران خان کو حراست میں لینے کی تجویز کو رد کر دیا. اس پر قائد ن لیگ کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ ن کسی کو سیاسی انتقام کا نشانہ نہیں بناءے گی.اجلاس میں بڑھتی ہوئی مہنگائی کی لہر میں عوام پر کم سے کم بوجھ ڈالنے پر اتفاق گیا گیا. اجلاس کے دوران سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے پاکستان کی معیشت کے حوالے سے اہم تجاویز دیں. اجلاس کے دوران آرمی چیف کی مدت ملازمت کے ختم ہونے اور نئے آرمی چیف کے تقرر سمیت اہم معاملات بھی مشاورت کی گئی.